باب

1 ۔ ساؤل اَور عین دور کی ساحرِہ اَور اُن دِنوں میں ایسا ہوا۔ کہ فلستیوں نے اپنے خَیمہ گاہوں کی فوجیں اِکٹھّی کرلیں تاکہ اِسرائیل سے جنگ کریں۔ تو اکیس نے داؤد سے کہا۔ تُو جان لے کہ تُجھے اَور تیرے ساتھیوں کو میرے ساتھ لشکر میں نِکلنا ضرُور ہے۔ 2 ۔ اَور داؤد نے اکیس سے کہا۔ اَب تُو جانے گا۔ کہ تیرا خادِم کیا کرے گا تو اکیس نے داؤد سے کہا۔ کہ مَیں ہمیشہ کے لئے تُجھے اپنے سر کا نِگہبان مُقرّر کرُوں گا۔ 3 ۔ اَور ایسا ہوا کہ سمُوئیل مَر گیا تھا۔ اَور تمام اِسرائیل نے اُس پر ماتم کِیا اَور اُسے اُس کے شہر رامہ میں دفن کِیا۔ اَور ساؤل نے تمام ساحرِوں اَور فال گِیروں کو مُلک سے نِکال دِیا تھا۔ 4 ۔ لہٰذا فِلستی اِکٹھّے ہوئے اَور آکر شونیم میں ڈیرا لگایا اَور ساؤل نے تمام اِسرائیل کو جمع کِیا۔ اَور جلبوعہ میں خَیمہ زن ہوا۔ 5 ۔ جب ساؤل نے فلستیوں کا لشکر دیکھا۔ تو ڈر گیا اَور اُس کا دِل نہایت کانپا۔ 6 ۔ تب ساؤل نے خُداوند سے دریافت کِیا۔ تو خُداوند نے اُسے جَواب نہ دِیا۔ نہ بذریعہ خوابوں کے نہ قرعہ کے اَور نہ انبِیاکے 7 ۔ تو ساؤل نے اپنے خادِموں سے کہا۔ کہ میرے لئے ایک ایسی عورت تلاش کرو جو ساحرِہ ہو۔ تو مَیں اُس کے پاس جا کر اُس کی زُبان سے دریافت کرُوں گا۔ اُس کے خادِموں نے اُس سے کہا کہ عین دور میں ایک عورت ہے جو ساحِرہ ہے۔ 8 ۔ تب ساؤل نے اپنا بھیس بدلا اَور دُوسرے کپڑے پہنے۔ اَور دو آدمی ساتھ لے کر روانہ ہوا۔ اَور رات کے وقت اُس عورت کے پاس پُہنچا۔ اَور اُس سے کہا۔ کہ رُوح کے ذریعہ سے مُجھے غیب کی باتیں بتا۔ اَور جِسے مَیں کہوں اُسے میرے لئے اُوپر لا۔ 9 ۔ تو عورت نے اُس سے کہا۔ دیکھ تُو جانتا ہے کہ ساؤل نے کیا کِیا۔ کہ اُس نے تمام ساحرِوں اَورفال گیِروں کو مُلک سے نِکال دِیا ہے۔ پس تُو میری جان کے لئے کیوں پھندا لگاتا ہے۔ کہ مُجھے ہلاک کرے۔ 10 ۔ تب ساؤل نے اُس سے خُداوند کی قَسم کھائی اَور کہا۔ زِندہ خُداوند کی قَسم۔ اِس معاملہ میں کوئی بَدی تُجھ پر واقع نہ ہوگی۔ 11 ۔ تب اُس عورت نے کہا۔ کہ مَیں تیرے لئے کِسے اُوپر بُلاوُں؟ اُس نے کہا۔ میرے لئے سمُوئیل کو بُلا۔ 12 ۔ جب اُس عورت نے سمُوئیل کو دیکھا۔ تو بڑی آواز سے چِلاّئی اَور اُس عورت نے ساؤل سے کہا۔ تُو نے کیوں مُجھے دھوکا دِیا؟ کیونکہ تُو ساؤل ہے۔ 13 ۔ تو بادشاہ نے اُس سے کہا۔ مت ڈر۔ تُو نے کیا دیکھا ہے؟ تو عورت نے ساؤل سے کہا۔ مَیں معبُودوں کو زمین میں سے اُوپر چڑھتا دیکھتی ہوں۔ 