1 ۔ فلستیوں سے جنگ ساؤل تیس برس کا تھا جب بادشاہ ہوا۔ اَور اُس نےدو برس تک اِسرائیل پر سَلطنَت کی۔ 2 ۔ اَور ساؤل نے اپنے لئے اِسرائیل میں سے تین ہزار آدمی چنے۔مکماس اَور کوہ بیت ایل میں دو ہزار اُس کے ساتھ تھے۔ اَور بِنیمِین کے جبعہ میں یونتن کے ساتھ ایک ہزار۔ اَور باقی لوگوں کو اُس نے رُخصت کِیا کہ ہر ایک اپنے خَیمہ کو جائے۔ 3 ۔ اَور یونتن نے جبعہ میں فلستیوں کے پہرہ داروں کو مارا۔ اَور فلستیوں نے سُنا اَور کہا کہ عبِرانیوں نے سرکشی کی اَور ساؤل نے تمام مُلک میں نرسِنگا پھنکوایا۔ 4 ۔ مگر تمام اِسرائیل نے بھی سُنا اَور کہا کہ ساؤل نے فلستیوں کے پہرہ داروں کو مارا۔ اَور کہ فِلستی اِسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔ پس لوگ ساؤل کے پیچھے جِلجال میں جمع ہوئے۔ 5 ۔ اَور فِلستی بھی اِسرائیل سے جنگ کرنے کو اِکٹھّے ہوئے تین ہزار رتھیں اَور چھ ہزار سوار اَور لوگ اِس کثرت سے جیسے کہ سُمندر کے کِناروں پر ریت۔ پس وہ چڑھے اَور بَیت آون کے مشرق کومکماس میں ڈیرے لگائے۔ 6 ۔ اَور جب اِسرائیل کے مَردوں نے دیکھا کہ ہم تنگی میں ہیں کیونکہ لوگ گھبرا گئے تھے تو وہ غاروں اَور جھاڑیوں اَورچٹانوں اَور گڑھیوں اَور گڑھوں میں جا چھُپے۔ 7 ۔ اَور عِبرانیوں میں سے بعض یردن کے پار جاد اَور جِلعاد کے مُلک کو چلے گئے۔ اَور ساؤل ابھی تک جِلجال میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اَور سب لوگ جو اُس کے پَیرو تھے کانپ رہے تھے۔ 8 ۔ اَور وہ وہاں سات دِن سمُوئیل کے مُقرّرہ وقت تک ٹھہرا اَور سمُوئیل جِلجال میں نہ آیا۔ اَور ساؤل کے پاس سے لوگ پراگندہ ہوگئے۔ 9 ۔ تب ساؤل نے کہا۔ کہ سوختنی قُربانی اَور سلامتی کے ذَبیحے میرے پاس لاؤ۔ اَور اُس نے سوختنی قُربانی گُزرانی۔ 10 ۔ جب وہ سوختنی قُربانی کے گُزراننے سے فارِغ ہوا۔ تو دیکھو سمُوئیل آپُہنچا۔ اَور ساؤل اُس کے مِلنے اَور اُسے سلام کرنے کو باہر نِکلا۔ 11 ۔ اَور سمُوئیل نے اُس سے کہا۔ تُو نے کیا کِیا؟ ساؤل نے کہا مَیں نے دیکھا کہ لوگ مُجھ سے پراگندہ ہوتے جارہے ہیں اَور تُو مُقرّرہ دنوں کے اندر نہ آیا۔ اَور فِلستیی مکماس میں اِکٹھّے ہوگئے۔ 12 ۔ تو مَیں نے کہا۔ کہ اَب فِلستی جِلجال میں مُجھ پر آ پڑیں گے۔ اَور مَیں نے ابھی تک خُداوند کے حضُورمَنّت نہیں کی۔ تو مَیں نے مجبُوراً سوختنی قُربانی گُزرانی۔ 13 ۔ سمُوئیل نے ساؤل سے کہا۔ تُو نے بے وقُوفی کا کام کِیا۔ کہ تُو نے خُداوند اپنے خُدا کا حُکم جس کا اُس نے تُجھے فرمان دِیا، نہ مانا۔ اگر تُو ایسا نہ کرتا تو اِس وقت خُداوند تیری سَلطنَت اِسرائیل پر ہمیشہ تک قائم کر دیتا۔ 14 ۔ لیکن اَب تیری سَلطنَت ہمیشہ نہ رہے گی۔ کیونکہ خُداوند ایک مَرد کو جو اُس کے دِل کے مُوافِق ہے، چُن لے گا۔ اَور اُسے حُکم دے گا۔ کہ اپنے لوگوں کا رہنُما ہو۔ کیونکہ خُداوند نے جو تُجھے حُکم دِیا، تُو نے نہ مانا۔ 15 ۔ اَور سمُوئیل اُٹھا اَور جِلجال سے بِنیمِین کے جبعہ کو چڑھ گیا۔ اَور ساؤل نے اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ تھے گِنا۔ تو وہ چھ سَو مَرد تھے۔ 16 ۔ اَور ساؤل اَور اُس کا بیٹا یونتن اَور لوگوں میں سے جو اُن کے ساتھ تھے بِنیمِین کے جبعہ میں تھے اَور فِلستی مکماس میں خَیمہ زَن تھے۔ 17 ۔ اَور فلستیوں کے خَیمہ گاہ سے غارت گروں کے تین گروہ نِکلے اُن میں سے ایک سعال کی سَرزمین عفرہ کی راہ سے گیا۔ 18 ۔ اَور دُوسرے گروہ نے بَیت حورون کی راہ لی۔ اَور تیسرے گروہ نے اُس جبعہ کی راہ پکڑی جو وادی ضبوعیم پر جنگل کی طرف ہے۔ 19 ۔ اَور اِسرائیل کے سارے مُلک میں کوئی لوہار نہ پایا جاتا تھا۔ کیونکہ فلستیوں نے یہ پیش بندی کی تھی۔ تاکہ عِبرانی لوگ اپنے لئے تلواریں اَور نیزے نہ بنوالیں۔ 20 ۔ لہٰذا تمام اِسرائیل فلستیوں کے پاس نیچے اُترتے تھے۔ تاکہ اپنا پھال اَور اپنا بھالا اَور اپنا کُلہاڑا اَور اپنی کدالی تیز کرائیں۔ 21 ۔ پر کدالیوں اَور پھالوں اَور سہ شاخہ کانٹوں اَور کُلہاڑوں اَور پینَوں کے تیز کرنے کے لئے اُن کے پاس ریتی ہی تھی۔ 22 ۔ تو جب لڑائی کا وقت آیا۔ اُن لوگوں کے ہاتھ میں جو ساؤل اَور یونتن کے ساتھ تھے تلوار اَور نیزہ نہ تھا۔ مگر ساؤل اَور اُس کے بیٹے یونتن کے پاس تھا۔ 23 ۔ اَور فلستیوں کی چوکی کے سپاہی نکل کر مکماس کی گھاٹی کو گئے۔