باب

1 2 ۔اَور وہ خُدا کی شریعت کی کِتاب کو تمام دِنوں میں پہلے دِن سے لے کر آخِری دِن تک پڑھتا رہا۔ اَور اُنہوں نے سات دِن تک عید کی۔ اَور آٹھویں دِن دستُور کے مُوافِق محِفل ہُوئی۔ 3 ۔اَور وہ اپنی جگہوں میں کھڑے ہوئے۔ اَور خُداوند اپنے خُدا کی شریعت کی کِتاب کو ایک پَہر تک پڑھا اَور پھَر دُوسرے پَہر میں خُداوند اپنے خُدا کی حمد کی اَور اُسے سجدَہ کِیا۔ 4 ۔تب لاویوں کے منبر پر یِشُؔوعؔ اَور باؔنی اَور قدمیؔ ایل اَور سبنیاہ اَور بُنیّؔ اَور سرؔبیاہ اَور باؔنی اَور کِنعانی کھڑے ہُوئے۔ اَور خُداوند اپنے خُدا کے پاس بُلند آواز سے چِلّائے۔ 5 ۔تب یِشُوعؔ اَور قدمی ایؔل اَور باؔنی اَور حسبنیاؔہ اَور سربیاہ اَور ہودؔ یاہ اَور سبنیاہ اَور فتحیاہ لاویوں نے کہا ۔ کھڑے ہو جاؤ اَور خُداوند اپنے خُدا کو اَزل سے اَبد تک مُبارَک کہو۔ کہ تیرا جلالی بُزرگ نام تمام برکت اَور حمد کے ساتھ مُباِرَک ہو۔ 6 ۔اَب عزؔرا کہنے لگا۔ تُو ہی اکیلا خُداوند ہَے ۔ تُو نے اَفلاک کو اَور فلک اُلاَفلاک اَور اُ س کے تمام لشکر کو اَور زمین کو اَور سب کُچھ جو اُس پر ہَے۔ اَور سُمندروں کو اَور سب کُچھ کو جو اُن میں ہے بنایا۔ اَور تُو اُن تمام کو زِندرہ رکھنے والا ہَے۔ اَور آسمانی لشکر تُجھے سجدَہ کرتا ہے۔ 7 ۔تُو ہی خُداوند خُدا ہَے جس نے ابرام کو چُن لِیا۔ اَورکسدیوں کے اَور سے اُسے نِکالا۔ اَور تُو نے اُس کا نام اِبرہاؔم رکھّا۔ 8 ۔تُو نے اُس کے دِل کو اپنے سامنے وفادار پایا۔ اَور تُو نے اُس کے ساتھ کِنعانیوں اَور حِتّیوں اَور اَموریوؔں اَور فِرزّیوں اَور یبوسیوؔں اَور جرجاسیوؔں کا مُلک دینے کا۔ یعنی اُس کی نسل کو دینے کا عہد کِیا۔اَور تُو نے اپنا وعدہ پُورا کِیا۔ کیونکہ تُو صادِق ہَے۔ 9 ۔اَور تُو نے مِصؔر میں ہمارے آباؤ اَجداد کی ذِلّت پر نگِاہ کی۔ اَور بُحرِقُلّزم کے نزدِیک تُو نے اُن کا چلّانا سُنا۔ 10 ۔اَور تُو نے فرِعُؔون اَور اُس کے خادِموں اَور ملک کے سارے لوگوں کو نِشانات اَور مُعجزات دِکھائے۔ کیونکہ تُو نے جانا۔ کہ اُنہوں نے اُن کے ساتھ مغروری سے سلُوک کِیا۔ اَور تُو نے اپنے لئے نام حاصِل کِیا۔ جیسا کہ آج کے دِن ہے۔ 11 ۔اَور تُو نے اُن کے آگے سمُندر کو دو حصّوں میں تقسیم کِیا۔ تو وہ سمُندر کے درمیان خُشکی پر گُزرے اَور تُو نے اُن کا تَعاقُب کرنے والوں کو اُن کی پیروی کروا کر گہرائیوں میں پھینکا۔ پتّھر کی مانند جو بڑے پانیوں میں پڑے۔ 12 ۔اَور تُو نے دِن کو بادِل کے ستُون سے اُن کی رہنُمائی کی۔ اَور رات کو آگ کے ستُون سے تاکہ اُن کے لئے اُس راہ میں جس میں اُنہیں چلنا تھا روشنی ہو۔ 13 ۔اَور تُو کوہِ سیؔنا پر اُتر آیا۔ اَور آسمان سے اُن کے ساتھ باتیں کِیں۔ اَور تُو نے اُنہیں سچّی قَضائیں اَور راست شریعتیں اَور قَوانین اَور اچھّے احکام عطا کئے۔ 14 ۔اَور تُو نے اپنے مُقدّس سبت سے اُنہیں آگاہ کِیا۔ اَور اپنے بندے مُوسؔیٰ کی زُبان سے تُو نے اُنہیں اَحکام اَور قَوانین اَور شریعت کا فرمان دِیا۔ 