1 ۔ داؤد کا لَوٹایاجانا اَور فلستیوں نے افیِق میں اپنے خَیمہ گاہوں کے لشکر جمع کئے اَور اِسرائیل ایک چشمے کے پاس جو یزر عیل میں ہے خَیمہ زَن تھے۔ 2 ۔ توفلستیوں کے سردار سَو سَو اَور ہزار ہزار کے ساتھ آگے گئے۔ اَور داؤد اَور اُس کے ساتھی اکیس کے ہمراہ پیچھے تھے۔ 3 ۔ تو فلستیوں کے سرداروں نے کہا۔ کہ یہ عبِرانی کِس لئے ہیں؟ تو اکیس نے کہا۔ کیا یہ داؤد شاہ اِسرائیل کا خادِم وہی نہیں جو میرے ساتھ دِنوں بلکہ برسوں سے ہے اَور جس روز سے وہ ہمارے پاس بھاگ کر آیا آج تک اُس میں کوئی بَدی نہیں پائی گئی۔ 4 ۔ تب فلستیوں کے سردار غُصّے ہوئے اَور اُس سے کہا۔ اِس آدمی کو لَوٹا دے کہ وہ اپنی جگہ کو جو تُو نے اُس کے لئے ٹھہرائی واپس جائے۔ اَور ہمارے ساتھ جنگ میں نہ جائے۔ تاکہ لڑائی میں وہ ہمارا دُشمن نہ بن جائے۔ کیونکہ وہ اپنے آقا کو اِن آدمیوں کے سروں کے بغیر کِس طرح خُوش کرے گا؟ 5 ۔ کیا یہ وہی داؤد نہیں جس کی بابت عورتوں نے ناچ میں گاتے ہوئے کہا تھا۔ ساؤل نے مارا ہزاروں کو۔ داؤد نے مارا لاکھوں کو 6 ۔ تب اکیس نے داؤد کو بُلایا اَور اُس سے کہا۔ زِندہ خُداوند کی قَسم کہ تُو راستکار ہے اَور لشکر گاہ میں میرے ساتھ تیراا ٓنا جانا میری نظر میں اچھّا ہے۔ اَور جس دِن سے تُو میرے پاس آیا ہے آج تک مَیں نے تُجھ میں کوئی بَدی نہیں پائی۔ لیکن سرداروں کی نظر میں تُو پسندیدہ نہیں۔ 7 ۔ پس اَب تُو لَوٹ کر سلامتی سے چلا جا۔ اَور کوئی ایسی بات نہ کر جو فلستیوں کے سرداروں کی نظر میں برُی ہو۔ 8 ۔ داؤد نے اکیس سے کہا۔ مَیں نے کیا کِیاہے؟ اَور جس دِن سے کہ مَیں تیرے ساتھ رہا ہوں آج تک تُو نے اپنے خادِم میں کون سی بات پائی کہ مَیں نہ جاوُں اَور اپنے آقا بادشاہ کے دُشمنوں سے نہ لڑُوں۔ 9 ۔ تب اکیس نے داؤد کو جَواب میں کہا۔ مَیں یہ جانتا ہوں۔ کہ تُو میری نظر میں خُدا کے فرِشتے کی مانند نیک ہے۔ لیکن فلستیوں کے سرداروں نے کہا۔ کہ تُو ہمارے ساتھ جنگ میں مت جا۔ 10 ۔ اَور اَب صُبح سویرے تُو اَور تیرے آقا کے خادِم جو تیرے ساتھ آئے ہیں اُٹھو اَور اپنی جگہ کو جو مَیں نے تُمہارے لئے ٹھہرائی ہے، چلے جاؤ۔ اِنتقام کا خیال نہ کر۔ کیونکہ مَیں تُجھے نیک سمجھتا ہوں۔ پس جب تُم صُبح کو اُٹھو اَور روشنی نُمودار ہو تو روانہ ہوجاؤ۔ 11 ۔ اِس لئے صُبح کو داؤد اَور اُس کے آدمی اُٹھے تاکہ تڑکے روانہ ہو کر فلستیوں کے مُلک میں واپس جائیں لیکن فِلستی یزر عیل کو چلے گئے۔