1 ۔ ساؤل کا داؤد سے حسد اَور جب داؤد ساؤل کے ساتھ کلام کرچُکا۔ یونتن کا دِل داؤد کے دِل سے مِل گیا۔ اَور یونتن اُس سے اپنے برابر پیار کرنے لگا۔ 2 ۔ اَور اُس دِن ساؤل نے اُسے اپنے پاس رکھّا۔ اَور اُس کے باپ کے گھر میں اُسے واپس جانے نہ دِیا۔ 3 ۔ اَور یونتن نے داؤد کے ساتھ عہد باندھا۔ کیونکہ وہ اُسے اپنی جان کی طرح پیار کرتاتھا۔ 4 ۔ اَور یونتن نے چوغہ جو پہنے ہوئے تھا ، اُتارا اَور داؤد کو زِرَہ کے ساتھ دِیا۔ یہاں تک کہ اپنی تلوار اَور اپنی کمان اَور اپنا کَمر بند بھی دِیا 5 ۔ اَور داؤد جہاں کہیں اُسے ساؤل بھیجتاتھا۔ دانِشمندی سے کام کرتا تھا۔ تو ساؤل نے اُسے سِپاہ کا سردار بنایا اَور وہ سب لوگوں اَور ساؤل کے مُلازِموں کا بھی منظُورِ نظر ہوا۔ 6 ۔ اَور یُوں ہوا۔ جب داؤد فِلستی کو قتل کر کے لَوٹا آرہا تھا۔ اَور وہ سب بھی آرہے تھے۔ تو اِسرائیل کے تمام شہروں کی عورتیں باہر نِکلیں اَور ساؤل بادشاہ کے اِستِقبال کے لئے گاتی اَور خنجریوں اَور خُوشی کے نعروں اَور بانسریوں کے ساتھ ناچتی تھیں۔ 7 ۔ تو عورتیں کھیلتی ہوئی یُوں گاتی تھیں۔ ساؤل نے مارا ہزاروں کو داؤد نے مارا لاکھوں کو۔ 8 ۔ تو ساؤل بُہت ناراض ہوا۔ اَور یہ بات اُس کی نظر میں بُری معلُوم ہوئی۔ اَور وہ بولا کہ اُنہوں نے داؤد کے لئے لاکھوں ٹھہرائے اَور میرے لئے ہزاروں۔پس بادشاہی کے سوا اُسے اَور کیا مِلنا باقی رہ گیا ہے؟ 9 ۔ اَور ساؤل اُس دِن سے لے کر آگے کو داؤد کو بُری نظر سے دیکھنے لگا۔ 10 ۔ اَور دُوسرے دِن ایسا ہوا۔ کہ خُدا کی طرف سے بَدرُوح نے ساؤل کو پکڑا۔ اَور وہ گھر کے اندر نبُوّت کرنے لگا اَور داؤد روز مرّہ کی طرح بربط بجاتاتھا۔ اَور ساؤل کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ 11 ۔ تو ساؤل یہ کہہ کر نیزہ پھینکنے لگا۔ مَیں داؤد کو دِیوار کے ساتھ چھیددُوں گا اَور داؤد اُس کے سامنے سے دو دفعہ ہٹ گیا۔ 12 ۔ تو ساؤل داؤد کے چہرے سے ڈرا کیونکہ خُداوند اُس کے ساتھ تھا۔ اَور ساؤل سے اُس نے مُنہ پھیر لِیا تھا۔ 13 ۔ تب ساؤل نے اُسے اپنے پاس سے جُدا کِیا۔ اَور ہزار جوانوں کا سردار بنایا۔ تو وہ لوگوں کے سامنے آیا جایا کرتا تھا۔ 14 ۔ اَور داؤد اپنی سب راہوں میں دانِشمندی سے چلتاتھا۔ اَور خُداوند اُس کے ساتھ تھا۔ 15 ۔ اَور ساؤل نے دیکھا کہ وہ بُہت دانِشمند ہے۔ تو اُس کے چہرے سے خوف کھانے لگا۔ 16 ۔ اَور تمام اِسرائیل اَور یہوداہ داؤد کو پیار کرتے تھے۔ کیونکہ وہ اُن کے آگے آیا جایا کرتا تھا۔ 17 ۔ تب ساؤل نے داؤد سے کہا۔ کہ دیکھ یہ میری بڑی بیٹی میرب ہے۔ مَیں اُسے تُجھے بیاہ دیتا ہوں۔ لیکن تُو میرے لئے بہادربن۔ اَور خُداوند کی لڑائیاں لڑ۔ کیونکہ ساؤل کہتا تھا۔ کہ میرا ہاتھ اُس پر نہ پڑے۔ بلکہ فلستیوںکا ہاتھ اُس پر پڑے۔ 18 ۔ تو داؤد نے ساؤل سے کہا۔ مَیں کون ہوں۔ اَور میری زِندگی اَور میرے باپ کا خاندان اِسرائیل میں کیا ہے؟ کہ مَیں بادشاہ کا داماد بنُوں۔ 19 ۔ اَور ایسا ہوا۔ کہ جس وقت ساؤل کی بیٹی میرب داؤد کے ساتھ بِیاہی جانے کو تھی۔ تو وہ عَدرِی ایل محولاتی کے ساتھ بِیاہی گئی۔ 20 ۔ اَور ساؤل کی بیٹی میِکل داؤد کو چاہتی تھی۔ اَور ساؤل کو خبردی گئی۔ تو یہ بات اُس کی نظر میں اچھّی لگی۔ 21 ۔ اَور ساؤل نے کہا۔ مَیں اُسے اُسی کو دُوںگا۔ تو وہ اُس کے لئے پھندا ہوگی۔ اَور فلستیوں کا ہاتھ اُس پر پڑے گا تو ساؤل نے داؤد سے کہا۔ دو باتوں سے تُو آج کے دِن میرا داماد بنے گا۔ 22 ۔ اَور ساؤل نے اپنے مُلازِموں کو حُکم دِیا۔ کہ داؤد کے ساتھ پوشِیدگی میں بات کریں۔ اَور کہیں کہ بادشاہ تُجھ سے خُوش ہے اَور اُس کے تمام مُلازِم تُجھے پیار کرتے ہیں۔ پس تُو بادشاہ کا داماد بن۔ 23 ۔ پس جب ساؤل کے مُلازِموں نے یہ بات داؤد کے کان میں کہی۔ تو داؤد نے کہا۔ کیا بادشاہ کا داماد بننا تُمہارے نزدِیک چھوٹی سی بات ہے حالانکہ مَیں غریب آدمی ہوں اور میری کچھ وقعت نہیں؟ 24 ۔ تو ساؤل کو اُس کے مُلازِموں نے خبردی اَور کہا کہ داؤد نے یُوں کہا ہے۔ 25 ۔ ساؤل نے کہا۔ تُم داؤد سے یُوں کہو۔ کہ بادشاہ کو مَہر کی خواہش نہیں۔ لیکن وہ بادشاہ کے دُشمنوں سے اِنتقام لینے کے لئے فلستیوں کی سو کھلڑیاں مانگتا ہے۔ اَور ساؤل کے دِل میں تھا کہ داؤد کو فلستیوں کے ہاتھ میں پکڑوا دے۔ 26 ۔ جب ساؤل کے مُلازِموں نے داؤد کو اِس بات کی خبر دی۔ تو داؤد کو یہ بات اچھّی معلُوم ہوئی۔ کہ اِس طرح بادشاہ کا داماد ہو۔ 27 ۔ اَور ابھی دِن پُورے نہ ہوئے تھے۔ کہ داؤد اُٹھا۔ اَور وہ اَور اُس کے آدمی گئے۔ اَور فلستیوں کے دو سو آدمی مارے۔ اَورداؤد اُن کی کھلڑیاں لایا اَور سب بادشاہ کے آگے رکھّ دِیں تاکہ اُس کا داماد بنے۔ تب ساؤل نے اپنی بیٹی میِکل اُس سے بِیاہ دی۔ 28 ۔ اَور ساؤل نے دیکھا اَور جاناکہ خُداوند داؤد کے ساتھ ہے۔ اَور ساؤل کی بیٹی میِکل اُس کو پسند کرتی تھی۔ 29 ۔ اَور ساؤل داؤد کے چہرے سے زیادہ ڈرنے لگا۔ اَور ساؤل ہمیشہ داؤد کا دُشمن رہا۔ 30 ۔ اَور فلستیوں کے سردار چلے گئے۔ اَور اُن کے چلے جانے کے وقت سے داؤد نے ساؤل کے تمام مُلازِموں کی نِسبت زیادہ دانِشمندی سے کام کِیا۔ اَور اُس کا نام بُہت مشہور ہوا۔