1 ۔ داؤد اَور ساؤل عیَن جدی میں جب ساؤل فلستیوں کا پیچھا کرنے سے واپس آیا تو اُسے خبردی گئی اَور کہاگیا۔ دیکھو داؤد عیَن جدی کے بِیابان میں ہے۔ 2 ۔ تب ساؤل نے تمام اِسرائیل میں سے تین ہزار مُنتخب جوان لئے۔ اَور داؤد اَور اُس کے ساتھیوں کی تلاش میں جنگلی بکرو ں کی چٹانوں پر گیا۔ 3 ۔ اَور بھیڑ سالوں کے پاس جو راہ میں تھے، آیا۔ وہاں ایک غار تھا۔ تو ساؤل قضائے رفع کے لئے غار میں گھُسا۔ اَور داؤد اَور اُس کے ساتھی غار کے اندر بیٹھے ہوئے تھے۔ 4 ۔ تب داؤد سے اُس کے ساتھیوں نے کہا۔ یہ وہ دِن ہے جس کی بابت خُداوند نے تُجھے فرمایا۔ دیکھ میں تیرے دُشمن کو تیرے ہاتھ میں دے دُوں گا۔ کہ تُو اُس سے جو کُچھ تیری آنکھوں میں اچھّا ہو، کرے۔ تب داؤد نے اُٹھ کر چُپکے سے ساؤل کے چوغہ کا دامن کاٹ لِیا۔ 5 ۔ اِس کے بعد داؤد کا دِل بے چین ہوا کہ اُس نے ساؤل کے چوغہ کا دامن کاٹا۔ 6 ۔ اَور اُس نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔ خُداوند نہ کرے۔ کہ مَیں ایسا کام اپنے آقا سے کرُوں جو خُداوند کا ممسُوح ہے اَور اپنا ہاتھ اُس پر اُٹھاوُں کیونکہ وہ خُداوند کا ممسُوح ہے۔ 7 ۔ اَور داؤد نے اِس کلام سے اپنے ساتھیوں کو روکا اَور اُنہیں ساؤل پر حملہ کرنے نہ دِیا۔ پِھر ساؤل اُٹھا اَور غار سے نِکلا اَور اپنی راہ لی۔ 8 ۔ بعد اُس کے داؤد اُٹھا اور غار سے نِکلا اَور ساؤل کو آواز دی اَور کہا۔ اَے میرے آقا بادشاہ! تب ساؤل نے اپنے پیچھے پِھر کے دیکھا تو داؤد اپنے مُنہ کے بَل زمین پر سجدَہ میں گِرا۔ 9 ۔اَور داؤد نے ساؤل سے کہا۔ تُو کیوں لوگوں کی بات سُنتاہے جو کہتے ہیں۔ کہ داؤد تیرا بُرا چاہتا ہے؟ 10 ۔ تیری آنکھوں نے آج دیکھا ہے۔ کہ خُداوند نے غار میں تُجھے میرے ہاتھ میں دے دِیا۔ اَور مُجھ سے کہا گیا کہ تُجھے قتل کرُوں۔ لیکن مَیں نے تُجھ پر رحم کِیا اَور کہا۔ کہ مَیں اپنے آقا پر اپنا ہاتھ نہ اُٹھاوُں گا۔ کیونکہ وہ خُداوند کا ممسُوح ہے۔ 11 ۔ اَور دیکھ اَے میرے باپ! تیرے چوغہ کادامن میرے ہاتھ میں ہے۔لہٰذا اِس بات سے کہ مَیں نے تیرے چوغہ کا دامن کاٹا اَور تُجھے قتل نہ کِیا۔ تُو غور کر۔ اَور دیکھ۔ کہ میرے ہاتھ میں کوئی بَدی اَور کوئی شرارت نہیں۔ اَور نہ مَیں نے تیرا کوئی گُناہ کِیا۔ اَور تُو میری جان کے لئے گھات لگاتا ہے۔ کہ اُسے لے لے۔ 12 ۔ پس خُداوند میرے اَور تیرے درمیان اِنصاف کرے۔ اَور خُداوند تُجھ سے میرا اِنتقام لے۔ لیکن میرا ہاتھ تیرے خلاف نہ ہوگا۔ 13 ۔ جیسا کہ قدیم مثِل میں کہا جاتاہے بُروں سے بُرائی ہی نِکلتی ہے۔ لیکن میرا ہاتھ تیرے خلاف نہ ہوگا۔ 14 ۔ اِسرائیل کا بادشاہ کِس کے پیچھے نِکلا۔ اَور کِس کے پیچھے تُو تعاقب کرنے آیا؟ ایک مَرے ہوئے کُتّے کے پیچھے یا ایک پِسّو کے پیچھے۔ 15 ۔ پس خُداوند ہی مُنصِف ہو۔ اَور میرے اَور تیرے درمیان اِنصاف کرے۔ اَور دیکھے۔ اَور میرے مُقدمہ کو فیصل کرے۔ اَور تیرے ہاتھ سے مُجھے چُھڑائے۔ 16 ۔ جب داؤد یہ باتیں ساؤل سے کہہ چُکا۔ساؤل نے کہا۔ اَے میرے بیٹے داؤد! کیا یہ تیری آواز ہے؟ اَور ساؤل بُلند آواز سے رویا۔ 17 ۔ پِھر اُس نے داؤد سے کہا۔ تُو مُجھ سے زیادہ صادِق ہے۔ کیونکہ تُو نے مُجھے نیکی سے بدلہ دِیا حالانکہ مَیں نے تُجھ سے بَدی کی۔ 18 ۔ اَور تُو نے آج کے دِن ظاہر کِیا۔ کہ تُو نے میرے ساتھ نیکی کی۔ کیونکہ خُداوند نے مُجھے تیرے ہاتھ میں حوالے کِیا۔ اَور تُو نے مُجھے مار نہ ڈالا۔ 19 ۔ کیونکہ اگر کوئی آدمی اپنے دُشمن کو پائے۔ تو کیا اُسے اُس کے راستے میں سلامتی سے جانے دے گا؟ پس اِس نیکی کے عوِض جو تُو نے مُجھ سے آج کے دِن کی ہے، خُداوند تُجھے نیک جزا دے۔ 20 ۔ اَور اَب مَیں یقینا جانتا ہوں کہ تُو بادشاہ بنے گا۔ اَور اِسرائیل کی سَلطنَت تیرے ہاتھ میں قائم ہوگی۔ 21 ۔ چُنانچہ اِس وقت تو مُجھ سے خُداوند کی قَسم کھا۔ کہ میرے پیچھے تُو میری نسل کو ہلاک نہ کرے گا۔ اَور میرے باپ کے گھرانے سے میرا نام مِٹا نہ دے گا۔ 22 ۔ پس داؤد نے ساؤل سے قَسم کھائی۔ اَور ساؤل اپنے گھر کو روانہ ہوا۔ اَور داؤد اَور اُس کے ساتھی محفُوظ مقاموں کی طرف چلے گئے۔