1 ۔ داؤد اَور نابال اَور سمُوئیل نے وفات پائی۔ تو سب اِسرائیل جمع ہوئے اَور اُس پر روئے۔ اَور رامہ میں اُسی کے گھر میں اُسے دفن کیِا۔ اَور داؤد اُٹھا۔ اَور دشتِ فاران کی طرف چلاگیا۔ 2 ۔ اَور فاران میں ایک آدمی تھا۔ جس کی مِلکیّت کرمِل میں تھی۔ اَور وہ بُہت مالدار تھا۔ اُس کی تین ہزار بھیڑیں اَور ایک ہزار بکریاں تھیں۔ اَور وہ کرمِل میں اپنی بھیڑوں کی اُون کتُرتا تھا۔ 3 ۔ اُس آدمی کا نام نابال اَور اُس کی بیوی کا نام ابیجیل تھا۔ اَور یہ عورت عقلمند اَور خُوبصُورت تھی۔ اَور اُس کا شوہر نابال سخت دِل اَور بَد اعمال تھا۔ اَور وہ کالِب کے خاندان سے تھا۔ 4 ۔ اَور داؤد نے بِیابان میں سُنا۔ کہ نابال اپنی بھیڑوں کی اُون کتُرتا ہے۔ 5 ۔ تو داؤد نے اپنے دس جوانوں کو بھیجا۔ اَور داؤد نے جوانوں سے کہا۔ تُم کرمِل پر چڑھو اَور نابال کے پاس جاؤ۔ اَور میرا نام لے کر اُس سے سلام کہو۔ 6 ۔ اَور اُس سے یُوں کہو۔ تُو سلامت رہ۔ تیرا گھر سلامت رہے۔ جو کُچھ تیرا ہے سلامت رہے۔ 7 ۔ مَیں نے سُنا ہے۔ کہ اِس وقت تیرے پاس اُون کترُنے والے ہیں۔ اَور تیرے چرواہے ہمارے ساتھ رہے۔ تو ہم نے اُنہیں دُکھ نہ دِیا۔ اَور اُن تمام دِنوں میں جب تک کہ وہ کرمِل میں رہے اُن کی کوئی چیز کھوئی نہ گئی۔ 8 ۔ اپنے جوانوں سے پُوچھ تو وہ تُجھے بتائیں گے۔ پس یہ جوان تیرے منظُورِ نظر ہوں۔ کیونکہ ہم اچھّے موقع پر تیرے پاس آئے ہیں۔ اِس لئے جو کُچھ تیرے ہاتھ میں ہو اپنے خادِموں اَور اپنے بیٹے داؤد کو دے۔ 9 ۔ تب وہ جوان گئے اَور یہ ساری باتیں داؤد کے نام سے نابال سے کہیں۔ پِھر چُپ ہو رہے۔ 10 ۔ نابال نے داؤد کے خادِموں سے جَواب میں کہا۔ داؤد کون ہے اَور یِسّی کا بیٹا کون ہے؟ آج کَل ایسے بُہت نوکر ہیں جو اپنے آقاؤں سے بھاگے ہوئے ہیں۔ 11 ۔ کیا مَیں اپنی روٹی اَور پانی اَور ذَبیحے جو مَیں نے اپنے اُون کترُنے والوں کے لئے ذَبح کِئے، لُوں اَور اُن لوگوں کو دُوں جِنہیں مَیں جانتا ہی نہیں کہ کہاں کے ہیں؟ 12 ۔ تب داؤد کے جوان اپنی راہ میں روانہ ہوئے اَورواپس چلے گئے۔ اَور اُسے یہ ساری باتیں بتائیں۔ 13 ۔ تب داؤد نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔ تُم میں سے ہر ایک اپنی تلوار کَمر پر باندھے۔ چُنانچہ ہر ایک نے اپنی تلوار کَمر پر باندھی۔ اَور داؤد نے بھی اپنی تلوار حمائل کی۔ چُنانچہ قریباً چار سَو آدمی داؤد کے ساتھ گئے۔ اَور دو سَو آدمی اسباب کے پاس رہے۔ 14 ۔ اَور نوکروں میں سے ایک نے نابال کی بیوی ابیجیل کو خبر دی اَور کہا۔ کہ داؤد نے بِیابان سے ہمارے آقا کو سلام کرنے کے لئے قاصِد بھیجے۔لیکن وہ اُن پر جُھنُجلایا۔ 15 ۔ اَور اُن آدمیوں نے ہم سے نہایت نیکی کی۔ اَور ہمیں تکلِیف نہ دی۔ اَور سب دِن جب تک ہمارا اُن کے ساتھ برتاؤ رہا۔ ہماری کوئی چیز گُم نہ ہوئی۔ حالانکہ ہم بِیابان میں تھے۔ 