1 ۔ نعومی کی صلاح پِھر اُس کی ساس نعومی نے اُس سے کہا۔ میری بیٹی! مَیں تیرے آرام کی خواہش مند ہُوں۔ تاکہ تیرا بھلا ہو۔ 2 ۔ اور اَب بوعز جس کی لونڈیوں کے ساتھ تُو رہی۔ ہمارا رِشتہ دار ہے۔ دیکھ وہ آج کی رات کَھلیان میں جَو پھَٹکے گا۔ 3 ۔ پس تُو نہا اور خُوشبُو لگا۔ اور اچھّے کپڑے پہن۔ اَور کَھلیان کو جا۔ اَور جب تک وہ کھانے پِینے سے فارِغ نہ ہو۔ اپنے آپ کو اُس پرظاہرنہ کر۔ 4 ۔ اَور جب وہ سوئے تو اُس کے سونے کی جگہ دیکھ تب اندر جا۔اَور اُس کے پاؤں پر سے کپڑا ہٹا اَور وَہیں پڑی رہ۔ اَور جو کُچھ تُجھے کرنا مُناسِب ہَے وہ تُجھے بتائے گا۔ 5 ۔ تو اُس نے اُس سے کہا۔ کہ جو کُچھ تُو نے مُجھے کہا۔ مَیں کروں گی۔ 6 ۔ اَور وہ کَھلیان کو گئی اور جیسا اُس کی ساس نے کہا تھا، کِیا۔ 7 ۔ بوعزکاوعدہ جب بوعز کھاپی چُکا اَور اُس کا دِل خُوش ہُوا تو وہ غلّہ کے ڈھیر کی طرف لیٹنے کے لئے گیا۔ تو وہ آہستہ سے آئی اور اُس کے پاؤں پر سے کپڑا ہٹایا اور وَہیں لیٹ گئی۔ 8 ۔ اور دیکھو جب آدھی رات ہُوئی تو وہ آدمی گھبرا گیا۔ اور اِدھر اُدھر کروَٹ لی۔ تو دیکھو۔ ایک عورت اُس کے پاؤں کے پاس لیٹی ہُوئی ہَے۔ 9 ۔ تو اُس نے کہا۔ تُو کون ہَے؟ اُس نے جَواب دیا۔ مَیں رُوت تیری لونڈی ہُوں۔ تُواپنے کپڑے کا دامن اپنی لونڈی پر پھیلا۔ کیونکہ تُو قرابتی ہے۔ 10 ۔ وہ بولا۔ خُداوند کی طرف سے مُبارَک ہو تُو اَے بیٹی! کیونکہ تیری پچھلی مہربانی پہلی سے زیادہ ہے۔ کیونکہ تُو جوانوں کے پیچھے خواہ غریب خواہ امیر ہوں، نہیں گئی۔ 11 ۔ اَور اَب اَے بیٹی! مت ڈر۔ جو کُچھ تُو کہے مَیں تیرے لئے کرُوںگا کیونکہ میرے لوگوں کا سارا شہر جانتا ہے۔ کہ تُو نیک بخت عورت ہے۔ 12 ۔ اور یہ دُرست ہَے کہ مَیں قرابتی ہُوں۔ لیکن تیرا ایک اور قرابتی ہے۔ جو مُجھ سے قریب تر ہے۔ 13 ۔ تُو یہ رات ٹھہر اور جب صُبح ہوگی تو اگر وہ قرابتی کا حَق ادا کرنا چاہے۔ خیر۔ وہ کرے۔ اور اگر وہ قرابتی کا حَق ادا کرنا نہ چاہے۔ تو زِندہ خُداوند کی قَسم مَیں ادا کرُوں گا۔ پس صُبح تک تُو سوتی رہ۔ 14 ۔ تو وہ اُس کے پاؤں کے پاس صُبح تک سوتی رہی اور پیشتر اِس کے کہ اِنسان ایک دُوسرے کو پہچان سکے، اُٹھی تو بوعز نے کہا۔ خبردار کوئی نہ جانے کہ تُو رات کو کھلیان میں آئی تھی۔ 15 ۔ پِھر اُس نے کہا۔ کہ اپنے اُوپر کی چادر لا۔ اور اُسے پکڑے رہ۔ تو اُس نے پکڑی۔ تب اُس نے جَو کے چھ پیمانے ناپ کر اُسے اُٹھوا دیئے۔ پِھر وہ شہر کو چلی گئی۔ 16 ۔ اور رُوت اپنی ساس کے پاس آئی۔ تو اُس نے اُس سے کہا اَے بیٹی! تُونے کیا کِیا؟ تو اُس نے سب کُچھ بیان کِیا۔ جو اُس مَرد نے اُس سے کِیا تھا۔ 17 ۔ اور کہا۔ کہ اُس نے مُجھے یہ چھ پیمانے جَو کے دیئے۔ کیونکہ اُس نے کہا کہ تُو اپنی ساس کے پاس خالی ہاتھ نہ جا۔ 18 ۔ تب اُس کی ساس نے اُس سے کہا۔ اَے بیٹی! صبر کر جب تک کہ تُونہ دیکھے۔ کہ یہ مُعاملہ کیسے ختم ہوتاہَے۔ کیونکہ وہ آدمی جب تک اِس مُعاملہ کو آج کے دِن تمام نہ کرے، آرام نہ لے گا۔