1 ۔ ساؤل کا نوب سے اِنتِقام اَور داؤد وہاں سے روانہ ہوا۔ اَور عدلام کے غار کو بھاگ گیا۔ جب اُس کے بھائیوں اَور اُس کے باپ کے سارے گھرانے نے سُنا۔ تو وہاں پر اُس کے پاس گئے۔ 2 ۔ اَور سارے کنگال اَور سب جو قرضدار تھے اَور سب جو جان کی تلخی میں تھے اُس کے پاس اِکٹھّے ہوئے۔ اَور اُسے اپنا سردار بنایا۔ اَور اُس کے ساتھ قریباً چار سو آدمی ہوگئے۔ 3 ۔ اَور وہاں سے داؤد موآب کے مِصفاہ کو گیا۔ اَور موآب کے بادشاہ سے کہا۔ کہ میرے باپ اَور میری ماں کو اپنے پاس رہنے دے جب تک کہ مَیں نہ دیکھوں کہ خُدا میرے لئے کیا کرتا ہے۔ 4 ۔اَور وہ اُنہیں موآب کے بادشاہ کے پاس لایا۔ اَور وہ اُس کے پاس کُل ایّام رہے جب تک کہ داؤد قِلعہ میں رہا۔ 5 ۔ اَور جادنبی نے داؤد سے کہا۔ کہ قِلعَہ میں نہ رہ۔ روانہ ہو اَور یہوداہ کی سَر زمین میں جا۔ تو داؤد وہاں سے روانہ ہوا۔ اَور حارت کے جنگل میں داخِل ہوا۔ 6 ۔اَور ساؤل نے سُنا۔ کہ داؤد اَور اُن آدمیوں کا جو اُس کے ساتھ ہیں، پتہ لگ گیا ہے۔ اُس وقت ساؤل رامہ میں جھاؤکے درخت کے نیچے جبعہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اَور اُس کا نیزہ اُس کے ہاتھ میں تھا۔ اَور اُس کے سب خادِم اُس کے سامنے کھڑے تھے۔ 7 ۔ تو ساؤل نے اپنے تمام خادِموں سے جو اُس کے آگے کھڑے تھے۔ کہا۔ اَے بِنیمیِن کی اولاد سُنو۔ کیا یِسّی کا بیٹا تُم کو کھیت یا انگُورستان دے گا؟ یا تُم سبھوں کو ہزاروں کے سردار اَور سینکڑوں کے سردار مُقرّر کرے گا؟ 8 ۔ کہ تُم سب میری مُخالفِت کرتے ہو۔ اَور تُم میں کوئی نہیں جو مُجھے بتائے۔ کہ میرے بیٹے نے یِسّی کے بیٹے کے ساتھ کیا عہد کِیا۔ اَور تُم میں کوئی نہیں جو میرا درد مند ہو۔ اَور مُجھے خبر دے۔ کہ میرے بیٹے نے میرے خادِم کو میرے خلاف برانگیختہ کِیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ میرے لئے گھات میں ہے۔ جیسا کہ تُم آج دیکھتے ہو۔ 9 ۔ تب دوئیگ اِدومی نے جو ساؤل کے خادِموں کے پاس کھڑا تھا۔ جَواب میں کہا کہ مَیں نے یِسّی کے بیٹے کو نوب میں اخیملک بِن اخیطوب کے پاس دیکھا۔ 10 ۔ اَور اُس نے خُداوند سے اُس کے لئے سوال پُوچھا اَوراُسے روٹی دی۔ اَور فِلستی جاتی جُولیت کی تلوار اُس کے حوالے کی۔ 11 ۔ تب بادشاہ نے آدمی بھیج کر کاہن اخیملک بِن اخیطوب کو اَور اُس کے باپ کے گھرانے کے سب کاہنوں کو جو نوب میں تھے، بُلایا۔ تو وہ سب بادشاہ کے پاس آئے۔ 12 ۔ تو ساؤل نے کہا۔ اَے اخیطوب کے بیٹے سُن۔ وہ بولا۔ اَے میرے آقا مَیں حاضر ہوں۔ 13 ۔ تو ساؤل نے اُس سے کہا۔ کہ تُو اَور یِسّی کا بیٹا کیوں میری مُخالفِت کرتے ہو؟ تُو نے اُس کو روٹی اَور تلوار دی۔ اَور تُو نے اُس کے لئے خُدا سے پُوچھا۔ کہ وہ میرے خلاف اُٹھے۔ اَور میرے لئے کمِین لگائے جیسا کہ تُو آج کے دِن دیکھتا ہے۔ 14 ۔ اخیملک نے بادشاہ سے جَواب میں کہا۔ کہ تیرے سارے خادِموں میں سے داؤد بادشاہ کے داماد جیسا کون امانتدار ہے۔ جو تیری فرمانبرداری میں تیاّر اَور تیرے گھر میں معزّز ہے۔ 15 ۔ کیا مَیں نے اُس کے لئے خُدا سے آج سوال کرنا شرُوع کِیا؟ یہ مُجھ سے دُورہو۔ بادشاہ اپنے خادِم کی بابت اَور میرے باپ کے گھرانے کی بابت کوئی بَدگمُانی نہ کرے۔ کیونکہ تیرا خادِم اِس اَمر کے مُتعلق تھوڑا یا بُہت کُچھ نہیں جانتا ہے۔ 16 ۔ تب بادشاہ نے کہا تُو ضرُور مَرے گا۔ اَے اَخیملک! تُواَور تیرے باپ کا سارا گھرانہ۔ 17 ۔ پِھر بادشاہ نے سپاہیوں سے جو اُس کے سامنے کھڑے تھے کہا۔ پھِرو اَور خُداوند کے کاہنوں کو قتل کرو۔ کیونکہ اُن کے ہاتھ بھی داؤدکے ساتھ ہیں۔ اُنہیں معلُوم تھا۔ کہ وہ بھاگا ہوا ہے اَور مُجھے خبر نہ کی۔ مگر بادشاہ کے خادِموں نے نہ چاہا۔ کہ اپنے ہاتھ خُداوند کے کاہنوں کے خلاف اُٹھائیں۔ 18 ۔ تب بادشاہ نے دوئیگ سے کہا۔ تُو مُڑ اَور کاہنوں پر حملہ کر۔پس دو ئیگ ِدومی آگے آیا اَور کاہنوں پر حملہ کِیا۔ اَور پچاسی آدمیوں کو جو کتان کی افود پہنے ہوئے تھے۔ اُس روز قتل کیِا۔ 19 ۔ پِھر اُس نے کاہنوں کے شہر نوب کو تلوار کی دھار سے مارا۔ آدمیوں اَور عورتوں اَور بچّوں اَور شیِرخواروں اَور بَیلوں اَور گدھوں اَور بھیڑ بکریوں کو تلوار کی دھار سے۔ 20 ۔ مگر اخیملک بِن اخیطوب کا ایک بیٹا جس کا نام اِبی یاتر تھا، بچ گیا۔ اَور وہ داؤد کے پاس بھاگ گیا۔ 21 ۔ اَور اِبی یاتر نے داؤد کو خبر دی کہ ساؤل نے خُداوند کے کاہنوں کو قتل کردِیا ہے۔ 22 ۔ تو داؤد نے ابی یاترسے کہا۔ جب دوئیگ اِدومی وہاں تھا۔ تو مَیں نے اُسی روز جان لِیا تھا۔ کہ وہ ساؤل کو خبر دے گا۔ لہٰذا مَیں ہی تیرے باپ کے گھرانے کی ساری جانوں کی مَوت کا سبب ہوا ہوں۔ 23 ۔ اِس لئے تُو میرے ساتھ رہ اَور مت ڈر کیونکہ جو میری جان کا خواہاں ہے۔ وہی تیری جان کا خواہاں ہے۔پس تُو میرے ساتھ سلامتی میں رہے گا۔