16 ۔ اَور جب تک ہم اُن کے ساتھ بھیڑوں کو چراتے رہے وہ ہمارے لئے رات اَور دِن دِیوار کی طرح تھے۔ 17 ۔ اَب تُو سوچ لے اَور دیکھ کہ کیا کرے گی۔ کیونکہ ہمارے آقا پر اَور اُس کے سارے گھر پر بَلا نازِل ہونے والی ہے۔ اَور وہ تو خبِیث آدمی ہے۔ کہ کوئی اُس کے ساتھ بات کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ 18 ۔ تب ابیجیل نے جلدی کرکے دو سَو روٹیاں اَور مَے کے دو مشکیِزے اَور پانچ تیّار کی ہوئی بھیڑیں اَور بھُونے ہوئے اناج کے پانچ پیمانے اَور ایک سَو کشِمِش کے خُوشے اَور سُوکھے اِنجیروں کی دو سوٹکیاں لیں۔ اَور اُنہیں گدھوں پر لادا۔ 19 ۔ اَور اپنے خادِموں سے کہا تُم میرے آگے چلو اَور مَیں تُمہارے پیچھے پیچھے آتی ہوں۔ اَور اُس نے اپنے شوہر نابال کو خبر نہ کی 20 ۔ اَور جب وہ گدھے پر سوار ہو کر پہاڑ کے دامن میں آئی۔ تو داؤد اَور اُس کے آدمی اُس کے سامنے نیچے اُترے اَور وہ اُن سے مِلی 21 ۔ اَور داؤد نے کہا تھا۔ کہ مَیں نے اُس کی سب چیزوں کی جو بِیابان میں تھیں، بے فائدہ حِفاظت کی۔ کہ سب جو کُچھ اُس کا تھا اُس میں سے کوئی چیز گُم نہ ہوئی۔ تو اُس نے مُجھے نیکی کے عوِض بَدی کا بدلہ دِیا 22 ۔ خُدا داؤد سے ایسا ہی کرے بلکہ اِس سے زیادہ کرے اگر مَیں صُبح کی روشنی تک اُس کے سب کُچھ میں سے ایک بھی چھوڑُوں 23 ۔ جب ابیجیل نے داؤد کو دیکھا۔ تو فوراً اپنے گدھے پر سے اُتری اَور داؤد کے سامنے اپنے مُنہ کے بَل گری۔ اَور زمین پر سجدَہ کِیا 24 ۔ اَور اُس کے پاؤں پر گِر پڑی اَور کہا۔ اَے میرے آقا! یہ گُناہ مُجھ پر رکھّ۔ اپنی لونڈی کو اِجازت دے کہ تیرے کان میں بات کرے اَور تو اپنی لونڈی کی بات سُن۔ 25 ۔ میرا آقا اِس خبِیث مَرد نابال کا خیال نہ کرے۔ کیونکہ جیسا اُس کا نام ہے ویسا ہی وہ آپ ہے۔ اِس لئے کہ اُس کا نام نابال ہے اَور حماقت اُس کے ساتھ ہے۔ مگر تیری لونڈی نے میرے آقا کے خادِموں کو جو تُو نے بھیجے، نہ دیکھا۔ 26 ۔ اَور اَب اَے میرے آقا! زِندہ خُداوند کی قَسم اَور تیری جان کی قَسم۔ خُداوند نے تُجھے خُون بہانے سے اَور اپنے ہاتھ سے اپنا اِنتقام لینے سے روک رکھّا۔ پس تیرے سب دُشمن نابال کی طرح ہوں۔ اَور وہ سارے بھی جو میرے آقا کے بَدخواہ ہیں۔ 27 ۔ اب یہ ہدیہ جو تیری لونڈی اپنے آقا کے حضُور لائی ہے اُن جانوں کو جو میرے آقا کے خادم ہیں، دِیا جائے۔ 28 ۔ اَور تُو اپنی لونڈی کا گُناہ معاف کر کیونکہ خُداوند میرے آقا کے لئے ایک امانتدار گھر قائم کرے گا۔ اِس وجہ سے کہ میرا آقا خُداوند کی لڑائیاں لڑتاہے۔ اَور تیرے سارے دِنوں میں تُجھ میں کوئی بَدی نہ پائی گئی۔ 29 ۔ گو آدمی اُٹھا کہ تیرا پیچھا کرے اَور تیری جان کا خواہاں ہوا۔ لیکن میرے آقا کی جان خُداوند تیرے خُدا کے ساتھ زِندوں کے بُقچہ میں باندھی ہوئی ہے۔ اَور تیرے دُشمنوں کی جانوں کو وہ فلاخن کے پَلّہ سے پھینک دے گا۔ 30 ۔ اَور ایسا ہوگا۔ کہ جب خُداوند میرے آقا کے لئے وہ سب اچھّی باتیں کرے جو اُس نے تیرے حَق میں کہیں۔ اَور تُجھے اِسرائیل کا سر دار مُقرّر کرے۔ 31 ۔ تو یہ بات غم کا سبب اَور میرے آقا کے دِل کے لئے ٹھوکر کا باعِث نہ ہوگی۔ کہ تُونے بے سبب خُون بہایا۔ یا میرے آقا نے اپنی جان کا اِنتقام لِیا۔ اَور جب خُداوند میرے آقا سے نیکی کرے۔ تب تُو اپنی لونڈی کو یاد کرنا۔ 32 ۔ تب داؤد نے ابیجیل سے کہا خُداوند اِسرائیل کا خُدا مُبارَک ہو۔جس نے آج تُجھے میرے مِلنے کے لئے بھیجا۔ 33 ۔ تیری دانِشمندی مُبارَک ہو۔ اَور تُو آپ مُبارَک ہو۔ کہ آج کے دِن تُو نے مُجھے خُون بہانے سے اَور اپنی جان کا اِنتقام اپنے ہاتھ سے لینے سے روکا۔ 34 ۔ ورنہ زِندہ خُداوند اِسرائیل کے خُدا کی قََسم جس نے مُجھے تیرے ساتھ بَدی کرنے سے روکا۔ اگر تُو جلدی کرکے میرے مِلنے کو نہ آتی۔ تو صُبح کی روشنی تک نابال کا کوئی لڑکانہ بچتا۔ 35 ۔ اَور داؤد نے اُس کے ہاتھ سے جو کُچھ وہ لائی تھی لِیا۔ اَور اُس سے کہا۔ کہ سلامتی سے اپنے گھر کو چلی جا۔ دیکھ مَیں نے تیری سُنی اَور تیرے مُنہ کا لحاظ کِیا۔ 36 ۔ تب ابیجیل نابال کے پاس آئی اَور دیکھو۔ اُس نے اپنے گھر میں بادشاہوں کی ضِیافت کی مانند ضِیافت کی ہوئی تھی۔ اَور نابال کا دِل خُوِش تھا کیونکہ وہ بدمست تھا تو اُس نے اُسے صُبح کی روشنی تک کوئی چھوٹی یا بڑی بات نہ بتائی۔ 37 ۔ جب صُبح ہوئی۔ اَور اُسے نشے سے ہوش آئی۔ تو اُس کی بیوی نے اُسے یہ باتیں بتائیں تو اُس کا دِل اُس کے اندر بجُھ گیا۔ اَوروہ پتھّر کی مانند ہوگیا۔ 38 ۔ اَور قریبا ًدس دِن کے بعد خُداوند نے نابال کو مارا تو وہ مَرگیا۔ 39 ۔ جب داؤد نے نابال کی مَوت کی بابت سُنا تو کہا۔ مُبارَک ہو خُداوند جس نے نابال سے میری رُسوائی کا بدلہ لیِا۔ اَور اپنے بندے کے ہاتھ کو بَدی سے روکا۔ اَور خُداوند نے نابال کی شرارت کو اُسی کے سر پر ڈالا۔ اَور داؤد نے ابیجیل کو کہلا بھیجا کہ مَیں تُجھے اپنی بیوی بنا لُوںگا۔ 40 ۔ اَور داؤد کے خادِم ابیجیل کے پاس کرمِل میں آئے تو اُنہوں نے اُس سے کہا۔ کہ داؤد نے ہمیں تیرے پاس بھیجا ہے۔ تاکہ وہ تُجھے اپنی بیوی بنالے۔ 41 ۔ تب وہ اُٹھی۔ اَور زمین پر مُنہ کے بَل سجدَہ کِیا۔ اَور کہا۔ دیکھ تیری بندی تیری لونڈی ہے۔ کہ اپنے آقا کے خادِموں کے پاؤں دھوئے۔ 42 ۔ اَور ابیجیل نے جلدی کی اَور اُٹھی اَور گدھے پر سَوار ہوئی۔ اَور اُس نے پانچ لونڈیاں لیِں کہ اُس کے ساتھ چلیں۔ اَور وہ داؤد کے قاصِدوں کے پیچھے پیچھے گئی ۔ اَور اُس کی بیوی بنی ۔ 43 ۔ اَور داؤد نے یزر عیل سے اَخینوعم کو بھی اپنی بیوی بنایا۔ چُنانچہ یہ دونوں اُس کی بیویاں ہوئیں۔ 44 ۔ لیکن ساؤل نے اپنی بیٹی میِکل جو داؤد کی بیوی تھی، جلیم کے فلطی بِن لیس کو دے دی تھی۔