1 وہ الہام جو حَبقُوقؔ نبی نے رُؤیامیں پایا۔ 2 خدا اور نبی کا مکالمہ اَے خُداوند مَیں کب تک ماتم کرُوں گا اَور تُو نہ سُنے گا؟ تیرے حضُور کب تک چِلاؤں گا کہ ظُلم! اَور تُو نہ بچائے گا؟ 3 تُو مُجھے کیوں بَد کرداری اَور مُصِیبت دِکھاتا ہَے کہ میں ظُلُم و ستم پر نظر نہیں کرتا ۔فِتنہ و فساد میرے سامنے بَرپا ہوتا رہتا ہَے۔ 4 شریعت کمزور ہو گئی ہَے اَور عدل ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ شریر صادِق کو گھیر لیتا ہَے۔انصاف کا خُون ہو رہا ہے۔ 5 قوموں پر نظر کرو اَور دیکھو۔ تعُجّب کر کے حیران ہو جاؤ۔ کیونکہ مَیں تُمہارے ایّام میں ایک ایسا کام کِیا چاہتا ہُوں کہ اگر اُس کا بیان کِیا جائے تو تُم ہرگز یقین نہ کرو گے۔ 6 کیونکہ دیکھ مَیں کسدیوں کو اُبھارُوں گا۔ہاں اُس بد دماغ اَور تُند مزاج قوم کو جو زمین کی وُسعت سے ہو کر گُزرتی ہَے تاکہ دُوسروں کے مسکنوں پر قبضہ کر لے۔ 7 وہ ہَولناک اَور ہَیبتناک ہَے۔ ان کی عدالت اَور شان کی بنیاد وہ خُود ہی ہیں۔ 8 اُس کے گھوڑے چِیتوں سے زِیادہ تیز رفتار اَور اُس کے سوار شام کو نِکلنے والے بھیڑیوں سے زیادہ تیز رَو ہَیں۔وہ دُور سے چلے آتے ہَیں اَور اُس عُقاب کی مانند اُڑتے آتے ہَیں جو شِکار پر جھپٹتا ہَے۔ 9 اَور سب لُوٹنے کو آتے ہَیں۔وہ صحرائی ہَوا کی طرح بڑھے چلے آتے ہَیں اَور اِسیروں کو ریت کی مانند جمع کرتے ہَیں۔ 10 ہاں وہ قوم بادشاہوں کو ٹھٹّھوں میں اُڑاتی اَور اُمراء کو مَسخرہ بناتی ہَے۔وہ ہر قِلعے پر ہنستی ہَے۔وہ محاصرہ کر کے اُسے لے لیتی ہے۔ 11 تب وہ گَردباد کی طرح چل کر گُزرتی ہَے۔وہ گُناہ کرتی ہےاَور اپنی قُوّت ہی کو اپنا خُدا بناتی ہَے۔ 12 کیا تُو قدیم سے خُداوند میرا خُدا میرا قُدّوس نہیں جو مَر نہیں سکتا؟ اَے خُداوند کیا تُو نے اُنہیں عدالت کے لئے ٹھہرایا ہَے؟ تُو نے اِنہیں سزا کے لئے چٹان مُقرّر کِیا ہَے۔ 13 تیری آنکھیں ایسی پاک ہَیں کہ تُو بَدی کو دیکھ نہیں سکتا۔ تُو ظُلم پر نِگاہ نہیں کر سکتا۔ تو تُو بے وفاؤں پر کیوں نظر کرتا ہَے؟ اَور جب شریر صادِق کو نِگل جاتا ہَے تو تُو کیوں خاموش رہتا ہے؟ 14 وہ آدمیوں کو سمُندر کی مچھلیوں کی طرح اَور اُن کیڑے مکوڑوں کی طرح کرتا ہے جن کا کوئی مالک نہیں۔ 15 وہ اُن سب کو کانٹے سے پکڑ لیتا ہَے اَور اپنے جال میں پھنساتا ہَے اَور بڑے جال میں اُنہیں جمع کرتا ہَے اَور اِس سبب سے خُوش اَور شادمان ہوتاہَے۔ 16 اَور اِسی باعِث وہ اپنے جال کے آگے قُربانی چڑھاتا اَور بڑے جال کے آگے بخُور جَلاتا ہَے کیونکہ اِنہی کے وسیلے سے وہ شان وشوکت سے رہتا ہے اَور اُس کی غذا مُرغن ہَے۔ 17 تو کیا وہ اِس وجہ سے اپنے جال کو خالی کرے گا اَور رحم کِئے بغیر قوموں کو متواتر قتل کرتا رہے گا؟