باب

1 ۔ غریب پروری اَور لوگوں اَور اُن کی بیویوں کی طرف سے اُن کے یہُودی بھائیوں پر بڑی شِکایت ہُوئی۔ 2 ۔بعض کہتے تھے کہ ہم اَور ہمارے بیٹے اَور ہماری بیٹیاں بُہت ہیں۔ ہم اُن کے عوض میں اناج لیں گے تاکہ ہم کھائیں اَور زِندہ رہیں۔ 3 ۔بعض کہتے تھے۔ کہ ہم نے اپنے کھیتوں اَور تاکسِتانوں اَور گھروں کو رہن رکھّا تاکہ ہم کال میں اناج مُول لیں۔ 4 ۔بعض نے کہا۔ کہ ہم نے اپنے کھیتوں اَور تاکسِتانوں کو گِروی رکھّ کر بادشاہ کی خراج کے لئے نقدی قرض لی ہَے۔ 5 ۔اَور اَب ہمارا گوشت ہمارے بھائیوں کے گوشت کی مانند ہَے۔ اَور ہمارے بیٹے اُن کی بیٹوں کی طرح نہیں۔ اَور دیکھو۔ ہم اپنے بیٹوں اَور بیٹیوں کو غُلامی کے لئے دیتے ہَے۔ اَور ہماری بعض بیٹیاں لونڈیاں ہَیں۔ اَور ہمارے ہاتھوں میں اُنہیں چُھرانے کی طاقت نہیں اَور ہمارے کھیت اَور ہمارے انگوُرستان اَوروں کے ہو گئےہیں۔ 6 ۔جب مَیں نے اُن کی شِکایت اَور یہ باتیں سُنیں۔ تو مَیں نہایت آزُردہ ہُؤا۔ 7 ۔اَور مَیں نے اپنے دِل میں سوچا اَور مَیں نے اَمیروں اَور سرداروں کو سرزَنش کی اَور اُن سے کہا۔ کہ تُم میں سے ہر ایک اپنے بھائیوں سے سوُد لیتاہے ۔ اَ ور مَیں نے اُن کے خلاف ایک بڑی جماعت کو کھڑا کیا۔ 8 ۔اَور مَیں نے اُن سے کہا۔ کہ جہاں تک ہماری وُسعت ہُوئی ہم نے اپنے یہُودی بھائیوں کو جو قوموں کے پاس بِک گئے تھے چُھڑا لِیا ہَے۔ تو کیا تم اپنے بھائیوں کو بیچو گے؟ کیا وہ ہمارے پاس بیچے جائیں گے؟ تب وہ چُپ رہے اَور کُچھ جَواب نہ دے سکے۔ 9 ۔اَور مَیں نے کہا۔ یہ جو تُم کرتے ہو اَچھّا نہیں۔ پس تُم اُن قوموں کی ملامت سے ڈر کر جو ہمارے دُشمن ہَیں ہمارے خُدا کے خوف میں کیوں نہیں چلتے؟ 10 ۔اَور مَیں نے بھی اَور میرے بھائیوں اَور میرے خادموں نے اُنہیں نقدی اَور گیہُوں قرض دیا ہَے۔ پس ہم یہ سُود چھوڑ دیں ۔ 11 ۔پس آج کے دِن ہی تُم اُن سے کھیت اَور اُن کے انگورستان اَور اُن کے زیتُون اَور اُن کے گھر واپس کردو۔ اَور نقدی اَور گیُہوں اَور مَے اَور وہ سُود بھی جو تُم اُن سے لیتے ہو۔ 12 ۔تو اُنہوں نے کہا۔ ہم واپس کریں گے اَور اُن سے نہ مانگیں گے۔ اَور جیسا تُو نے کہا ہَے ہم ویسا ہی کریں گے۔ تب مَیں نے کاہِنوں کو بُلایا اَور لوگوں کو قَسم دِلائی۔ کہ وہ اُس عہد کے مُطابِق عمل کریں گے۔ 13 ۔پِھر مَیں نے اپنا دامن جھاڑا اَور کہا۔ کہ اِسی طرح سے خُدا ہر ایک آدمی کو جو اِس بات پر قائم نہ رہے اُس کے گھر سے اَور اُس کے کام سے جھٹک ڈالے۔ وہ ایسا ہی جھٹکا جائے اَور خالی ہو جائے۔ تب ساری جماعت نے کہا آمین اَور خُدا کی سِتائش کی۔ اَور لوگوں نے اِس بات کے مُطابِق عمل کیا۔ 14 ۔ نحمیاہ کی نیکی پِھر جس روز سے کہ مَیں یہوداہ کے مُلک میں حاکِم مُقرّر کِیا گیا۔ ارتخششا بادشاہ کے بیسویں برس سے لے کر بتّیسویں برس تک اِن بارہ برسوں میں مَیں نے اَور میرے بھائیوں نے حاکِم ہونے کی روٹی نہیں کھائی۔ 15 ۔لیکن وہ حاکِم جو مُجھ سے پہلے تھے۔ لوگوں پر بوجھ تھے اَور اُن سے روٹی اَور مَے کے علاوہ چالیس مثِقال چاندی لیتے تھے۔ بلکہ اُن کے نوکر بھی لوگوں پر ظُلم کرتے تھے۔ لیکن مَیں نے خُدا کے خوف سے ایسا نہیں کِیا۔ 16 ۔اَور مَیں اِس دِیوار کے کام پر لگا رہا۔ حالانکہ مَیں نے کوئی کھیت نہیں خِریدا۔ اَور میرے سارے نوکر وہاں کام کرنے کے لئے جمع ہوتے تھے۔ 17 ۔اَور میرے دسترخوان پر ماسِوا اُن کے جو اِردگرد کی قوموں سے میرے پاس آتے یہُودیوں اَور سرداروں میں سے ڈیڑھ سَو آدمی ہوتے تھے۔ 18 ۔اَور میرے لئے ہر روز پرندوں کے علاوہ ایک بَیل اَور چھ موٹی بھیڑیں تیاّرکی جاتی تھیں اَور ہر دسویں دِن سب قِسم کی مَے کی ایک کثیر مِقدار۔ باوجُوداِس کے مَیں نے حاکِم ہونے کی روٹی طلب نہیں کی۔ کیونکہ اِن لوگوں پر غُلامی گراں تھی۔ 19 ۔پس اَے خُدا!مُجھے نیکی سے یاد کر۔ اُس سب کُچھ کے لئے جو مَیں نے اِ ن لوگوں کے واسطے کِیا ہے۔