15 ۔اَور اُن کی بھوک کے وقت تو نے آسمان سے انہیں روٹی کھلائی۔ اور اُن کی پِیاس کے وقت تُو نے اُن کے لئے چٹان سے پانی نِکالا اَور تُو نے اُنہیں حُکم دِیا کہ وہ اُس مُلک پر قبضہ کرنے کے لئے جائیں۔ جس کی بابت تو نے قسم کھا کر حلف لیا۔ کہ مَیں تمہیں عطا کرُوں گا۔ 16 ۔مگر وہ اَور ہمارے آباؤ اَجداد ضدی ہو گئے۔ اَور گستاخی دکھائی۔ اَور تیرے اَحکام کی فرمانبرداری نہ کی۔ 17 ۔اَور سُننے سے اِنکار کِیا۔ اَور اُن عجائب کاموں کو یاد نہ رکھّا جو تُو نے اُن کے لئے کئے تھے۔ اَور وہ ضدی ہوئے اور اپنی بغاوت میں اپنے لئے سردار مقرر کرکے غلامی کی طر ف لوٹ جائیں۔ لیکن تُو خُدائے غفُور مہربان رِحیم غضب کرنے میں دھیما اَور بڑی رحمت والا ہَے۔ پس تُو نے اُنہیں ترک نہ کِیا۔ 18 ۔پِھر جب اُنہوں نے اپنے لئے ڈھالا ہُؤا بچھڑا بنایا اَور کہا۔ یہی تُمہارا خُدا ہے جو تُمہیں مِصؔر سے نِکال لایا۔ اَور انھوں نے بے ادبی سے کلمہ کفر کہے۔ 19 ۔تاہم تُو نے اپنی بُہت رحمتوں کے باعِث بیابان میں اُنہیں ترک نہ کِیا۔ اَور بادل کا ستُون دِن کے وقت اُن کی راہ میں ہدایت کرنے سےجُدا نہ ہُؤا۔ اَور نہ رات کو آگ کا ستُون اُن کی راہ میں روشنی کرنے سے جس میں اُنہیں چلنا تھا۔ 20 ۔اَور تُو نے اُنہیں اپنی نیک رُوح تعلیم دینے کو بخشی اَور تُو نے اُن کے مُنہ سے اپنے مَنّ کو روک نہ رکھّا۔ اَور اُن کی پیِاس میں اُنہیں پانی دِیا۔ 21 ۔چالیس برس تک تو نے انہیں بیابان میں خوراک دی۔ وہ کِسی چیز کے مُحتاج نہ ہُوئے۔ اُن کے کپڑے پُرانے نہ ہُوئے۔ اَور نہ اُن کے پاؤں سوجے۔ 22 ۔اَور تُو نے اُنہیں مَمُلکَتیں اَور قومیں بخشیں اَور تُو نے اُنہیں حِصّے تقسیم کئِےتو وہ حِسبوؔن کے بادشاہ سِیحؔون کے اَور بسن کے بادشاہ عوؔج کے مُلک کے مالِک ہُوئے۔ 23 ۔اَور تُو نے اُن کی اولاد کو آسمان کے سِتاروں کی طرح بُہت کِیا اَور تُو اُنہیں اِس مُلک میں لایا جس کی بابت تُو نے اُن کے آباؤاَجداد سے وعدہ کِیا تھا۔ کہ وہ اُس میں داخِل ہوں گے اَور اُس کے مالِک ہوں گے۔ 24 ۔چُنانچہ اُن کے بیٹے گئے ۔ اَور اُس مُلک کے مالِک ہُوئے۔ اَور تُو نے اُن کے آگے اُس مُلک کے باشِندوں یعنی کِنعانیوں کو مغلُوب کِیا۔ اَور اُنہیں مع اُن کے بادشاہوں اَور مُلک کے لوگوں کے اُن کے ہاتھوں میں دے دِیا۔ کہ جیسا چاہیں ویسا اُن سے کریں۔ 25 ۔ پس اُنہوں نے فصِیل دار شہر اَور زرخیز زمین لے لی۔ اَور وہ سب اچھّی چیزوں سے بھرے ہُوئے گھروں کے اَور کھودے ہُوئے کُنوؤں کے اَور تاکستانوں اَور زیتون کے باغ اَور بُہت پَھل دار درختوں کے مالِک ہُوئے اَور اُنہوں نے کھایا اَور سیر ہُوئے اَور موٹے ہُوئے۔ اَور تیری بڑی بخشش کا مزہ اُٹھایا۔ 26 ۔پھر اُنہوں نے تُجھے غُصّہ دِلایا۔ اَور تیرے خلاف سرکشی کی۔ اَور تیری شریعت کو پیٹھ کے پیچھے پھینکااَور تیرے اُن نبیوں کو قتل کِیا۔ جِنہوں نے اُن کے خلاف شہادت دی تھی۔ تاکہ اُنہیں تیری طرف پھر الائیں اَور اُنہوں نے بڑے بڑے کُفر بَکے۔ 27 ۔