1 ۔ یونتن کی بہادُری اَور ایک دِن ایسا ہوا۔ کہ یونتن بِن ساؤل نے اُس جوان کو جو اُس کا سلاح بردار تھا کہا۔ آؤ ہم فلستیوں کی پَہرے رکھنے والی فوج پر جو اُس پار ہے، چڑھ جائیں۔ اَور اُس نے اپنے باپ کو نہ بتایا۔ 2 ۔ اَور ساؤل جبعہ کی حد پر مجرون میں ایک انار کے درخت کے نیچے ڈیرا لگائے تھا۔ اَور اُس کے ساتھ قریباً چھ سَو آدمی تھے۔ 3 ۔ اَور اخیاہ بِن اخیطوب جویکبود بِن فِینحاس بن عیلی کا بھائی سیلا میں افود پہنے ہوئے خُداوند کا کاہن تھا۔ اَور لوگ نہ جانتے تھے کہ یونتن چلاگیا۔ 4 ۔ اَور اُن گُزرگاہوں کے درمیان جِنہیں گُزر کر یونتن نے اِرادہ کیا کہ فِلستیوں کے پہرے داروں پر جائے۔ اِس طرف ایک نوکیلی چٹان اَور اُس طرف بھی ایک نوکیلی چٹان تھی۔ ایک کا نام بوصیص اَور دُوسری کا نام سنہ تھا۔ 5 ۔ ایک نوک شِمال کی جانِب مکماس کے مُقابِل اُٹھی ہوئی تھی۔ اَور دُوسری جنُوب میں جبعہ کے مُقابِل۔ 6 ۔ تب یونتن نے اپنے سلاح بردار جو ان سے کہا۔ آؤ ہم اُن نامختُونوں کے پہرے داروں پر جائیں۔ شاید خُداوند ہمارے لئے کام کرے۔ کیونکہ خُداوند کے لئے دُشوار نہیں کہ وہ شُمار میں بہتوں یا تھوڑوں سے رِہائی دے۔ 7 ۔ تو اُس کے سلاح بردار نے اُس سے کہا جو کُچھ تیرے دِل میں ہے سو کر۔ اَور آگے چل۔ اَور دیکھ جیسا تُو چاہتا ہے مَیں تیرے ساتھ ہوں۔ 8 ۔ یونتن نے کہا۔ کہ ہم اِن لوگوں کے پاس اُس طرف جائیں گے۔ اَور اپنے آپ کو اُن پر ظاہر کریں گے۔ 9 ۔ اگر وہ ہم سے کہیں۔ کہ ٹھہرو جب تک کہ ہم تُمہارے پاس آئیں۔ تو ہم اپنی جگہ کھڑے رہیں گے۔ اَور اُن کے پاس نہیں جائیں گے۔ 10 ۔ اَور اگر اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس آ جاؤ تو ہم جائیں گے۔ کیونکہ خُداوند ہمارے خُدا نے اُنہیں ہمارے ہاتھوں میں کردِیا۔ اَور یہی ہمارے لئے نِشان ہوگا۔ 11 ۔ تب اُنہوں نے اپنے آپ کو فلستیوں کے پہرہ داروں پر ظاہر کیِا تو فلستیوں نے کہا۔دیکھو۔ عبِرانی اُن سُوراخوں میں سے جہاں چھُپے تھے باہر نِکل آئے ہیں۔ 12 ۔ اَور پہرہ کے آدمیوں نے یونتن اَور اُس کے سلاح بردار جوان سے کہا۔ دونوں ہمارے پاس آؤ اَور ہم تُمہیں ایک چیز دِکھائیں گے۔ تب یونتن نے اپنے سلاح بردار سے کہا میرے پیچھے چلا آ۔ کیونکہ خُداوند نے اُنہیں اِسرائیل کے ہاتھ میں کر دِیا ہے۔ 13 ۔ اَور یونتن اپنے ہاتھ اَور اپنے پاؤں سے اُوپر چڑھا۔ اَور اُس کا سلاح بردار اُس کے پیچھے تھا۔ تو وہ یونتن کے سامنے گِرے۔ اَور اُس کا سلاح بردار اُس کے پیچھے قتل کرتا تھا۔ 14 ۔ اَور یہ پہلی خُون ریزی جو یونتن اَور اُس کے سلاح بردار نے کی قریباً بیس آدمیوں کی تخمیناً نصِف ایکڑ زمین میں تھی۔ 15 ۔ تب لشکر گاہ اَورمیدان اَور تمام لوگوں پر خوف چھایا۔ اَور پہرے دار اَور غارت گر بھی کانپے۔ اَور زمین لرزی۔ اَور ایسا ہوا۔ گویا کہ خُدا کے حضُور سے خوف واقع ہوا۔ 16 ۔ اَور ساؤل کے چوکیداروں نے جو بِنیمِین کے جبعہ میں تھے، نظر کی۔ تو دیکھا کہ وہ گروہ کُھلتاجاتا اَور پراگندہ ہوتا جاتا ہے۔ 17 ۔ تب ساؤل نے اُن لوگوں سے جو اُس کے ساتھ تھے کہا دریافت کرو۔ اَور دیکھو۔ کہ ہم میں سے کون غیر حاضِر ہے۔ تو اُنہوں نے دریافت کیِا۔ تو دیکھو۔ یونتن اَور اُس کا سلاح بردار وہاں نہ تھے۔ 18 ۔ تب ساؤل نے اخیاہ سے کہا۔ خُداوندکاصندوق یہاں لا۔ کیونکہ اُس وقت خُداوند کا صندوق بنی اِسرائیل کے ساتھ تھا۔ 19 ۔ اَور ساؤل نے کاہن کے ساتھ بات ختم نہ کی تھی۔ کہ فلستیوں کی لشکرگاہ میں جو شور تھا وہ بڑھتا جاتا تھا اَور بُہت ہوگیا۔ تو ساؤل نے کاہن سے کہا۔ اپنا ہاتھ ہٹا۔ 20 ۔ اَور ساؤل اَور سب لوگ جو اُس کے ساتھ تھے۔ ایک تن ہو کر میدان جنگ میں جا اُترے۔ اَور دیکھو۔ ہر ایک کی تلوار اپنے ساتھی پر پڑتی تھی۔ اَور بڑی سخت گڑبڑی تھی۔ 21 ۔ اَور وہ عبِرانی جو پیشتر فلستیوں کے ساتھ تھے۔ اَور اِرد گِرد سے اُن کے ساتھ ہوکر لشکر گاہ میں آئے تھے۔ اِسرائیلیوں کے ساتھ جو ساؤل اَور یونتن کے ہمراہ تھے مِل گئے۔ 22 ۔ اَور اِسرائیل کے سب آدمیوں نے جو کوہ افرائیم میں چھُپے ہوئے تھے، سُنا کہ فلستیوں نے شِکسَت کھائی۔ تو وہ بھی اُن کے ساتھ لڑائی میں آملِے۔ 23 ۔ اَور خُداوند نے اُس روز اِسرائیل کو رِہائی بخشی۔ اَور لڑائی بَیت آون تک پُہنچی۔ 24 ۔ اَور لوگ جو ساؤل کی طرف آئے تقریباً دس ہزار بنے۔ مگر جس وقت لڑائی تمام کوہ افرائیم میں پھیلی گئی۔ ساؤل نے اُس دِن ایک بڑی غلطی کی کیونکہ ساؤل نے لوگوں کو قَسم دے کر کہا۔ مَلعُون ہو وہ جو آج شام تک کھانا چَکھّے جب تک کہ مَیں اپنے دُشمنوں سے اِنتِقام نہ لُوں۔ پس تمام مُلک میں کِسی نے کھانا نہ کھایا۔ 25 ۔ اَور سب لوگ ایک جنگل میں پُہنچے اَور وہاں زمین پر شہد تھا۔ 26 ۔ اور لوگ جنگل کے اندر گئے ۔تو دیکھو وہاں شہد ٹپکتا تھا ۔مگر کِسی کی جُرات نہ تھی۔ کہ اپنے مُنہ کی طرف ہاتھ لمبا کرے۔ کیونکہ لوگ قَسم سے ڈرتے تھے۔ 27 ۔ لیکن یونتن نے جس وقت اُس کے باپ نے لوگوں کو قَسم دی تھی، نہیں سُنا تھا۔