1 ۔مردکی کا پیغام جب مردکی نے یہ سب کُچھ معلُوم کیا ۔ جو واقع ہُؤا۔ تو اُس نے اپنے کپڑے پھاڑے اَور اپنے اُوپر ٹاٹ اَور راکھ ڈال کر شہر کے بیِچ میں چلا گیا۔ اَور بڑی تلخی کے ساتھ چِلاّ کر رویا۔ 2 ۔اَور بادشاہ کے دروازے کے سامنے تک آیا۔ کیونکہ کوئی ٹاٹ اَوڑھے ہُوئے بادشاہ کے دروازہ کے اندر داخِل نہیں ہوتا تھا۔ 3 ۔ اَور ہر ایک صُوبہ میں بھی جہاں کہیں شاہی حُکم و فرمان پہُنچا۔ یہُودیوں کو سخت غم ہُؤا۔ اَور وہ روزہ رکھتے اَور ماتم اَور واویلا کرتے تھے۔ اَور بہُتوں نے راکھ اَورٹاٹ کابِستر بنایا۔ 4 ۔ اَور آستر کی سہیلیوں اَور خواجہ سراؤں نے آ کر اُسے خبر دی۔ تو مَلکہ بُہت پریشان ہُوئی۔اَوراُس نے مردکی کو ایک پوشاک بھیجی کہ پہنے اَور ٹاٹ اُتارے۔ مگر اُس نے اِنکار کِیا۔ 5 ۔تب آستر نے بادشاہ کے خواجہ سَرا ہتاکؔ کو بُلایا۔ جو اُس کے پاس حاضِر رہنے کے لئے مُقرر کِیا گیا تھا۔ اَور اسے حکم دیا کہ مردکی سے دریافت کرے کہ کیا ہوا ہے اور اِس کا کیا سبب ہے؟ 6 ۔پس ہتاکؔ نِکل کر شہر کے چوک میں گیا جو بادشاہ کے دروازے کے سامنے ہے۔ 7 ۔تو مردکی نے سب کُچھ جو واقع ہُؤا تھا اُسے بتایا۔ اَور کہ کِتنی چاندی ہاماؔن نے یہُودیوں کے ہلاک کئِے جانے کے لئے شاہی خزانوں میں ادا کرنے کا وعدہ کیِا ہے۔ 8 ۔اَوراُس فرمان کی تحریر کی ایک نقل اُسے دی۔ جو اُن کی ہلاکت کے بارے میں سوسؔن میں دِیا گیا تھا۔ تاکہ آستر کو اُس کی بابت اِطلاع دے اَور خبر کرے اَور اُسے تاکیِد کرے کہ بادشاہ کے حضُور جا کر اپنی قوم کے لئے اِلتجا کرے۔ 9 ۔ آستر کی منظوری تب ہتاکؔ نے لَوٹ کر آستر کو مردکی کی باتوں کی خبر دی۔ 10 ۔مگر آستر نے ہتاکؔ سے بات کر کے اُسے حُکم دِیا۔ کہ مردکی سے کہے۔ 11 ۔کہ بادشاہ کے سب مُلازِ م اَور شاہی صُوبوں کے تمام باشِندے جانتے ہیں۔ کہ کوئی مَرد یا زِن جو بُلائے بغیر بادشاہ کی بارگاہِ اندرُونی میں داخِل ہو۔ بس اُس کے لئے یہ قانُون ہے۔ کہ وہ قتل کیِا جائے۔ سِوائے اُس کے جس کی طرف بادشاہ سونے کی عصا بڑھائے تاکہ وہ جِیتا رہے۔ اَور مَیں شاہی حضُور میں کیسے جاؤں۔ جب کہ تیس دِن سے نہیں بُلائی گئی۔ 12 ۔ اَور آستر کی باتیں مردکی کو پُہنچائی گئیں۔ 13 ۔اَورمردکی نے کہا۔ کہ جَواب میں آستر سے کہہ دو کہ تُو اپنے دِل میں یہ خیال نہ کر۔ کہ سب یہُودیوں میں سے تُو اکیلی بادشاہ کے محلّ میں بچی رہےہ گی۔ 14 ۔کیونکہ اگر اِس وقت تُو خاموش رہے۔ تو یہُودیوؔں کے لئے کُشادگی اَور خلاصی کہیں دُوسری طرف سے تو آئے گی۔ مگر تُو اپنے باپ کے گھرانے کےساتھ ہلاک ہو جائے گی۔ اَور کیا جانے کہ شاید ایسے وقت کے واسطے تُو سَلطنَت کو پہُنچی ہے۔ 15 ۔تب آستر نے حُکم دِیا کہ مردکی کو یُوں جَواب دو۔ 16 ۔کہ جا اَور سوسؔن کے سب یہُودیؔوں کو جمع کر۔ کہ میرے لئے روزہ رکھیں تین روز تک دِن اَور رات نہ کُچھ کھائیں اَور نہ پِئیں۔ اَور مَیں بھی اپنی سہیلیوں سمیت اِسی طرح روزہ رکھُّوں گی۔ پھِر مَیں قانُون کے خلاف بادشاہ کے حضُور داخِل ہوں گی۔ اَور اگر مَیں ماری گئی تو ماری گئی۔ 17 ۔چُنانچہ مردکی گیا۔ اَور آستر کے حُکم کے مُوافِق سب کُچھ کِیا۔