تب تُو نے اُنہیں اُن کے مُخالفِوں کے ہاتھ میں کردِیا۔ تو اُنہوں نے اُنہیں دُکھ دِیا۔ پھر وہ اپنی مُصیبت کے وقت تیرے پاس چِلّائے۔ تو تُو نے آسمان سے اُن کی سُنی۔ اَور بمُطابِق اپنی بڑی رحمتوں کے تُو نے اُنہیں رہائی دینے والے دیئے۔ جِنہوں نے اُنہیں اُن کے مُخالفوں کے ہاتھ سےچُھڑایا۔ 28 ۔اَور جب اُنہیں آرام مِلا۔ اُنہوں نے پھر تیرے سامنے بَدی کی۔ پس تُو نے اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے ہاتھ میں چھوڑ دِیا۔ اَور وہ اُن پر غالِب آئے۔ تب وہ پِھرے اَور تیرے پاس چلّائے۔ اَور تُو نے آسمان سے اُن کی سُنی۔ اَور تُو نے اُنہیں اپنی بُہت رحمتوں کے مُطابِق بُہت دفعہ چُھڑایا۔ 29 ۔اَور تُو نے اُن کے خلاف شہادت دِی۔ تاکہ تُو اُنہیں اپنی شریعت کی طرف پِھرائے۔ لیکن وہ مغرُور ہو گئے۔ اَور تیرے اَحکام کو نہ سُنا۔ اَور تیری قَضاؤں کے خلاف گُناہ کِیا۔ جِن پر اگر کوئی عمل کرے تو اُن میں جیئے گا۔ اَور اُنہوں نے کندھا ہٹایا۔ اَور اپنی گردنوں کو سخت کِیا۔ اَور سُننا نہ چاہا۔ 30 ۔تب بُہت برسوں تک تُو نے اُن کے ساتھ صبر کِیا۔ اَور اپنی رُوح سے اپنے نبیوں کی معرفت اُن کے خلاف شہادت دی۔ لیکن وہ شَنوا نہ ہُوئے تب تُو نے اُنہیں مُمالک کی قوموں کے ہاتھوں میں حوالے کِیا۔ 31 ۔لیکن تُو نے اپنی رحمتوں کی کثرت سے اُنہیں جڑ سے نہ اُکھاڑا۔ اَور نہ اُنہیں ترک کِیا۔ کیونکہ تُو خُدائے مہربان و رحیم ہے۔ 32 ۔ پس اَب اَے ہمارے خُدا! خُدائے عظیم قادِر مُہیب عہد اَور رحمت کو یاد رکھنے والے! ہمارے اِس تمام دُکھ کو اپنے حضُور میں چھوٹا نہ جان۔ جو ہم نے اَور ہمارے بادشاہوں اَور ہمارے سرداروں اَور ہمارے کاہِنوں اَور ہمارے بنیوں اَور ہمارے آباؤ اَجداد اَور تیرے سب لوگوں نے اَسُورؔ کے بادشاہوں کے دِنوں سے لے کر آج کے دِن تک پایا ہے۔ 33 ۔اَور اُس سب میں جو کُچھ ہم پر واقع ہُؤا تُو عادِل ہَے کیونکہ تُو نے راستی سے کِیا۔ مگر ہم نے بَدی کی۔ 34 ۔اَور ہمارے بادشاہوں اَور ہمارے سرداروں اَور ہمارے کاہِنوں اَور ہمارے آباؤاجداد نے تیری شریعت پر عمل نہ کِیا۔ اَور تیرے اَحکام کو اَور تیری شہادتوں کو جو تُو نے اُن کے خلافِ دِیں نہ سُنا۔ 35 ۔اَور اُنہوں نے اپنی مَمُلکَت میں اَور اُس بڑی نیکی میں جو تُو نے اُن سے کی اَور اُس وسیع زرخیز زمین میں جو تُو نے اُن کے آگے دھردی تیری خدمت نہ کی۔ اَور اپنے بَد منصُوبوں سے باز نہ آئے۔ 36 ۔دیکھ ہم آج کے دن غلام ہیں۔اَور زمین جو تُو نے ہمارے آباؤ اَجداد کو عطا کی۔ تاکہ اُس کا پھَل اَور اُس کی اچھّی چیزیں کھائیں۔ اُسی میں ہم غُلام ہَیں ۔ 37 ۔اَور اُس کی پیداوار کی بڑھتی اُن بادشاہوں کے لئے ہَے جِنہیں تُو نے ہمارے گُناہوں کے باعِث ہم پر حاکِم کِیا۔ اَور وہ ہمارے بدنوں پر اَور ہمارے چوپایوں پر جیسا چاہتے ہَیں اِختیار رکھتے ہیں۔ اَور ہم بڑی مُصیِبت میں ہیں۔ 38 ۔اِ ن ساری باتوں کے سبب ہم عہد باندھتے اَور لکھتے ہیں اَور ہمارے سردار اَور لاوی اَور کاہِن اُس پر مُہر لگاتے ہَیں۔