1 ۔ مردکی کا صلہ اَوراُس رات نیند بادشاہ سے دُور رہی تو اُس نے حُکم دیا۔ کہ گُزشتہ ایّام کی توارِیخ کی کِتاب لائی جائے اَور جب بادشاہ کے حضُور پڑھی گئی۔ 2 ۔تو اُس میں یہ لِکھا ہُؤا پایاگیا۔ کہ مردکی نے دہلیزوں کے نِگہبانوں میں سے بادشاہ کے خواجہ سَراؤں بگتانا اَورترش کی بابت خبر دی تھی۔ کہ اُنہوں نے اِرادہ کیا تھا کہ اخسویرس بادشاہ پر ہاتھ ڈالیں۔ 3 ۔ تو بادشاہ نے کہا۔ کہ اُس خدمت کے لئے مردکی کو کیا منصب یا رُتبہ دِیا گیا؟بادشاہ کے اُن مُلازِموں نے جو اُس کی خدمت کرتے تھے کہا کہ اُسے کُچھ نہیں دِیا گیا۔ 4 ۔پِھر بادشاہ نے کہا۔ کہ صحن میں کون ہے؟ اَور ایسا ہُؤا ۔ کہ ہاماؔن شاہی محلّ کے صحن میں باہر آیا تھا تاکہ مردکی کو اُس پھانسی پر لٹکانے لئے جو اُس نے اُس کے لئے تیار کی تھی بادشاہ سے بات کرے۔ 5 ۔اَور بادشاہ کے مُلازِموں نے اُس سے کہا۔ کہ دیکھو۔ ہاماؔن صحن میں ہے۔ اَور بادشاہ نے اُس سے کہا کہ وہ اندر آئے۔ 6 ۔ اَور ہاماؔن داخِل ہُؤا اَور بادشاہ نے اُس سے کہا۔ کہ اُس آدمی کے لئے کیا کِیا جائے جِسے بادشاہ عِزّت دینا چاہے؟ ہاماؔن نے اپنے دِل میں کہا بادشاہ مُجھ سے زیادہ اَور کِسے عِزّت دینا چاہتا ہے؟ 7 ۔پس ہاماؔن نے بادشاہ سے کہا۔ کہ وہ آدمی جِسے بادشاہ عِزّت دینا چاہتا ہے۔ 8 ۔چاہیئے کہ شاہی پوشاک جو بادشاہ پہنتا ہے۔ اَور وہ گھوڑا جس پر بادشاہ سَواری کرتا ہے لائے جائیں اَور اُس کے سر پر شاہی تاج رکھّا جائے۔ 9 ۔اَور وہ پوشاک اَور گھوڑا بادشاہ کے اعلیٰ رُتبہ والے اُمراء میں سے ایک ہے ہاتھ میں سپُرد کِئے جائیں کہ وہ اُس آدمی کو جِسے بادشاہ عِزّت دینا چاہتا ہے۔ پوشاک پہنائے۔ اَور شہر کی گلی میں اُسے گھوڑے پر سَوار کر کے پھِرائے۔ اَور اُس کے آگے آگے مُنادی کر۔ کہ جس آدمی کو بادشاہ عِزّت دینا چاہتا ہے۔ اُس کے ساتھ یُوں ہی کِیا جائے گا۔ 10 ۔تب بادشاہ نے ہاماؔن سے کہا ۔ کہ فوراً پوشاک اَور گھوڑا لے آ جیسا کہ تُو نے کہا۔ اَور مردکی یہُودی کے لئے جو بادشاہ کے دروازہ پر بیٹھا ہے۔ اِسی طرح کر۔ اَور اِ ن سے باتوں میں سے جو تُو نے کہی ہیں ایک بھی نہ رہ جائے۔ 11 ۔ ہاماؔن کی تذلیل پس ہاماؔن نے پوشاک اَور گھوڑا لِیا۔ اَور مردکی کو پوشاک پہنائی۔ اَور اُسے گھوڑے پر سَوار کر کے شہر کی گلی میں پھرایا۔ اَور اُس کے آگے آگے منادی کی ۔ کہ جس آدمی کوبادشاہ عِزّت دینا چاہتا ہے۔ اُس کے ساتھ یُوں کِیا جائے گا۔ 12 ۔اَور مردکی بادشاہ کے دروازہ پر واپس آیا۔ پر ہاماؔن آزُردہ اَور سر ڈھانپے ہُوئے اپنے گھر کو بھاگا۔ 13 ۔ اَور ہاماؔن نے اپنی بیوی زرِش اَور اپنے تمام دُوستوں کو سب کُچھ بتایا جو واقع ہُؤاتھا تو اُن دانِشمندوں اَور اُس کی بیوی زرِش نے اُس سے کہا۔ کہ اگر مردکی جس کے سامنے تُو ذلِیل ہونے لگا۔ یہُودیوں کی نسل سے ہے۔ تب تُو اُس پر غالِب نہ ہوگا۔ بلکہ اُس کے سامنے تُو ضرُور ذلِیل ہوتا جائے گا۔ 14 ۔اَور جب وہ اُس کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ تو بادشاہ کے خواجہ سرائے آئے اَور ہاماؔن کو اُس ضِیافت میں جلدی سے لئے گئے جو آستر نے تیّار کی تھی۔