باب

1 ۔ ساؤل کی نافرمانی اَور سمُوئیل نے ساؤل سے کہا۔ کہ خُداوند نے مُجھے بھیجا تاکہ تُجھے مَسح کرُوں کہ تُواُس کی قوم اِسرائیل پر بادشاہ ہو۔ اَور اَب خُداوند کا قول سُن۔ 2 ۔ ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہے مُجھے یاد ہے۔ کہ عمالِیق نے اِسرائیل سے کیا کِیا۔ جب وہ مصِر سے نِکلے تو راہ میں وہ کیسے اُن کے خلاف کھڑا ہوا۔ 3 ۔ پس اَب تو جا اَور عمالِیق کومار۔ اَور سب کُچھ جو اُن کا ہے تلف کر۔ اَور اُن سے درگُزر نہ کر بلکہ مَردوں اَور عورتوں اَور لڑکوں اَور شِیر خواروں اَور بَیلوں اَور بھیڑوں اَور اُونٹوں اَور گدھوں کو قتل کر۔ 4 ۔ تب ساؤل نے لوگوں کوفراہم کِیا اَور طلائم میں اُن کا شُمار کِیا۔ پس وہ دو لاکھ پِیادے اَور یہودہ کے دس ہزار آدمی تھے۔ 5 ۔ اَور ساؤل عمالِیق کے شہر کے نزدِیک آیا۔ اَور وادی میں کمِین لگائی۔ 6 ۔ اَور ساؤل نے قینِیوں سے کہا۔ تُم جاؤ۔ روانہ ہو اَورعمالِیقیوں کے درمیان سے نِکل جاؤ۔ تاکہ مَیں تُم کو اُن کے ساتھ ہلاک نہ کرُوں۔ کیونکہ تُم نے تمام بنی اِسرائیل کے ساتھ جب وہ مصِر سے نِکلے مہربانی کی تھی۔ تب قینِی عمالیِقیوں کے درمیان سے نِکل گئے۔ 7 ۔ اَور ساؤل نے عمالِیقیوں کو حویلہ سے لے کر شور کی حد تک جو مصِر کے سامنے ہے، مارا۔ 8 ۔ اَور عمالِیقیوں کے بادشاہ اجاج کو زِندہ پکڑا۔ اَور اُس کے تمام لوگوں کو تلوار کی دھار سے قتل کِیا۔ 9 ۔ مگر ساؤل اَور لوگوں نے اجاج کو اَور اچھّی بھیڑ بکریوں اَور گائے بَیلوں اَور موٹے بچھڑوں اَور برّوں کو اَور جو کُچھ اچھّا تھا ، بچائے رکھّا اَور تلف کرنا نہ چاہا۔ لیکن ہر ایک چیزکو جو ناقِص اَور نکمّی تھی تلف کردِیا۔ 10 ۔ ساؤل کی سزا تب خُداوند سمُوئیل سے ہم کلام ہوا اَور کہا۔ 11 ۔ مُجھے افسوس ہے کہ مَیں نے ساؤل کو بادشاہ قائم کِیا کیونکہ وہ میری پیروی سے پِھر گیا۔ اَور میرے حُکم پر کاربند نہیں ہوا۔ تب سمُوئیل غمگِین ہوا۔ اَور ساری رات خُداوند کے آگے چِلاّیا۔ 12 ۔ پِھر سمُوئیل سویرے اُٹھا۔ کہ ساؤل سے صُبح کے وقت مِلے۔ تو سمُوئیل کو خبر دی گئی اَور کہا گیا۔ کہ ساؤل کرمِل کو آیا۔ اَور اپنے لئے ایک ستُون نصب کِیا۔ اَور پِھرا۔ اَور گُزرتا ہوا جِلجال میں جا اُترا۔ اَور سمُوئیل ساؤل کے پاس آیا۔ اَور دیکھو وہ غنیمت کی اچھّی چیزوں سے جو اُس نے عمالِیقیوں سے لُوٹی تھیں۔ خُداوند کے لئے سوختنی قُربانی چڑھا رہا تھا۔ 13 ۔ جب سمُوئیل ساؤل کے پاس آیا۔ تو ساؤل نے اُس سے کہا ۔خُداوند کی طرف سے تُو مُبارَک ہو۔ مَیں خُداوند کا حُکم بجا لایا ہوں۔ 14 ۔ سمُوئیل نے کہا۔ تو پِھر یہ آواز کیا ہے؟ بھیڑوں کی آواز جو میرے کان میں آتی ہے اَور بَیلوں کی آواز جو مَیں سُنتا ہوں۔ 15 ۔ ساؤل نے کہا۔ وہ اُنہیں عمالِیقیوں سے لائے ہیں۔ کیونکہ لوگوں نے اچھّی بھیڑ بکریوں اَور گائے بَیلوں کو بچائے رکھّا۔ تاکہ خُداوند تیرے خُدا کے آگے قُربانی کریں۔ پر باقی ماندہ کو ہم نے قتل کِیا۔ 16 ۔ تب سمُوئیل نے ساؤل سے کہا۔ بس کر۔ جو کُچھ خُداوند نے آج کی رات مُجھ سے کہا۔ مَیں تُجھے بتاوُں۔ تو ساؤل نے کہا، بتا۔ 17 ۔ سمُوئیل نے ساؤل سے کہا۔ جب تُو اپنی ہی نظر میں حقِیر تھا۔ تو تُو اِسرائیل کے قبائل کا سردار بنایا گیا۔ اَور خُداوند نے اِسرائیل پر بادشاہ ہونے کے لئے تُجھے مَسح کیِا۔ 18 ۔ اَور خُداوند نے تُجھے ایک راہ میں بھیجا اَور تُجھ سے کہا۔ جا اَور گُنہگار عمالِیقیوں کو ہلاک کر۔ اَور اُنہیں قتل کر۔ یہاں تک کہ وہ فنا ہوجائِیں۔ 19 ۔ پس تُو نے خُداوند کی کیوں نہ سُنی؟ اَور تُو لُوٹ کی طرف مائل ہوا۔ اَور تُو نے خُدا کی نِگاہ میں بَدی کی۔ 20 ۔ تب ساؤل نے سمُوئیل سے کہا۔ مَیں نے تو خُداوند کی سُنی اَور اُس راہ میں گیا۔ جس میں مُجھے خُداوند نے بھیجا۔ اَور عمالِیقیوں کے بادشاہ اجاج کو لے آیا ہوں۔ اَور عمالِیقیوں کو مَیں نے ہلاک کیِا۔ 21 ۔ مگر لوگوں نے لُوٹ میں سے بھیڑ بکریاں اَور گائے بَیل جِنہیں تلف کرنا تھا یعنی اچھّے اچھّے بچائے رکھّے۔ تاکہ جِلجال میں خُداوند تیرے خُدا کے سامنے قُربانی کریں۔ 22 ۔ تو سمُوئیل نے کہا۔ کیا خُداوند سوختنی قُربانیوں اور ذبیحوں سے اتنا خوش ہوتا ہے جتنا اِس با ت سے کہ خداوند کا حکم مانا جائے؟ دیکھ فرماں برداری قُربانی سے بہتر ہے۔ اور بات ماننا مینڈھوں کی چربی سے بہتر ہے۔ 23 ۔ کیونکہ بغاوت اَور جادُوگری کے گُناہ برابر ہیں اَور سرکشی بُتوں کی پُوجا کی مانند ہے اَب چُونکہ تُو نے کلامِ خُداوند کو رَدّ کردِیا ہے۔ اِس لئے خُداوند نے بھی تُجھے بادشاہت سے رَدّ کردیا۔ 24 ۔ ساؤل نے سمُوئیل سے کہا کہ مَیں نے گُناہ کِیا کیونکہ خُداوند کے حُکم اَور تیری بات کی نافرمانی کی۔ کیونکہ مَیں لوگوں سے ڈرا اَور اُن کی سُنی۔ 25 ۔ اَب میرے گُناہ کومعاف کر۔ اَور میرے ساتھ واپس چل کہ ہم خُداوند کے آگے سجدَہ کریں۔ 26 ۔ تب سمُوئیل نے ساؤل سے کہا مَیں تیرے ساتھ نہیں جاؤںگا۔ کیونکہ تُونے خُداوند کے کلام کو رَدّ کِیا ہے۔ اَور خُداوند نے تُجھے اِسرائیل پر بادشاہ ہونے سے رَدّ کِیا ہے۔ 27 ۔ اَور سمُوئیل روانہ ہونے کے لئے پِھرا۔ تو ساؤل نے اُس کے چوغہ کا دامن پکڑا۔ اَور وہ چاک ہوگیا۔ 28 ۔ تب سمُوئیل نے اُس سے کہا۔ خُداوند نے تیری سَلطنَت اِسرائیل پر سے آج کے دِن چاک کردی۔ اَور تیرے ہمسائے کو دے دی۔ جو تُجھ سے بہتر ہے۔ 29 ۔ اَور وہ جو اِسرائیل کی عظمت ہے جھُوٹ نہیں بولے گا۔ اَور نہ پچھتائے گا۔ کیونکہ وہ اِنسان نہیں کہ پچھتائے ۔ 30 ۔ ساؤل نے کہا۔ مَیں نے گُناہ کِیا۔ پر میری قوم کے بزُرگوں کے سامنے اَور اِسرائیل کے سامنے اِس وقت میری عِزّت کر اَور میرے ساتھ واپس چل تاکہ مَیں خُداوند تیرے خُدا کو سجدَہ کرُوں۔ 31 ۔ تب سمُوئیل ساؤل کے پیچھے مُڑا۔ اَور ساؤل نے خُداوند کوسجدَہ کیِا۔ 32 ۔ اَور سمُوئیل نے کہا۔ عمالِیقیوں کے بادشاہ اجاج کو یہاں میرے پاس لاؤ۔ تو اجاج اُس کے پاس خُوش ہو کر آیا۔ اَور اجاج کہنے لگا کہ یقینا مَوت کی تلخی دُور ہوگئی۔ 33 ۔ مگر سمُوئیل نے کہا۔ جس طرح تیری تلوار نے عورتوں کو بے اولاد کردِیا۔ اِسی طرح عورتوں میں تیری ماں بے اولاد کی جائے گی۔ اَور سمُوئیل نے جِلجال میں خُداوند کے سامنے اجاج کو ٹُکڑے ٹُکڑے کِیا۔ 34 ۔ تب سمُوئیل رامہ کو روانہ ہوا اَور ساؤل اپنے گھر کو جبعہ کے ساؤل میں آیا۔ 35 ۔ اَور سمُوئیل پِھر اپنی وفات کے دِن تک ساؤل کو دیکھنے نہ گیا۔ تو بھی سمُوئیل ساؤل کے لئے غم کھاتا رہا۔ کیونکہ خُداوند پچھتایا تھا کہ ساؤل کو اِسرائیل پر بادشاہ بنایا۔