1 ۔ داؤد اَورظہور کی روٹی اَور داؤد نوب میں اخیملک کاہن کے پاس آیا۔ اَور اَخیملک کانپتا ہوا داؤد کے اِستِقبال کے لئے آیا۔ اَور اُس سے کہا۔ کہ تُوکیوں اکیلا ہے؟ اَور تیرے ساتھ کوئی نہیں۔ 2 ۔ تو داؤد نے اَخیملک کاہن سے کہا۔ کہ بادشاہ نے مُجھے ایک کام کرنے کا حُکم دِیا۔ اَور جو حُکم تُجھے دیتا ہوں۔ اُسے کوئی نہ جانے۔ اَور نوکروں کو مَیں نے فلاں جگہ پر بٹھایا ہے۔ 3 ۔ اَور اِس وقت تیرے ہاتھ میں کِیا ہے۔ مُجھے پانچ روٹیاں دے۔ یا جو کُچھ موجُود ہے۔ 4 ۔ تو کاہن نے جَواب دِیا اَور داؤد سے کہا۔ کہ میرے پاس عام روٹی نہیں مگر پاک روٹی ہے۔ بشرطِیکہ اُن جوانوں نے اپنے آپ کو عورتوں سے بچایا ہو؟ 5 ۔ تو داؤد نے کاہن کو جَواب دِیا کہ کَل اَور پرسوں ہمارے نِکلنے کے وقت سے عورتیں ہم سے دُور رہی ہیں۔ اَور جوانوں کے برتن پاک تھے۔ اگرچہ ہمارا سفر معمولی تھا۔ اَور آج ضرُور برتنوں میں پاک ہوں گے۔ 6 ۔ تو کاہن نے اُسے پاک روٹی دی۔ کیونکہ وہاں اَور روٹی موجُود نہ تھی۔ سِوائے اُس روٹی کے جو خُداوند کے سامنے سے اُٹھائی گئی تھی۔ تاکہ اُٹھانے کے دِن اُس کی جگہ گرم روٹی رکھّی جائے۔ 7 ۔ اَور اُس دِن وہاں پر ساؤل کے خادِموں میں سے ایک آدمی خُداوند کے حضُوررُکا ہوا تھا جس کا نام دوئیگ ادومی تھا۔ اَور وہ ساؤل کے چرواہوں میں بڑا تھا۔ 8 ۔ اَور داؤد نے اخیملک سے کہا۔ کہ کیا تیرے پاس کوئی نیزہ یا تلوار نہیں؟ کیونکہ مَیں اپنی تلوار اَور اپنے ہتھیار نہیں لایا۔ کیونکہ بادشاہ کا حُکم جلدی کرنے کا تھا۔ 9 ۔ تو کاہن نے کہا۔ کہ یہاں پر جاتی جُولیت فلِسِتی کی تلوار ہے۔ جِسے تُو نے ایلہ کی وادی میں قتل کِیا ۔ اَور وہ کپڑے میں لپٹی ہوئی افود کے پیچھے پڑی ہے۔ اگر تُو چاہے تو اُسے لے۔ کیونکہ اُس کے سِوا اَور یہاں کوئی نہیں ہے۔ داؤد نے کہا میرے لئے اُس جیسی تو کوئی ہے ہی نہیں وہی مُجھے دے۔ 10 ۔ اَور داؤد اُٹھا۔ اَور اُسی دِن ساؤل کے سامنے سے بھاگا۔ اَور جات کے بادشاہ اکیس کے پاس آیا۔ 11 ۔ اکیس کے خادِموں نے کہا۔ کیایہی داؤد مُلک کا بادشاہ نہیں۔ کیا اِسی کی بابت عورتوں نے ناچتے ہوئے نہ کہا؟ کہ ساؤل نے مارا ہزاروں کو داؤد نے مارا لاکھوں کو 12 ۔ اَور داؤد نے یہ بات اپنے دِل میں رکھّی۔ اَور جات کے بادشاہ اکیس سے بُہت ڈرا۔ 13 ۔ تو اُس نے اُن کے آگے اپنا چہرہ بدلا۔ اَور اپنے آپ کو دِیوانہ بنایا۔ اَور پھاٹک کے کواڑوں پر کھُرچنے لگا۔ اَور اپنا تھُوک اپنی داڑھی پر بہانے لگا۔ 14 ۔ تب اکیس نے اپنے خادِموں سے کہا۔ تُم دیکھتے ہو کہ یہ آدمی دِیوانہ ہے۔ تُم کیوں اُسے میرے پاس لائے؟ 15 ۔ کیا ہمارے پاس تھوڑے پاگل ہیں کہ تُم اُسے لائے تاکہ وہ میرے سامنے پاگل پن کرے؟ کیا یہ آدمی میرے گھر میں آنے پائے گا؟