14 ۔ اُس نے اُس سے کہا۔ اُس کی شکل کیسی ہے؟ وہ بولی ایک بُوڑھا آدمی اُوپر آتا ہے اَور چوغہ پہنے ہوئے ہے۔ تو ساؤل نے سمجھ لِیا کہ وہ سمُوئیل ہے۔ تو وہ اپنے مُنہ کے بَل زمین پر گِرا۔ اَور سجدَہ کِیا۔ 15 ۔ اَور سمُوئیل نے ساؤل سے کہا۔ کہ تُم نے کیوں مُجھے بے آرام کیا اَور مُجھے اُوپر بُلایا ساؤل نے کہا۔ مُجھ پر بڑی تنگی ہے۔ کیونکہ فِلستی مُجھ سے لڑائی کرتے ہیں۔ اَور خُداوند نے مُجھے چھوڑ دیا۔ اَور مُجھے جَواب نہیں دیتا۔ نہ بذریعہ انبِیاءکے اَورنہ خوابوں کے۔ تو مَیں نے تُجھے بُلایا۔ تاکہ تُو مُجھے بتائے کہ مَیں کیا کرُوں؟ 16 ۔ سمُوئیل نے کہا تُو مُجھ سے کیوں پُوچھتاہے۔جس حال کہ خُداوند نے تُجھے چھوڑ دِیا۔ اَور تیرا دُشمن بن گیا ہے۔ 17 ۔ اَور خُداوند نے تیرے لئے وہی کِیا جو اُس نے میری زُبان سے کہا اَور تیرے ہاتھ سے تیری سَلطنَت کاٹ ڈالی۔ اَور تیرے ہمسائے داؤد کو دے دی۔ 18 ۔ کیونکہ تُو نے خُداوند کے حُکم کی فرمانبرداری نہ کی۔ اَور اُس کا غضب عمالِیق پر نافذ نہ کِیا۔ اِس لئے آج کے دِن خُداوند نے تُجھ سے یہ کِیا۔ 19 ۔ اَور خُداوند اِسرائیل کو بھی تیرے ساتھ فلستیوں کے ہاتھ میں دے دے گا۔ اَور کَل تُو اَور تیرے بیٹے میرے ساتھ ہوں گے۔ اَور اِسرائیل کے لشکر کو بھی خُداوند فلستیوں کے ہاتھ میں کردے گا۔ 20 ۔ تب ساؤل فوراً زمین پر لمبا ہوکر گِرا۔ اَور سمُوئیل کے کلام سے نہایت کانپا۔ اَور اُس میں طاقت باقی نہ رہی کیونکہ اُس نے سارا دِن اَور ساری رات روٹی نہیں کھائی تھی۔ 21 ۔ تب وہ عورت ساؤل کے پاس آئی۔ اَور دیکھا کہ وہ بڑی گھبراہٹ میں ہے۔ تو اُس سے کہا۔ کہ تیری لونڈی نے تیرا حُکم مانا۔ مَیں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھّی۔ اَور تیری بات سُنی جو تُو نے مُجھ سے کہی۔ 22 ۔ پس اَب تُو بھی اپنی لونڈی کی بات سُن۔ کہ مَیں تیرے آگے کُچھ روٹی لاوُں اَور تُو کھا۔ تاکہ تُجھ میں قُوّت ہو۔ کہ تُو اپنی راہ جا سکے۔ 23 ۔ تو اُس نے اِنکار کِیا اَور کہا۔ مَیں نہیں کھاوُں گا۔ تب اُس کے خادِموں اَور اُس عورت نے بھی اِصرار کِیا۔ تو اُس نے اُن کی سُنی اَور زمین پر سے اُٹھا۔ اَور پلنگ پر بیٹھا۔ 24 ۔ اَور اُس عورت کے گھر میں ایک موٹا بچھڑا تھا۔ تو اُس نے جلدی سے اُسے ذَبح کِیا۔ اَور آٹا لے کر گُوندھا۔ اَوربے خمیری روٹیاں پکائیں۔ 25 ۔ اَور ساؤل اَور اُس کے خادِموں کے آگے رکھیں۔ پس اُنہوں نے کھایا۔ تب وہ اُٹھے اَور اُسی رات چلے گئے۔