اِس لئے اُس نے اپنے عصا کی نوک سے جو اُس کے ہاتھ میں تھا شہد کے چھتے کو چھیدا اَور اپنا ہاتھ اپنے مُنہ تک لے گیا۔ تو اُس کی آنکھوں میں روشنی آئی۔ 28 ۔ اَور لوگوں میں سے ایک آدمی نے اُس سے کلام کرکے کہا کہ تیرے باپ نے لوگوں کو قَسم دی اَور کہا۔ کہ مَلعُون ہو وہ جو آج کے دِن کھانا چکھے۔ اَور لوگ تھک گئے تھے۔ 29 ۔ یونتن نے کہا۔ میرے باپ نے مُلک کو دُکھ دیا۔ مَیں نے اُس شہد سے ذرا سا چکھا تو میری آنکھوں میں کیسی روشنی آئی۔ 30 ۔ تو کیسا زیادہ اچھّا تھا اگر آج کے دِن لوگ اپنے دُشمنوں کی لُوٹ سے جو اُنہوں نے پائی، کھاتے۔ تو کیا اِس وقت فلستیوں کی بُہت زیادہ خُون ریزی نہ ہوتی؟ 31 ۔ اَور اُنہوں نے اُس دِن فلستیوں کومکماس سے لے کر ایالون تک مارا۔ اَور لوگ بہت ہی تھک گئے۔ 32 ۔ اَور لوگ لُوٹ پر گرے اَور بھیڑیں اَور بَیل اَور بچھڑے پکڑے۔ اَور زمین پر اُنہیں ذَبح کیِا۔ اَور خُون سمیت کھا گئے۔ 33 ۔ اَور ساؤل کو خبر دی گئی۔ اَور اُس سے کہا گیا۔ کہ لوگوں نے خُداوند کے سامنے گُناہ کِیا۔ کہ اُنہوں نے خُون سمیت کھایا۔ تب ساؤل نے کہا۔ تُم نے خطا کی۔ سو آج تُم ایک بڑا پتھّر میرے پاس لُڑھکا کر لاؤ۔ 34 ۔ پِھر ساؤل نے کہا۔ تُم لوگوں میں اِدھر اُدھر جاؤ اَور اُن سے کہو کہ ہر ایک آدمی میرے پاس اپنا بَیل اَور اپنی بھیڑ لائے۔ اَور اُس پر ذَبح کرے اَور کھائے اَور خُون سمیت کھا کر خُداوند کا گنُہگار نہ ہو۔ تب لوگوںمیں سے ہر ایک اُس رات کو اپنا بَیل اُس کے پاس لایا۔ اَور وہاں ذَبح کِیا۔ 35 ۔ اَور ساؤل نے خُداوند کے لئے ایک مذَبح بنایا۔ اَور یہ پہلا مذَبح تھا۔ جو اُس نے خُداوند کے لئے بنایا۔ 36 ۔ اَور ساؤل نے کہا۔ آؤ۔ ہم رات کو فلستیوں کا تَعاقُب کریں۔ اَورصُبح کی روشنی تک اُنہیں لُوٹیں اَور اُن میں سے ایک مَرد کو بھی نہ چھوڑیں۔ تو اُنہوں نے کہا۔ جو تیری نظر میں اچھّا ہے وہ کر۔ تب کاہن بولا۔ آؤ۔یہاں پر ہم خُدا کے آگے حاضِر ہوں۔ 37 ۔ اَور ساؤل نے خُدا سے پُوچھا۔ کیا میں فلستیوں کے پیچھے نیچے اُتروں؟ کیا تُو اُنہیں اِسرائیل کے ہاتھ میں کردے گا؟ لیکن اُس نے اُس دِن اُسے کُچھ جَواب نہ دِیا ۔ 38 ۔ تب ساؤل نے کہا ۔ اَے تُم جو لوگوں کے سردار ہو! سب یہاں آؤ اور تحقیِق کرو۔ اور دیکھو۔ کہ آج کِس نے گُناہ کِیا ہے ؟ 39 ۔ زِندہ خُداوند کی قَسم جس نے اِسرائیل کو مُخلِصی دی۔ اگر میرے بیٹے یونتن نے کِیا ۔ تو وہ ضرُور مارا جائے گا۔