1 ۔ ہاماؔن کی موت سو بادشاہ اَور ہاماؔن آستر مَلکہ کے ساتھ کھانے پینے کو آئے۔ 2 ۔اَور بادشاہ نے اس دوسرے دِن بھی مَے نوشی کے وقت آستر سے کہا۔ کہ اَے آستر مَلکہ۔ تیر ی کیا درخواست ہے؟وہ تُجھے عطا کی جائے گی۔ اَور تیری کیا خواہش ہے؟اگر چہ نصف سَلطنَت تک بھی ہو۔ تب بھی تُجھے دی جائے گی۔ 3 ۔پِھر آستر مَلکہ نے جَواب میں کہا۔ اَے بادشاہ۔ اگر مَیں نے تیر ی نظر میں مقبُولیّت پائی ہے۔ اَور اگر بادشاہ کے نزدِیک مُناسِب ہو۔ تو میری خواہش پر میر ی جان اَور میری درخواست پر میری قوم مُجھے مِلے۔ 4 ۔کیونکہ مَیں اَور میری قوم ہلاک اَور قتل اَور نابُود کئے جانے کے لئے بیچے گئے ہیں۔ اَور اگر ہم غُلام اور لونڈیاں ہونے کو بیچے جاتے۔ تو مَیں خاموش رہتی۔ اگرچہ اُس دُشمن کو بادشاہ کے نُقصان کامُعاوضہ دینے کا مقدُور نہ ہوتا۔ 5 ۔اخسویرس بادشاہ نے آستر مَلکہ سے پُوچھا کہ وہ کون ہے اَور وہ کہاں ہے جو ایسی بات کرنے کی جُرات کرتا ہے؟ 6 ۔آستر نے کہا۔ وہ مُخالِف اَور دشمن یہی شریر ہاماؔن ہے۔ تب ہاماؔن بادشاہ اَور مَلکہ کے سامنے کانپ اُٹھا۔ 7 ۔اَور بادشاہ غضبناک ہو کر مَے نوشی سے اُٹھا اور محلّ کے باغ میں چلا گیا۔ پر ہاماؔن آستر مَلکہ کے پاس اپنی جان کے لئے مِنّت کرنے کے واسطے اُٹھ کھڑا ہُؤا۔ کیونکہ اُس نے جان لِیا کہ بادشاہ میرے خلاف بَدی کرنے کو تیاّر ہے۔ 8 ۔پِھر بادشاہ محلّ کے باغ سے لَوٹ کر مَے نوشی کی جگہ واپس آیا۔ تو دیکھا کہ ہاماؔن اُس پلنگ پر گِرا پڑا ہے جس پر آستر پڑی تھی۔ تب بادشاہ نے کہ۔ کہ وہ میرے سامنے ہی میرے گھر میں مَلکہ پر بھی جبر کرے گا! اَور اِس بات کا بادشاہ کے مُنہ سے نکلنا تھا کہ اُنہوں نے ہاماؔن ہا مُنہ ڈھانپ دیا۔ 9 ۔اَور اُن خواجہ سَراؤں میں سے جو خدمت کے لئے حاضِر تھے ایک نے یعنی خربوناہ نے کہا۔ دیکھو۔ کہ پچاس ہاتھ اُونچی پھانسی ہاماؔن کے گھر کے پاس کھڑی ہے۔ جو ہاماؔن نے اِس مردکی کے لئے بنوائی ہے جس نے بادشاہ کے حَق میں نیکی کی بات کہی تھی۔بادشاہ نے کہا۔ اُسی پر اُسے لٹکادو۔ 10 ۔تب اُنہوں نے ہاماؔن کو اُس پھانسی پر لٹکایا جو اُس نے مردکی کے لئے تیاّرکرائی تھی۔ تب بادشاہ کا غضب ٹھنڈا ہُؤا۔