1 ۔آستر بادشاہ کے حضور اَور تیسرے دِن ایسا ہُؤا ۔ کہ آستر نے شاہانہ لبِاس پہنا۔ اَور شاہی محلّ کے اندرُونی صحن میں ایوانِ تخت کے سامنے کھڑی ہُوئی۔ اَور بادشاہ اپنے شاہی محلّ میں ایوانِ تخت کے دروازہ کے مُقابِل اپنے شاہی تخت پر بیٹھا تھا۔ 2 ۔ اَور ایسا ہُؤا کہ جب بادشاہ نے آستر مَلکہ کوصحن میں کھڑی دیکھا۔ تو وہ اُس کی نظر میں مقبُول ہُوئی۔ تب بادشاہ نے سونے کا عصا جو اُس کے ہاتھ میں تھا۔ آستر کی طرف بڑھایا۔آستر آگے آئی۔ اَور عصا کے سِرے کو چھُوَا۔ 3 ۔اَور بادشاہ نے اُس سے کہا۔ اَے آستر ملکہ تُجھے کیا ہُؤا۔ اَور تو کیا چاہتی ہے؟ اگرچہ آدھی سَلطنَت بھی ہو۔ تُجھے دی جائے گی۔ 4 ۔آستر نے جَواب میں کہا کہ اگر بادشاہ کو پسند ہو۔ تو بادشاہ اَور ہاماؔن آج ضِیافت میں آئیں جو مَیں نے تیاّر کی ہے۔ 5 ۔ آستر کی ضیافت تو بادشاہ نے کہا۔ کہ ہاماّن کو فوراً بُلاؤ۔ تاکہ آستر کے کہے کے مُوافِق کِیا جائے۔ سوبادشاہ اَور ہاماؔن اِس ضِیافت میں گئے جو آستر نے تیاّر کی تھی۔ 6 ۔اَور بادشاہ نے مَے نوشی کے وقت آستر سے کہا۔ کہ تُو کیا چاہتی ہے؟ تاکہ تُجھے دِیا جائے۔ اَور تیر ی کیا درخواست ہے اگرچہ نصِف سَلطنَت ہو۔ تو بھی تُجھے دی جائے گی۔ 7 ۔آستر نے جَواب میں کہا۔ کہ میر ی خواہش اَور میری عرض یہ ہے۔ 8 ۔اگر مَیں نے بادشاہ کی نظر میں مقبُولِیّت پائی اَور اگر بادشاہ کے نزدِیک یہ اچھّا معلُوم ہُؤا ۔ کہ میری خواہش مُجھے عطا کی جائے اَور میری درخواست پُوری کی جائے۔ تو بادشاہ ہاماؔن کو ساتھ لے کر اُس ضِیافت میں آئے جو مَیں دونوں کے لئے تیاّر کرُوں گی۔اورکل کے روز میں بادشاہ پراپنی مرضی ظاہر کروں گی۔ 9 ۔ ہامان کا غرور اُس روز ہاماؔن خُوش ہو کر شادمان دِل سے باہر نِکلا۔ پر جب ہاماؔن نے مردکی کو شاہی محلّ کے دروازہ پر دیکھا۔ اَور وہ اُس کے لئے کھڑا نہ ہُؤا بلکہ ہِلا بھی نہ۔ تو ہاماؔن مردکی پر غُصّہ سے بھر گیا۔ 10 ۔لیکن ہاماؔن نے اپنے آپ کو ضبط کِیا۔ اَور اپنے گھر چلا گیا۔ وہاں اُس نے اپنےدوستوں اَور اپنی بیوی زرِش کو اپنے پاس بُلایا۔ 11 ۔اَور ہاماؔن نے اپنی شوکت کی عظمت اَور اپنے فرزندوں کی کثرت کا قِصّہ سنُایا۔ اَور کہ کِس کِس طرح بادشاہ نے اُس کی ترقی کی ۔ اَور اُسے اُمراء اَور شاہی مُلازِموں سے زیادہ فضِیلت بخشی۔ 12 ۔اَور ہاماؔن نے کہا۔ اِس سے بڑھ کر آستر مَلکہ نے ضِیافت کی اَور اِس میں سِوائے میرے، بادشاہ کے ساتھ اَور کِسی کو نہ بُلایا۔ اَور بادشاہ کے ساتھ کَل کو بھی اُس نے میری دعوت کی ہے۔ 13 ۔لیکن یہ تمام میرے نزدیک کُچھ چیز نہیں۔ جب تک کہ مَیں اُس یہُودؔی مردکی کو بادشاہ کے دروازہ پر بیٹھا ہُؤا دیکھتا ہوُں۔ 14 ۔تب اُس کی بیوی زرِش اَور اُس کے تمام دوستوں نے اُس سے کہا کہ پچاس ہاتھ اُونچی پھانسی بنوا۔ اَور صُبح کو بادشاہ سے بات کر۔ کہ مردکی اِس پرلٹکایا جائے۔ پِھر تُو خُوشی سے بادشاہ کے ساتھ ضِیافت میں جا۔ یہ بات ہاماؔن کو پسند آئی۔ اَور اُس نے پھانسی بنوائی۔