باب

1 ۔ داؤد اَورجاتی جُولیت اَور فلستیوں نے لڑائی کے لئے اپنی فوجیں جمع کِیں۔ اَور یہوداہ کے شوکہ شہر میں فراہم ہوئے۔ اَورشوکہ اَور عزیقہ کے درمیان افسدمیم کی سَرحد پر خَیمہ زن ہوئے۔ 2 ۔ اَور ساؤل اَور اِسرائیل کے آدمی جمع ہوئے۔ اَور ایلہ کی وادی میں ڈیرے لگائے۔ اَور فلستیوں کے ساتھ جنگ کرنے کو صف آرائی کی۔ 3 ۔ اَور فلِستیِی پہاڑ پر ایک طرف کھڑے ہوئے اَور اِسرائیلی پہاڑ پر دُوسری طرف کھڑے ہوئے۔ اَور اُن کے مابین ایک وادی تھی۔ 4 ۔ تب فلستیوں کے لشکر میں سے ایک جنگجُو مَرد نِکلا۔ وہ جات کا رہنے والا۔ اَور اُس کا نام جاتی جُولیت تھا۔ وہ چھ ہاتھ اَور ایک بالشِت لمبا تھا۔ 5 ۔ اُس کے سر پر پِیتل کا خُود تھا۔ اَور وہ میخوں والی زِرہ پہنے تھا۔ اَور زِرہ کاوزن پِیتل کے پانچ ہزار مثِقال تھا۔ 6 ۔ اَور اُس کی پنڈلیوں پر پِیتل کے بَکتر تھے۔ اَور اُس کے کندھوں کے درمیان پِیتل کا چاند تھا۔ 7 ۔ اَور اُس کے نیزے کی چھڑ جُلا ہے کے شہتیر کی طرح تھی۔ اَور اُس کے نیزے کے پھَل کا وزن لوہے کے چھ سو مثِقال تھا۔ اَور اُس کے سامنے ایک آدمی اُس کی ڈھال اُٹھائے ہوئے چلتا تھا۔ 8 ۔ پس وہ آکھڑا ہوا۔ اَور اِسرائیل کی صُفُوف کو للکارا اَور اُن سے کہا کہ تُم جنگ میں صف آرائی کرنے کو کیوں نِکلے ہو؟ کیا مَیں فِلستی نہیں ہوں۔ اَور تُم ساؤل کے خادِم؟ لہٰذا اپنے لئے تُم کِسی مَرد کو چنُو۔ جو میرے پاس اُتر آئے۔ 9 ۔ اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرنے کی طاقت رکھتاہو۔ اَور مُجھے قتل کرے۔ تو ہم تُمہارے غُلام ہوں گے۔ اَور اگر مَیں اُس پر غالِب آؤں اَور اُسے قتل کردُوں۔ تو تُم ہمارے غُلام ہوگے۔ اَور ہماری خدمت گُزاری کرو گے۔ 10 ۔ اَور وہ فِلستی بولا۔ مَیں نے آج کے دِن اِسرائیل کی فوجوں کو للکار کر کہا ہے۔ کہ میرے لئے کوئی مَرد بھیجُو جو میرا مُقابلہ کرے۔ 11 ۔ اَور ساؤل اَور تمام اِسرائیل نے فلِستی کا یہ کلام سُنا۔ تو کانپے اَور بُہت ڈر گئے۔ 12 ۔ اَور داؤد یہوداہ کے بَیت لحم کے افراتی مَرد کا بیٹا تھا جس کا نام یِسّی تھا۔ اَور اُس کے آٹھ بیٹے تھے۔ اَور وہ آدمی ساؤل کے زمانے میں بُوڑھا اَور آدمیوں کے درمیان بڑا تھا۔ 13 ۔ اَور اُس کے تین بڑے بیٹے گئے۔ اَور لڑائی میں ساؤل کے پیرَو ہوئے۔ اَور اُن تینوں بیٹوں کے نام جو لڑائی میں گئے یہ ہیں اِلیاب ۔ اَور وہ پہلوٹھا تھا۔ دوسرا اَبینداب اَور تیسرا سمّہ۔ 14 ۔ اَور داؤد سب سے چھوٹا تھا۔ تو تینوں بڑے ساؤل کے پیچھے گئے۔ 15 ۔ مگر داؤد بَیت لحم میں اپنے باپ کی بھیڑ بکریاں چرانے کو ساؤل کے پاس سے آیا جایا کرتا تھا۔ 16 ۔ اَور وہ فِلستی صُبح شام سامنے آیا کرتا تھا اَور چالیس دِن تک اپنے آپ کو پیش کرتا رہا 17 ۔ اَور یِسّی نے اپنے بیٹے داؤد سے کہا۔ کہ ایک ایفہ بھُونا ہوا اناج اَور یہ دس روٹیاں لے۔ اَور اپنے بھائیوں کے پاس لشکر گاہ میں جا۔ 18 ۔ اَور پنیر کی یہ دس ٹکیاں ہزاری سردار کے لئے لے جا۔ اَور اپنے بھائیوں کو دیکھ۔ کہ آیا وہ اچھّے ہیں۔ اَور اُن سے کوئی نِشانی لا۔ 19 ۔ اَور ساؤل اَور وہ اِسرائیل کے تمام آدمی ایلہ کی وادی میں فلستیوں سے جنگ کررہے تھے۔ 20 ۔ پس اگلے دِن داؤد صُبح کو اُٹھا۔ اَور بھیڑوں کو ایک نِگہبان کے سپُرد کِیا۔ اَور وہ چیزیں اُٹھا کر جیسے یِسّی نے اُسے حُکم دِیا تھا، چل پڑا۔ اَور لشکرگاہ میں آیا۔ اَور فوجیں صف آرائی کے لئے نکلیں اَور لڑائی کے لئے للکارتی تھیں۔ 21 ۔ اَور اِسرائیل اَور فلستیوں نے صف کے مُقابِل صف کرکے پرے باندھے تھے۔ 22 ۔ تو داؤد نے برتنوں کو جو اُس کے پاس تھے۔ اسباب کے نِگہبان کے پاس چھوڑا۔ اَور لشکر کی طرف دوڑا اَور آکر اپنے بھائیوں کی خیریّت کی بابت دریافت کِیا۔ 23 ۔ اَور جب وہ اُن سے بات کررہا تھا۔ تو دیکھو۔ وہ جنگجُو مَرد جاتی جُولیت نام جو جات کا رہنے والا تھا۔ فلستیوں کی صفوں سے نِکلا۔ اَور وہی باتیں اُس نے کہیں۔ اورداؤد نے سُنیں۔ 24 ۔ جب تمام بنی اِسرائیل نے اُس آدمی کو دیکھا تو اُس کے سامنے سے بھاگے اَور بُہت ڈر گئے۔ 25 ۔ تب اِسرائیل کے مَرد بولے۔ کیا تُم اِس جنگجُو آدمی کو دیکھتے ہو۔ جو نِکلا ہے تاکہ اِسرائیل کو رُسوا کرے ۔ جو کوئی اُسے قتل کرے گا۔بادشاہ اُسے بڑی دولت سے مالدار بنائے گا۔ اَور اپنی بیٹی اُسے بِیاہ دے گا۔ اَور اُس کے گھرانے کے لوگوں کو اِسرائیل کے درمیان آزاد کر دے گا۔ 26 ۔ اَور داؤد نے اُن لوگوں سے جو اُس کے ساتھ کھڑے تھے کہا کہ اُس آدمی کو کیِا دِیا جائے گا۔ جو اُس فلِستی کو قتل کرے۔ اَور یہ ننگ اِسرائیل سے مِٹائے۔ کیونکہ یہ نامختُون فِلستی کیا چیز ہے۔ جو زِندہ خُدا کے لشکروں کو ذلِیل کرے۔ 27 ۔ تو لوگوں نے وہ باتیں اُسے بتائیں اَور کہا۔ کہ جو اُسے قتل کرے گا۔ اُس کے ساتھ ایسا ایسا سلُوک کِیاجائے گا۔ 28 ۔ اَور اُس کے بڑے بھائی اِلیاب نے یہ باتیں جو وہ آدمیوں سے کررہا تھا۔ سُنیں۔ اَور اِلیاب کا غُصّہ داؤد پر بھڑکا۔ اَور اُس نے اُس سے کہا۔ تُویہاں کیوں آیا ہے اَور جنگل میں تُو نے تھوڑی سی بھیڑوں کو کِس کے پاس پیچھے چھوڑا ہے؟ مَیں تیری مغرُوری اَور تیرے دِل کی شرارت جانتا ہوں۔ تُو اِس لئے نیچے آیا ہے۔ تاکہ لڑائی دیکھے۔ 29 ۔ تو داؤد نے کہا۔ مَیں نے اَب کیا کِیا ہے۔ کیا مَیں بات بھی نہ کرُوں؟ 30 ۔ اَور وہ اُس کے پاس سے پِھر کے دُوسری طرف گیا۔ اَور پہلی بات ہی کہی تو لوگوں نے اُسے پہلے کی طرح جَواب دِیا۔ 31 ۔ تب وہ بات جو داؤد نے کہی تھی ۔ سُنی گئی اَورساؤل کے سامنے بیان کی گئی ۔ تو اُس نے اُسے بُلایا۔ 32 ۔ تب داؤد نے ساؤل سے کہا ۔ کہ اُس کے سبب سے میرے آقا کا دِل نہ گھبرائے ۔ کیونکہ تیرا خادِم جائے گا۔ اَور اُس فِلستی سے لڑے گا۔ 33 ۔ ساؤل نے داؤد سے کہا۔ تُجھ میں طاقت نہیں کہ اُس فلِستی کا مُقابلہ کرے اَور اُس کے ساتھ لڑے کیونکہ تُو لڑکا ہے۔ اَور وہ چھُٹپن سے جنگی مَرد ہے۔ 34 ۔ داؤد نے ساؤل سے کہا۔ کہ تیرا خادِم اپنے باپ کی بھیڑیں چراتا تھا۔ تو جب کوئی شیر یا ریچھ آکر گلے میں سے کوئی بکری لے جاتا۔ 35 ۔ تب مَیں اُس کے پیچھے نِکل کر اُسے مارتا۔ اَور اُسے اُس کے مُنہ سے چُھڑالیتا۔ اَور جب وہ مُجھ پر لپکتا تو مَیں اُسے ٹھوڑی سے پکڑ کر مارتا اَور اُسے ہلاک کردیتا تھا۔ 36 ۔ اِس طرح تیرے خادِم نے شیر اَور ریچھ کو مارا۔ پس یہ نامختُون فلِستی اُن میں سے ایک کی مانند ہوگا۔ کیونکہ اُس نے زِندہ خُداوند کے لشکروں کو ذلِیل کِیا ہے۔ 37 ۔ اَور داؤد نے کہا کہ خُداوند جس نے مُجھے شیر اَور ریچھ کے ہاتھ سے چُھڑایا وہی مُجھے فلِستی کے ہاتھ سے بچائے گا۔ تو ساؤل نے داؤد سے کہا۔ جا اَور خُداوند تیرے ساتھ ہو۔ 38 ۔ اَور ساؤل نے داؤد کو اپنے کپڑے پہنائے۔ اَور پِیتل کا خُود اُس کے سر پر رکھّا۔ اَور اُس کو زِرَہ بھی پہنائی۔ 39 ۔ اَور داؤدنے اپنی تلوار اپنے کپڑوں کے اُوپر باندھی اَور چلنے کی کوشِش کی مگر چل نہ سکا۔ کیونکہ وہ اُن کا عادی نہ تھا۔ تب داؤد نے ساؤل سے کہا۔ کہ مَیں اِن کے ساتھ چل نہیں سکتا۔ کیونکہ مَیں اِن کا عادی نہیں ہوں۔ لہٰذا داؤد نے اُنہیں اُتار دِیا۔ 40 ۔ تب اُس نے اپنی لاٹھی ہاتھ میں پکڑی۔ اَور وادی میں سے پانچ چِکنے پتھّر چُن لئے۔ اَور اُنہیں اپنے چروا ہے کے تھیلے میں یعنی توشہ دان میں ڈالا۔ اَور اُس کا فلاخن اُس کے ہاتھ میں تھا۔ اَور وہ فِلستی کی طرف نِکلا۔ 41 ۔ تب فلِستی آگے بڑھا۔ اَور داؤد کے نزدِیک آیا۔ اَور اُس کے آگے اُس کا سِپر بردار تھا۔ 42 ۔ اَور فلِستی نے اِدھر اُدھر نِگاہ کی تو داؤد کو دیکھا۔ اَور اُس کی حقارت کی۔ کیونکہ وہ محض سُرخ رنگ خُوش شکل لڑکا تھا۔ 43 ۔ تو فلِستی نے داؤد سے کہا۔ کیا مَیں کُتّا ہوں۔ کہ لاٹھی لے کر مُجھ پر آیا ہے؟ اَور داؤد نے جَواب میں کہا کہ نہیں تُو کُتّے سے بھی نِکماّ ہے۔ پِھر فلِستی نے اپنے معبُودوں کے نام لے کر داؤد پر لعنت کی۔ 44 ۔ تب فلِستی نے داؤد سے کہا۔ میرے پاس آ۔ کہ مَیں تیرا گوشت آسمان کے پرندوں اَور جنگل کے درندوں کو دُوں۔ 