1 ۔ بوعز کی شفقت اَورنعومی کے شوہر کا ایک رِشتہ دار اِلیملک کے خاندان میں طاقتور اور مالدار آدمی تھا اور اُس کا نام بوعز تھا۔ 2 ۔ اور موآبی رُوت نےنعومی سے کہا کہ مَیں کھیت کی طرف جاتی ہُوں۔ تاکہ جو کوئی مُجھ پر مہربانی کرے۔ مَیں اُس کے پیچھے پیچھے بالیں چنُوں تو اُس نے اُس سے کہا۔ اَے میری بیٹی! جا۔ 3 ۔ پس وہ گئی اور ایک کھیت میں داخِل ہوئی اَور کاٹنے والوں کے پیچھے بالیں چُننے لگی اور اِتفاق سے وہ کھیت کا قِطعہ الیملک کے رِشتہ دار بوعز کا تھا۔ 4 ۔ اور دیکھو کہ بوعز بَیت لحم سے آیا۔ اور کاٹنے والوں سے کہا۔ خُداوند تُمہارے ساتھ ہو۔ اُنہوں نے کہا۔ خُداوند تُجھے برکت دے۔ 5 ۔ تب بوعز نے اپنے نوکر سے جو کاٹنے والوں پر مُقرّر تھا کہا۔ کہ یہ کِس کی لڑکی ہَے؟ 6 ۔ تو اُس نوکر نے جو کاٹنے والوں پر مُقرّر تھا۔ جواب میں کہا۔ کہ یہ وہ موآبی لڑکی ہے۔ جونعومی کے ساتھ موآب کی سَر زمین سے آئی ہَے۔ 7 ۔ اَور وہ بولی۔ کہ مُجھے بالیں چُننے دو اور مَیں کاٹنے والوں کے پیچھے پُولیوں میں سے جمع کرُوں گی۔ اور وہ صُبح سے جس وقت سے کہ آئی ہے، اَب تک یہیں ہَے اور صِرف تھوڑی دیر تک اُس نے چھپّر میں کُچھ آرام کِیا تھا۔ 8 ۔ تب بوعز نے رُوت سے کہا۔ بیٹی میری بات سُن۔ کہ تُو کِسی دُوسرے کھیت میں بالیں چُننے نہ جا تُو یہاں سے نہ نِکل بلکہ میری لونڈیوں کے ساتھ رہ 9 ۔ اور جس کھیت میں کاٹنے والے ہوں اُس کا دِھیان رکھّ۔ اور اُن کے پیچھے جا۔ اَور مَیں نے اپنے جوانوں کو حُکم دِیاہے۔ کہ تُجھے دِق نہ کریں۔ اَور تُجھے پِیاس لگے۔ تو برتنوں کے پاس جا اور اُس پانی سے پی جو میرے نوکروں نے بھرا ہے۔ 10 ۔ تب وہ مُنہ کے بل گِری اور زمین تک سر جھُکایا۔ اور اُس سے کہا۔ کہ مَیں تیری نِگاہ میں کیسے منظُور ہُوئی؟ کہ تُو نے میری خبر گِیری کی۔ حالانکہ مَیں پردیسی ہُوں۔ 11 ۔ بوعز نے اُس سے جَواب میں کہا۔ کہ تیرے شوہر کے مَرنے کے بعد جو کُچھ تُو نے اپنی ساس سے کِیا۔ وہ سب کُچھ مُجھے بتایا گیا ہَے۔ کہ کیسے تُو نے اپنے باپ کو اور اپنی ماں کو اور اپنی پیدائش کے وطن کو چھوڑا۔ اور اُن لوگوں میں جِنہیں تُو پیشتر سے نہ جانتی تھی، آئی۔ 12 ۔ خُداوند تیرے کام کا تُجھے بدلہ دے۔ اَور خُداوند اسرائیل کے خُدا کی طرف سے جس کے پَروں کے نیچے تُو پناہ کے لئے آئی تیرا پُورا بدلہ ہو!۔ 13 ۔ وہ بولی۔ اَے میرے آقا! مَیں نے تُجھ سے مہربانی پائی۔ کیونکہ تُو نے میری دِل داری کی۔ اَور اپنی لونڈی کے دِل کو دِلاسا دیا۔ اگرچہ مَیں تیری لونڈیوں میں سے ایک کے برابر نہیں ہُوں۔ 14 ۔ اَور جب کھانے کا وقت آیا۔ تو بوعز نے اُس سے کہا۔ اِدھر آ۔ اَور روٹی کھا۔ اَور سِرکہ میں اپنے لُقمے بِھگو۔ تب وہ کاٹنے والوں کے پاس بیٹھ گئی۔ اور اُس نے اُس کے آگے بھُونا ہُوا اناج رکھّا۔ تو اُس نے کھایا اور سیر ہُوئی۔ اور جو بچا رہا، وہ لے لِیا۔ 15 ۔تب وہ بالیں چُننے کو اُٹھی۔ بوعز نے اپنے جوانوں کو حُکم دے کر کہا۔ کہ پُولیوں کے بیچ میں سے اُسے بالیں چُننے دو۔ اور اُسے دھمکی نہ دو۔ 16 ۔ اور مُٹھوں میں سے اُس کے لئےارادتا گِرا دو اَور اُسے چُن لینے دو۔ اَور اُسے اِیذا نہ دو۔ 17 ۔ پس وہ کھیت میں شام تک بالیں چُنتی رہی اور جو کُچھ اُس نے چُنا تھا ، جھاڑا۔ تو وہ قریباً ایک ایفہ جَو ہُوئے۔ 18 ۔ تو اُس نے جَو اُٹھائے اور شہر کو گئی۔ اَور جو کُچھ چُنا تھا۔ اپنی ساس کو دِکھایا۔ اور سیر ہو کر جو کھانا اُس سے بچ رہا تھا وہ بھی نِکال کر اُسے دیا۔ 19 ۔ تب اُس کی ساس نے اُس سے کہا۔ کہ آج تُو نے کہاں بالیں چُنیں اَور کہاں محنِت کی؟ مُبارَک ہو وہ جس نے تیری خبرلی۔ تب اُس نے اپنی ساس کو بتایا۔ کہ کِس کے ہاں اُس نے محنِت کی اَور کہا۔ کہ اُ س آدمی کا نام جس کے پاس مَیں نے محنِت کی بوعز ہَے۔ 20 ۔ تب نعومی نے اپنی بہُو سے کہا۔ کہ وہ خُداوند کی طرف سے مُبارَک ہو۔ جس نے زِندوں اَور مُردوں کے ساتھ اپنی مہربانی ترک نہ کی ہَے۔ پِھرنعومی نے اُس سے کہا۔ کہ وہ آدمی ہمارا قرابتی ہے اور ہمارا ولی ہے۔ 21 ۔ موآبی رُوت بولی کہ اُس نے مُجھ سے یہ بھی کہا۔ کہ تُو میرے جوانوں کے پیچھے پیچھے رہ۔ جب تک کہ وہ تمام فصل کاٹ نہ چُکیں۔ 22 ۔ نعومی نے اپنی بہُو رُوت سے کہا۔ اَے میری بیٹی! اچھّاہے کہ تُو اُس کی لونڈیوں کے ساتھ جائے۔ بہ نِسبت اِس کے کہ کوئی غیر تُجھے کِسی دُوسرے کھیت میں پائے۔ 23 ۔ لہٰذا وہ بوعز کی لونڈیوں کے ساتھ بالیں چُننے جاتی رہی۔ جب تک کہ جَو اَور گیہُوں کاٹنے کا موسم ختم نہ ہُوا۔ اَور وہ اپنی ساس کے ساتھ رہتی تھی۔