باب

1 ۔ داؤد سموئیل کے پاس پناہ گِیر اَور ساؤل نے اپنے بیٹے یونتن اَور اپنے سب مُلازِموں سے داؤد کے قتل کی باتیں کِیں۔ اَور ساؤل کا بیٹا یونتن داؤد کو بُہت پیار کرتا تھا۔ 2 ۔ لہٰذا یونتن نے داؤد کو خبردی اَور کہا۔ کہ میرا باپ ساؤل تُجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔اِس لئے کَل سے تُو اپنی خبر داری کر۔اَور کِسی پوشِیدہ مقام میں ٹھہر اَور چھُپارہ۔ 3 ۔ اَور مَیں باہر نِکل کر اُس کھیت میں جس میں تُو ہوگا۔ اپنے باپ کے پاس کھڑا ہوں گا۔ اَور تیری بابت اپنے باپ سے گفتگُو کرُوںگا۔ اَور جو کُچھ معلُوم کرُوں تُجھے بتاوُں گا۔ 4 ۔ اَور یونتن نے اپنے باپ ساؤل کے سامنے داؤد کی نیکی کا ذِکر کِیا۔ اَور کہا۔ کہ بادشاہ اپنے خادِم داؤد سے بَدی نہ کرے۔ کیونکہ اُس نے تیرا کوئی گُناہ نہیں کِیا۔ بلکہ اُس کے کام تیرے واسطے بُہت اچھّے ہیں۔ 5 ۔ کیونکہ اُس نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھّی۔ اَور فِلستی کو قتل کِیا۔ تو خُداوند نے تمام اِسرائیل کو بڑی رِہائی بخشی۔ اَور تُو نے دیکھا اَور خُوش ہوا۔ تو کِس لئے تُو بے گُناہ خُون سے بَدی کرنا چاہتا ہے؟ 6 ۔ تو ساؤل نے یونتن کی بات سُنی اَور قَسم کھائی اَور کہا۔ کہ زِندہ خُداوند کی قَسم۔ وہ قتل نہ کِیا جائے گا۔ 7 ۔ تب یونتن نے داؤد کو بُلایا۔ اَور ساری بات کی اُسے خبر دی۔ اَور یونتن داؤد کو ساؤل کے پاس لایا۔ تو وہ پہلے کی طرح اُس کے سامنے رہنے لگا۔ 8 ۔ اَور جب جنگ پِھر شرُوع ہوئی۔ تو داؤد نِکلااَور فلستیوں سے لڑا۔ اَور اُنہیں بڑی مار ماری۔ تو وہ اُس کے سامنے سے بھاگے۔ 9 ۔ اَور خُداوند کی طرف سے بَدرُوح ساؤل پر چڑھی۔ اَور وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں نیزہ تھا اَور داؤد اپنے ہاتھ سے بربط بجا رہا تھا۔ 10 ۔ تو ساؤل نے ارادہ کِیا۔ کہ نیزے سے داؤد کو دِیوار کے ساتھ چھیددے۔ لیکن داؤد ساؤل کے سامنے سے ہٹ گیا۔ اَور نیزہ دِیوار میں جا گھُسا اَور داؤد بھاگا اَور بچ گیا۔ اَور یُوں ہوا کہ اُسی رات۔ 11 ۔ ساؤل نے داؤدکے گھر پر اپنے پَہرہ دار بھیجے۔ کہ اُس کی چوکیداری کریں تاکہ صُبح کو وہ قتل کیِا جائے۔ تو داؤد کی بیوی میِکل نے اُسے خبر دے کر کہا۔ اگر تُو اِس رات میں اپنی جان نہ بچائے توکَل تُو مارا جائے گا۔ 12 ۔ اَور میِکل نے اُسے کھڑکی سے نیچے لٹکادِیا۔ پس وہ بھاگا اَور بچ گیا۔ 13 ۔ تب میِکل نے پُتلالِیا اَور پلنگ پر لٹادِیا۔ اَور بکری کی کھال اُس کے سر کے نیچے رکھّی۔ اَور چادر سے ڈھانپ دِیا۔ 14 ۔ اَور ساؤل نے داؤد کے پکڑنے کو عہدے دار بھیجے۔ تو یہ بولی۔ کہ وہ بیمار ہے۔ 15 ۔ اَور ساؤل نے پِھر قاصد بھیجے۔ کہ داؤد کو دیکھیں اَور کہا۔ کہ اُسے پلنگ ہی پر میرے پاس اُٹھا لاؤ تا کہ مَیں اُسے قتل کرُوں۔ 16 ۔ تب ساؤل کے قاصد آئے۔ تو دیکھو پلنگ پرپُتلا تھا۔ اَور اُس کے سر کے نیچے بکری کی کھال تھی۔ 17 ۔ تو ساؤل نے میِکل سے کہا۔ تُو نے کیوں مُجھ سے فریب کِیا۔ اَور میرے دُشمن کو جانے دِیا۔ کہ وہ بچ گیا۔ تو میِکل نے ساؤل سے کہا۔ اُس نے مُجھ سے کہاکہ مُجھے جانے دے۔ مَیں کیوں تُجھے قتل کرُوں ؟ 18 ۔ اَور داؤد بھاگا اَور بچ رہا۔ اَور رامہ میں سمُوئیل کے پاس آیا۔ اَور سب کُچھ جو ساؤل نے اُس سے کِیا تھا ، اُسے بتایا۔ تووہ اَور سمُوئیل روانہ ہوئے اَور نیوت میں جارہے۔ 19 ۔ اَور ساؤل کو خبر پُہنچی اَور اُسے کہا گیا۔ کہ داؤد رامہ کے نیوت میں ہے۔ 20 ۔ تو ساؤل نے داؤد کو پکڑنے کے لئے قاصد بھیجے۔ تو اُنہوں نے نبیوں کا ایک گروہ دیکھا۔ جو نبُوّت کررہا ہے اَور سمُوئیل اُن کا رئیس بنا کھڑا ہے۔ توقاصدوں پر رُوحِ خُدا کانُزُول ہوا۔ اَور وہ بھی نبُوّت کرنے لگے۔ 21 ۔ جب ساؤل کو یہ خبر پہنچی۔ تو اُس نے اَورقاصد بھیجے۔ تو وہ بھی نبُوّت کرنے لگے۔ اَور ساؤل نے پِھر تیسری بار قاصد بھیجے۔ تو وہ بھی نبُوّت کرنے لگے۔ 22 ۔ تب وہ رامہ میں آپ گیا۔ اَور اُس بڑے کنوئیں تک جو سیکو میں ہے پُہنچا۔ اَور پُوچھا۔ کہ سمُوئیل اَور داؤد کہاں ہیں؟ تو اُنہوں نے کہا۔ کہ وہ رامہ کے نیوت میں ہیں۔ 23 ۔ تب ساؤل وہاں سے روانہ ہو کر رامہ کے نیوت میں آیا۔ اَورخدا کی رُوحِ اُس پر نازل ہوئی۔ تو وہ چلتا گیا۔ اَور نبُوّت کرتا تھا۔ یہاں تک کہ رامہ کے نیوت میں پُہنچا۔ 24 ۔ اَور اُس نے بھی اپنے کپڑے اُتار پھینکے اَور سمُوئیل کے سامنے نبُوّت کی۔ اَور وہ سارا دِن اَور ساری رات ننگا پڑا رہا۔ اِس لئے مثِل بن گئی کیا ساؤل بھی نبیوںمیں ہے؟