مگر لوگوں میں سے کِسی نے اُسے جَواب نہ دیا۔ 40 ۔ تب اُس نے سارے بنی اِسرائیل سے کہا کہ تُم ایک طرف ہو۔ اَورمَیں اَور میرا بیٹا یونتن دُوسری طرف تو لوگوں نے کہا۔جو کُچھ تیری نظر میں اچھّا ہے تُو کر۔ 41 ۔ اور ساؤل نے خُداوند سے دُعا مانگی۔ کہ َاے اِسرائیل کے خُدا تُو نے آج اپنے خادِم کو جَواب کیوں نہیں دِیا۔ اَے خُداوند اِسرائیل کے خُدا۔ اگر قصُور میرا یا میرے بیٹے کا ہے تو اُوریم ظاہر کر۔ اَور اگر تیری قوم اِسرائیل قصُور وار ہے تو قرعہ میں ظاہر کر۔ تب یونتن اَور ساؤل پکڑے گئے اَور لوگ بچ گئے۔ 42 ۔ تب ساؤل نے کہا۔ کہ میرے اَور میرے بیٹے یونتن کے درمیان قُرعہ ڈالو۔ تو یونتن پکڑا گیا۔ 43 ۔ تب ساؤل نے یونتن سے کہا مُجھے بتاکہ تُو نے کیا کِیا ہے؟ تو یونتن نے اُسے بتایا اَور کہا۔ کہ مَیں نے اُس عصا کی نوک سے جو میرے ہاتھ میں تھا ذرا سا شہد چکھا۔ سو دیکھ مَیں مَرنے کے لئے حاضِر ہوں۔ 44 ۔ ساؤل نے کہا۔ خُدا ایسا ہی کرے اَور اُس سے بھی زیادہ کرے۔ کیونکہ اَے یونتن! تُجھے ضرُور مَرنا ہوگا۔ 45 ۔ تب لوگوں نے ساؤل سے کہا کیا یونتن مَرجائے جس نے ایسی بڑی رِہائی اِسرائیل کو دی؟ ہرگز نہیں۔ زِندہ خُداوند کی قَسم۔ کہ اُس کے سر کا ایک بال بھی زمین پر نہ گِرے گا۔ کیونکہ اُس نے آج خُدا کے ساتھ کام کِیا سو لوگوں نے یونتن کو بچایا۔ اَور وہ نہ مارا گیا۔ 46 ۔ اَور ساؤل فلستیوں کی طرف سے مُڑا۔ اَور فِلستی اپنے مقام کو چلے گئے۔ 47 ۔ اَور ساؤل نے اِسرائیل پر اپنی سَطلنَت قائم کی۔ اَور اپنے سب دُشمنوں سے جو اُس کے اِردگِرد تھے۔ موآبیوں سے اَور بنی عمون سے اَور اِدومیوں سے اَور ضوباہ کے بادشاہ سے اَور فلستیوں سے لڑائی کی۔ اَور جہاں کہیں وہ پِھرا، غالِب آیا۔ 48 ۔ اَور اُس نے بَہادُری کی۔ اَور عمالِیقیوں کو مارا۔ اَور اِسرائیل کو اُن غارت کرنے والوں کے ہاتھ سے چُھڑایا۔ 49 ۔ اَور ساؤل کے یہ بیٹے تھے۔ یونتن اَور اسوی اَور ملکشیوع۔ اَور اُس کی دو بیٹیوں کے نام یہ تھے۔ پہلوٹھی کا نام میرب اَور چھوٹی کا نام میِکل تھا۔ 50 ۔ اَور ساؤل کی بیوی کا نام اخنیوعم اخمیعض تھا۔ اَور اُس کے لشکر کے سردار کا نام ابنیر جو ساؤل کے چچا نیر کا بیٹا تھا۔ 51 ۔ اَور ساؤل کا باپ قیس اَور ابنیر کا باپ نیر ابی ایل کے بیٹے تھے۔ 52 ۔ اَور ساؤل کے تمام اَیّام میں فلستیوں سے سخت لڑائی رہی۔ اَور ساؤل جب کِسی زور آور یا بَہادُر مَرد کو دیکھتا تو اُسے اپنے پاس رکھّ لیتا تھا۔