باب

1 مزمور حبقوق شگایونوت کے سُر پر حَبقُوؔق نبی کی کی دُعا۔ 2 اَے خُداوند مَیں نے تیری شُہرت سُنی اَور ڈر گیا۔ اَے خُداوند اِسی زمانہ میں اپنے کام کو بَحال کر۔ اِسی زمانہ کے دوران میں اُسے ظاہر کر۔ غضب کے وقت رحم کو یاد کر۔ 3 خُدا تیماؔن سے آتا ہے اَور القُدّوس کوہِ فاراؔن سے ۔ (سِلاہ) اُس کا جلال آسمان پر چھا گیا اُس کی ستائش سے زمین معمُورہو گئی۔ 4 اُس کے ہاتھوں سے نکلنے والی کِرنیں نُور کی مانند روشن تھیں۔ اُن میں اُس کی قُدرت پوشیدہ تھی۔ 5 آفت اُس کے آگے آگے چلتی تھی وبا اُس کے نقشِ قدم پر چلتی تھی 6 وہ کھڑا ہوااور زمین تھرا گئی۔ اُس نے دیکھا اَور قومیں ہَل گئیں۔ ابدی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے۔ قدیم پہاڑیاں جُھک گئیں۔ اِس کی راہیں اَزلی ہَیں۔ 7 مَیں نے کُوشن کے خَیموں کو مُصِیبت میں دیکھا۔ مُلک مدیان کے خیمے لرز گئے۔ 8 اَے خُداوند کیا تو دریاؤں سے ناراض تھا؟ کیا تیرا غضب دریاؤں پر تھا؟ کیا تیرا قہر سمُندر پرتھا؟ جب تُو اپنے گھوڑوں کو جوت کر اپنی فتح یاب رتھ پر سَوار ہُوا؟ 9 تیری کمان غلاف سے نکالی گئی۔ تُو نے تِیر کمان پر چڑھائے۔]سِلاہ[ تُو زمین کو دریاؤں سے تقسیم کرتا ہے۔ 10 پہاڑ تُجھے دیکھ کر کانپ اُٹھے۔ سیلاب گُزر گئے۔ گہرے سمُندر نے اپنی آواز بلند کی اَور اُس نے اپنی لہریں بلند کیں۔ 11 تیرے اُڑنے والے تِیروں کی روشنی سے سُورج اَور چاند اپنی اپنی جگہ پر ٹھہر گئے اَور تیرے چمکیلے بھالے کی چمک سے بھاگ اُٹھے۔ 12 تُو نے اپنے قہر سے زمین کو پامال کِیا۔ تُو نے اپنے غضب سے اَقوام کو کُچل دِیا۔ 13 تُو اپنی اُمّت کی نجات کے لئے ہاں اپنے ممسُوح کی نجات کے لئے باہر نِکلا تُو نے شریر کے گھر کا سر چُور چُور کر دیا تُو نے اُس کی بُنیاد کو گردن تک ننگا کر دِیا ۔]سِلاہ[ 14 تُو نے اُسی کے تیروں سے اُس کے بَہادروں کے سروں کو چِیر دِیا۔ وہ طُوفان کی طرح مجھ پر آ پڑے تاکہ ہمیں تِتَر بِتر کر دیں جو مِسکینوں کو تنہائی میں نِگل جانے پر خُوش ہوتے ہیں۔ 15 تُو نے اپنے گھوڑوں پر سوا ر ہو کر سمندر سے ہاں بڑے سیلاب سے پار ہو گیا۔ 16 مَیں نے سُنا اَور میرا دِل دہل گیا۔ اُس شور سے میرے ہونٹ تھرتھرا گئے۔ میری ہَڈیاں بوسیدہ ہو گئیں۔ میرے نیچے میرے قدم بھی کانپنے لگے۔ مَیں صبر سے اُن کے یومِ حساب کا مُنتظر ہُوں جو ہم پر حملہ کرتے ہیں۔ 17 خواہ اِنجیر کا درخت نہ پُھولے اَور تاک میں کوئی پَھل نہ لگے اَور زیتُون کا حاصل ضائع ہو جائے اَور کھیتوں میں کُچھ پیدا وار نہ ہو اَور بھیڑ بکریاں بھیڑ خانے سے جاتی رہیں اَور طویلوں میں گائے بَیل نہ ہوں تو بھی مَیں خُداوند میں خُوش ہُوں گا۔ 18 اَور اپنے نجات دہندہ خُدا میں شادمانی کرُوں گا۔ خُداوند خُدا میری قُوّت ہَے۔ 19 وہ میرے قدم ہِرنی کے سے بنا دیتا ہَے۔ وہ مُجھے میری اُونچی جگہوں پر چلاتا ہے۔ (میر مُغنّی کے لئے۔ تار دار سازوں کے ساتھ)