باب

1 ۔ داؤد اَور یونتن پِھر داؤدرامہ کے نیوت سے بھاگا۔ اَور یونتن کے پاس آکر کہا مَیں نے کیا کِیا ہے؟ میرا کیا گُناہ ہے اَور تیرے باپ کے نزدِیک میرا کیا جُرم ہے؟ کہ وہ میری جان کا خواہاں ہے۔ 2 ۔ یونتن نے کہا۔ خُدا نہ کرے! تُو نہیں مارا جائے گا۔ دیکھ میرا باپ کوئی بڑا یا چھوٹا کام نہیں کرتا۔ جو مُجھ پر ظاہر نہ کرے۔ تو میرا باپ یہ بات مُجھ سے کیسے چُھپائے گا۔ ایسا نہیں ہوگا۔ 3 ۔ اَور داؤد نے پِھر قَسم کھا کر کہا۔ تیرا باپ جانتا ہے کہ مَیں تیرا منظُورِ نظر ہوں۔ تو اُس نے کہا۔ کہ یہ بات یونتن نہ جانے تاکہ وہ غمگِین نہ ہو۔لیکن زِندہ خُداوند اَور تیری جان کی قَسم کہ میرے اَور مَوت کے درمیان صِرف ایک ہی قدم کا فاصلہ ہے۔ 4 ۔ یونتن نے داؤد سے کہا۔ جو کُچھ تیرا جی چاہے مَیں وہ تیرے لئے کرُوں گا۔ 5 ۔ تو داؤد نے یونتن سے کہا۔ کہ کَل نیا چاند ہے اَور لازِم ہے۔ کہ مَیں بادشاہ کے سامنے کھانے کے لئے بیٹھُوں۔پس تُو مُجھے جانے دے۔ کہ مَیں جنگل میں تیسرے دِن کی شام تک چُھپارہوں۔ 6 ۔ اِس لئے اگر تیرا باپ میری بابت دریافت کرے۔ تو اُس سے کہنا۔ کہ داؤد نے اپنے شہر بَیت لحم میں جانے کے لئے بضد ہوکر مُجھ سے اِجازت لی۔ کیونکہ وہاں اُس کے سارے گھرانے کی سالانہ قُربانی ہے۔ 7 ۔ تو اگر وہ بولے اچھّا ہے تب تیرے خادِم کی سلامتی ہے۔ اَور اگر وہ غُصّے میں آجائے۔ تو جان لے۔ کہ اُس کی طرف سے بَدی اِنتہا کو پُہنچ گئی ہے۔ 8 ۔ پس تُو اپنے خادِم پر یہ مہربانی کر۔ کیونکہ تُو نے اپنے خادِم کے ساتھ خُداوند کا عہد کِیا۔ اَور اگر مُجھ میں کُچھ بَدی ہے تو تُو آپ مُجھے قتل کر۔ تُو مُجھے اپنے باپ کے پاس کیوں پُہنچائے؟ 9 ۔ یونتن نے کہا۔ تُجھ سے یہ دُور ہو۔ اگر مَیں جانتا۔ کہ میرے باپ کی طرف سے تیرے خلاف بَدی اِنتہا کو پہنچ گئی ہے۔ تو کیا مَیں تُجھے خبر نہ کرتا؟ 10 ۔ داؤد نے یونتن سے کہا۔ اگر تیرا باپ تُجھے سخت جَواب دے تو مُجھے کون خبر دے گا؟ 11 ۔ یونتن نے داؤد سے کہا۔ آؤ باہر میدان میں چلیں چُنانچہ وہ دونوں میدان کو گئے۔ 12 ۔ اَور یونتن نے داؤد سے کہا۔ خُداوند اِسرائیل کا خُدا گَواہ ہے۔ کہ اگر مَیں اپنے باپ کے دِل کا حال جاننے کے بعد کَل کے روز یا پرسوں اِسی گھڑی کے قریب سمجھُوں۔ کہ داؤد کے لئے سلامتی ہے۔ اَور اُسی وقت اُس کے پاس بھیج کر خبر نہ دُوں۔ 13 ۔ تو خُداوند یونتن سے ایسا ہی کرے۔ اَور اُس سے زِیادہ کرے۔ اَور اگر میرا باپ تیرے ساتھ بَدی کرنے کو ہو۔ تو بھی مَیں تُجھے خبردُوں گا۔ اَور تُجھے روانہ کرُوںگا۔ کہ تُو سلامتی سے چلاجائے۔ اَور خُداوند تیرے ساتھ ہو جیسا کہ میرے باپ کے ساتھ تھا۔ 14 ۔ اَور اگر مَیں زِندہ رہوں تو کیا تُو مُجھ پر خُداوند کی مہربانی نہ کرے گا؟ لیکن اگر مَیں مَر جاوُں۔ 15 ۔ تو اپنی مہربانی میرے گھرانے پر سے کبھی قطع نہ کرنا اَور نہ اُس وقت ہی جب خُداوند نے داؤد کے سب دُشمنوں میں سے ہر ایک کو رُوئے زمین پر سے ہلاک کردِیا ہوگا۔ 16 ۔ تب یونتن کا داؤد کے گھرانے کے ساتھ کا عہد قائم رہے۔ ورنہ خُداوند داؤد سے مُطالبہ کرے۔ 17 ۔ اَور یونتن نے اپنی مُحبّت کے باعِث داؤد سے پِھر َقَسم کھائی۔ کیونکہ وہ اُسے اپنی جان کی طرح پیار کرتا تھا۔ 18 ۔ پِھر یونتن نے کہا۔ کَل نیا چاند ہے۔ اَور تُو غیر حاضِر پایا جائے گا۔ 19 ۔ کیونکہ تیری جگہ خالی ہوگی۔ اَور دُوسرے دِن تیری زیادہ تلاش ہوگی اَور جس روز کام کرنا جائز ہے تُو جلد اُس جگہ آجانا جہاں تجھے چُھپناہے اَور پتھّروں کے اِس ڈھیر کے کنارہ کے نزدِیک بیٹھ۔ 20 ۔ اَور مَیں اُس کی طرف تین تیر چلاوُں گا۔ گویا کہ مَیں نشانہ مارتا ہوں۔ 21 ۔ تب مَیں لڑکے کو بھیجُوںگا۔ کہ تیر اُٹھا لائے۔پس اگر مَیں لڑکے سے کہوں کہ تیر تیرے پیچھے ہیں اُنہیں اُٹھا تو تُو میرے پاس آجانا۔ کیونکہ تیرے لئے سلامتی ہے۔ اَور تیرے خلاف کُچھ نہیں۔ زندہ خُداوند کی قَسم۔ 22 ۔ اَور اگر مَیں لڑکے سے کہوں۔ تِیر تیرے آگے کو ہیں۔ تو تُو چلے جانا۔ کیونکہ خُداوند نے تُجھے روانہ کِیا۔ 23 ۔ لیکن وہ بات جو مَیں نے اَور تُو نے آپس میں کہی۔ سو دیکھ میرے اَور تیرے درمیان خُداوند اَبد تک گَواہ ہے۔ 24 ۔ پس داؤد کھیت میں جا چُھپا۔ جب نیا چاند ہوا بادشاہ کھانے کے لئے بیٹھا۔ 25 ۔ اَور بادشاہ دستُور کے مُوافقِ دِیوار کے نزدِیک کی چوکی پر بیٹھا اَور یونتن بادشاہ کے سامنے۔ اَور ابنیر ساؤل کے پہلو میں بیٹھا۔ اَور داؤد کی جگہ خالی رہی۔ 26 ۔ اَور اُس روز ساؤل کُچھ نہ بولا۔ کیونکہ اُس نے اپنے دِل میں کہا۔ کہ شاید اُس پر کوئی عارضہ ہوا ہے۔ شاید وہ ناپاک ہے۔ یقیناً وہ پاک نہیں۔ 27 ۔ اَور نئے چاند کے دُوسرے دِن یُوں ہوا۔ تو داؤد کی جگہ پِھر خالی رہی۔ تب ساؤل نے اپنے بیٹے یونتن سے کہا کہ یِسّی کا بیٹا کھانے کے لئے کیوں نہیں آیا؟ نہ کَل اَور نہ آج۔ 28 ۔ یونتن نے ساؤل کو جَواب دِیا۔ کہ اُس نے بَیت لحم جانے کے لئے مُجھ سے اِجازت مانگی۔ 29 ۔ اَور کہا مُجھے جانے دے کیونکہ شہر میں ہمارے سارے گھرانے کا ذَبیحہ ہے۔ اَور میرے بھائی نے مُجھے حُکم دِیا۔ کہ وہاں آوُں۔ اَب اگر تیری مُجھ پر مہربانی کی نظر ہے۔ تو مَیں جاوُں گا۔ اَور اپنے بھائیوں کو دیکھوںگا۔ اِس سبب سے وہ بادشاہ کے دسترخوان پر حاضِر نہیں۔ 30 ۔ تب ساؤل یونتن پر غضبناک ہوا۔ اَور کہا۔ اَے کج رَو باغیہ کے بیٹے ! کیا مَیں نہیں جانتا کہ تُو اپنی ذِلّت اَور اپنی ماں کی برہنگی کی رُسوائی کے لئے یِسّی کے بیٹے کی طرف داری کرتا ہے؟ 31 ۔ کیونکہ جب تک یِسّی کا بیٹا زمین پر زِندہ ہے۔ نہ تُجھے اَور نہ تیری مَملُکَت کو قیام ہوگا۔ اَب کِسی کو بھیج اَور اُسے میرے پاس لا۔ کیونکہ وہ مَوت کا سزاوار ہے۔ 32 ۔ تو یونتن نے اپنے باپ سے جَواب میں کہا۔ کہ وہ کیوں مارا جائے اُ س نے کیا کِیا ہے؟ 33 ۔ تب ساؤل نے نیزہ اُٹھایا۔ کہ یونتن کو مارے۔ تو یونتن نے سمجھ لِیا کہ اُس کے باپ نے داؤد کو قتل کرنے کا پُختہ اِرادہ کرلیِا ہے۔ 34 ۔ لہٰذا یونتن سخت غُصّے میں دسترخوان پر سے اُٹھ گیا۔ اَور داؤد کے لئے غمگِین ہونے کے سبب اُس نے نئے چاند کے اُس دُوسرے دِن کھانا نہ کھایا۔ کیونکہ اُس کے باپ نے اُسے شرمنِدہ کِیا۔ 35 ۔ اَور صُبح کو یونتن اُس وقت میدان کو گیا جو داؤد کے ساتھ مُقرّر کِیا ہوا تھا۔ اَور اُس کے ساتھ ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ 36 ۔ تو اُس نے لڑکے سے کہا۔ دوڑ اَور جو تیر میں چلاتا ہوں اُٹھالا۔ تو اُس نے تیر چلایا۔ جو اُس سے آگے گیا۔ 37 ۔ جب وہ لڑکا اُس تیر کی جگہ پر پُہنچا۔ جو یونتن نے چلایا تھا۔ تو یونتن نے چِلّاکر لڑکے سے کہا۔ کہ تیر تیرے آگے ہے۔ 38 ۔ اَور یونتن نے پِھر چِلّا کر لڑکے سے کہا تیز جا جلدی کر ٹھہر مت۔ تو لڑکے نے یونتن کے تیراُٹھائے اَور اپنے آقا کے پاس واپس آیا۔ 39 ۔ اَور لڑکے نے کُچھ نہ جانا۔ کیونکہ صرِف یونتن اَور داؤد اِس بھید کو جانتے تھے۔ 40 ۔ تب یونتن نے اپنے ہتھیار لڑکے کو دیئے۔ اَور اُس سے کہا۔ جا اَور اُنہیں شہر کو لے جا۔ 41 ۔ جُونہی وہ لڑکا چلا گیا۔ داؤد پتھّروں کے ڈھیر کے پاس سے نِکلا اَور اپنے مُنہ کے بَل زمین پر گِرا اَور تین دفعہ زمین تک سر جُھکایا۔ اَور اُن دونوں نے ایک دُوسرے کو چُوما۔ اَور دونوں ایک دُوسرے پر روئے اَور داؤد کا رونا بُہت زیادہ تھا۔ 42 ۔ اَور یونتن نے داؤد سے کہا۔ سلامتی سے چلا جا۔ یقینا ہم نے خُداوند کے نام سے قَسم کھائی اَور کہا۔ کہ میرے اَور تیرے درمیان اَور میری نسل اَور تیری نسل کے درمیان اَبد تک خُداوند گَواہ ہو۔ تب داؤد اُٹھا اَور چلا گیا۔ اَور یونتن شہر میں آیا۔