45 ۔ تب داؤد نے فلِستی سے کہا۔ کہ تُوتلوار اَور نیزہ اَور ڈھال لے کر میرے پاس آتا ہے اَور مَیں تیرے پاس ربُّ الافواج اِسرائیل کے لشکروں کے خُدا کے نام سے جِسے تُو نے ذلِیل کِیا ہے، آتا ہوں۔ 46 ۔ آج کے دِن خُداوند تُجھے میرے ہاتھ میں دے دے گا ۔ مَیں تُجھے قتل کرُوں گا۔ اَور تیرا سر تیرے کندھوں پر سے کاٹ ڈالُوں گا۔ اَور فلستیوں کے لشکر کی لاشیں ہوا کے پرندوں اَور جنگل کے دِرندوں کو دُوں گا تاکہ تمام دُنیا جانے کہ اِسرائیل میں خُدا ہے۔ 47 ۔ اَور یہ ساری جماعت جان لے گی۔ کہ خُداوند تلوار اَور نیزے کے ذریعے سے نہیں بچاتا۔ کیونکہ جنگ خُداوند کی ہے۔ اَور وہی تُمہیں ہمارے ہاتھوں میں دے دے گا۔ 48 49 ۔ اَور ایسا ہوا۔ کہ جب فلِستی اُٹھا اَور آگے بڑھا۔ اَور داؤد کے مُقابلہ کے لئے نزدِیک آیا۔ تو داؤد نے پھُرتی کی۔ اَور لڑائی کے لئے فِلستی کے مِلنے کو دوڑا۔ ۔ اَور داؤد نے اپناہاتھ تھیلے میں ڈالا۔ اَور ایک پتھّر لیا۔ اَور فلاخن سے مارا۔ تو وہ فلِستی کے ماتھے میں لگا۔ اَور پتَھّر ماتھے میں غرق ہوگیا تو وہ اپنے مُنہ کے بَل زمین پر گِرپڑا۔ 50 ۔ اَور داؤد نے فلِستی پر فلاخن اَور پتھّر سے فتح پائی۔ اَور فِلستی کو مارا اَور اُسے ہلاک کِیا۔ اَور داؤد کے ہاتھ میں تلوار نہ تھی۔ 51 ۔ تب داؤد دوڑا۔ اَور فلِستی کے اُوپر کھڑا ہوا۔ اَور اُس کی تلوار پکڑی اور مِیان سے کھینچی ۔ اَور اُسے قتل کِیا۔اَور اُس سے اُس کا سر کاٹا۔ جب فلستیوں نے دیکھا۔ کہ اُن کا پہلوان مارا گیا۔ تو بھاگ پڑے۔ 52 ۔ اَور اِسرائیل اَور یہوداہ کے آدمی جھپٹے اَور للکارے اَور فلستیوں کا تَعاقُب کِیا۔ یہاں تک کہ جات کے مدَخِل اَور عقرون کے پھاٹک تک پُہنچے۔ اَور فلستیوں کے مقتُول شعریم کی راہ میں جات عقرون تک گِرتے گئے۔ 53 ۔ تب بنی اِسرائیل فلستیوں کے تَعاقُب سے لَوٹے اَور اُن کی خَیمہ گاہ پر پڑے۔ 54 ۔ اَور داؤد نے فلِستی کا سر پکڑا۔ اَور اُسے لے کر یرُوشلیم میں آیا۔ اَور اُس کے ہتھیاروں کو اپنے خَیمہ میں رکھّا۔ 55 ۔جس وقت داؤد فِلستی کے مُقابلہ کو نِکلا تو ساؤل نے اُسے دیکھا۔ اَور لشکر کے سردار ابنیر سے کہا اَے ابنیر! یہ لڑکا کِس کا بیٹا ہے؟ ابنیر نے جَواب دِیا۔ اَے بادشاہ! سلامت رہ۔ مَیں نہیں جانتاہوں۔ 56 ۔ تو بادشاہ نے کہا۔ دریافت کر۔ کہ یہ جوان کِس کا بیٹا ہے؟ 57 ۔ پس جب داؤدفِلستی کو قتل کرکے واپس آیا۔ ابنیر اُسے لے کر ساؤل کے پاس گیا۔ اَور فِلستی کا سر اُس کے ہاتھ میں تھا۔ 58 ۔ تب ساؤل نے اُس سے کہا۔ اَے جوان! تُو کِس کا بیٹا ہے؟س داؤد نے کہا۔ مَیں تیرے خادِم بَیت لحم کے یِسّی کا بیٹا ہوں۔