1 ۔ سمُوئیل کی الوداعی تقریر تب سمُوئیل نے سب اِسرائیل سے کہا۔ کہ سب جو کُچھ تُم نے مُجھ سے کہا۔ مَیں نے تُمہاری سُنی۔ اَور تُمہارے اُوپر ایک بادشاہ مُقرّر کیِا۔ 2 ۔ اَور اَب تُمہارا بادشاہ تُمہارے آگے چلتاہے۔ اَور مَیں توبوڑھاہوگیا ہوں۔ اَور یہ میرے بیٹے تُمہارے ساتھ ہیں۔ اَور مَیں لڑکپن سے آج تک تُمہارے ساتھ چلتا رہا ہوں۔ 3 ۔ دیکھو۔ مَیں حاضِر ہوں۔ خُداوند کے سامنے اَور اُس کے ممسُوح کے سامنے میری بابت گَواہی دو۔ مَیں نے کِس کا بَیل لِیا یا کِس کا گدھا لیِا یا کِس سے مَیں نے دغا بازی کی یا کِس پر مَیں نے ظُلم کیِا اَور کِس کے ہاتھ سے مَیں نے رِشوت یا جوڑی جُوتے تک لیا؟ مَیں تُمہیں واپس دینے کو حاضِر ہوں۔ 4 ۔ تو اُنہوں نے کہا تُو نے ہم سے بے اِنصافی نہیں کی۔ اَور تُو نے ہم پر ظُلم نہیں کِیا۔ اَور نہ تُو نے ہمارے ہاتھ سے کوئی چِیز لی۔ 5 ۔ تب اُس نے اُن سے کہا۔ کہ خُداوند تُم پر گَواہ اَور اُس کا ممسُوح آج کے دِن تُم پر گَواہ ہے۔ کہ تُم نے میرے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں پائی۔ وہ بولے۔ وہ گَواہ ہے۔ 6 ۔ پِھر سمُوئیل نے لوگوں سے کہا۔ خُداوند ہی گَواہ ہے۔ جس نے مُوسیٰ اَور ہارُون کو برپا کیِا اَور تُمہارے باپ دادا کو مُلکِ مصِر سے باہر نِکالا۔ 7 ۔ اَب کھڑے ہو۔ کہ مَیں خُداوند کے سامنے اُن تمام نیکیوں کی بابت جو خُداوند نے تُمہارےباپ دادا سے کیں بات بتاؤں۔ 8 ۔ جب یَعقُوب مصِر میں آیا ور تُمہارے آباؤاجداد خُدا کے پاس چِلّائے۔ تو خُداوند نے مُوسیٰ اَور ہارون کو بھیجا۔ تو اُنہوں نے تُمہارے باپ دادا کو مصِر سے نِکالا۔ اَور اِس جگہ میں بسایا۔ 9 ۔ تو وہ اپنے خُداوند خُدا کو بھُول گئے۔ تو اُس نے اُنہیں حصور کے لشکر کے سردار سیسرا کے ہاتھ اَور فلستیوں کے ہاتھ اَور شاہ موآب کے ہاتھ بیچا۔ تو اُنہوں نے اُن سے لڑائی کی۔ 10 ۔ تب وہ خُداوند کے آگے چِلائے اَور کہا۔ ہم نے گُناہ کِیا۔ کیونکہ ہم نے خُداوند کو چھوڑ دِیا۔ اَور ہم نے بعلیم اَور عستارات کی بندگی کی۔ پر اَب تُو ہمارے دُشمنوں کے ہاتھ سے ہمیں چُھڑا۔ تو ہم تیری عِبادَت کریں گے۔ 11 ۔ تو خُداوند نے یُر بَعلَ اَور بدان اَورافتاح اَور سمُوئیل کو بھیجا۔ اَور تُمہارے دُشمنوں کے ہاتھ سے جو تُمہارے گرِد تھے۔ تُمہیں چُھڑایا۔ اَور تُم آرام سے بسے۔ 12 ۔ پِھر تُم نے دیکھا۔ کہ بنی عمون کا بادشاہ ناحس تُم پر چڑھ آیا۔ تو تُم نے مُجھ سے کہا۔ ہاں کوئی بادشاہ ہم پر سَطلنَت کرے۔ حالانکہ خُداوند تُمہارا خُدا تُمہارا بادشاہ تھا۔ 13 ۔ پس اَب یہ تُمہارا بادشاہ ہے۔ جِسے تُم نے چُن لِیا۔ اَور جس کی تُم نے خواہش کی۔ دیکھو خُداوند نے تُم پر بادشاہ مُقرّر کِیا ہے۔ 14 ۔ پس اگر تُم خُداوند سے ڈرتے رہو۔ اَور اُس کی عِبادَت کرو۔ اَور اُس کی بات سُنو۔ اَور اُس کے حُکم سے سَر کشی نہ کرو۔ تو تُم اَور تمُہارا بادشاہ جو تُم پر سَلطنَت کرتاہے۔ خُداوند اپنے خُدا کے پَیرو ہوگے۔ 15 ۔ لیکن اگر تُم خُداوند کی بات نہ سُنو۔ اَور اُس کے حُکم سے سَر کشی کرو۔ تو خُداوند کا ہاتھ تُمہارے خلاف ہوگا جس طرح سے کہ وہ تُمہارے آباؤاجداد کے خلاف تھا۔ 16 ۔ اَور اَب تُم کھڑے رَہو۔ اَور دیکھو وہ بڑا ماجرا جو تُمہاری آنکھوں کے سامنے آج خُداوند کرے گا۔ 17 ۔ کیا آج گیہوں کاٹنے کا دِن نہیں؟ مَیں خُداوند سے دُعا کرُوں گا۔ کہ وہ گرجیں بھیجے اَور میِنہ برسائے تب تُم جانو گے اَور دیکھو گے کہ تُمہاری بَدی جو تُم نے خُداوندکی نظر میں کی۔ کیسی بڑی ہے۔ کہ تُم نے اپنے لئے ایک بادشاہ مانگا۔ 18 ۔ تب سمُوئیل خُداوند کے پاس چِلّایا۔ تو خُداوند نے اُسی دِن گرجیں بھیجیں اَور میِنہ برسایا۔ 19 ۔ تب سب لوگوں نے خُداوند سے اَور سمُوئیل سے نہایت سخت خوف کھایا۔ اَور سب لوگوں نے سمُوئیل سے کہا کہ خُداوند اپنے خُدا سے اپنے خادِموں کے واسطے دُعا مانگ۔ کہ ہم مَر نہ جائیں کیونکہ ہم نے اپنی ساری خطاؤں پر یہ بَدی زیادہ کی۔ کہ ہم نے اپنے لئے بادشاہ مانگا۔ 20 ۔ تب سمُوئیل نے لوگوں سے کہا۔ خوف نہ کرو۔ یہ شرارت تو تُم نے کی۔ لیکن خُداوندکی پیروی سے تُم نہ مُڑو۔ بلکہ اپنے سارے دِل سے خُداوند کی عِبادَت کرو۔ 21 ۔ اَور تُم باطِل چِیزوں کی طرف مائل نہ ہو۔ جو فائدہ مند نہیں۔ اَور نہ رِہائی دیتی ہیں کیونکہ باطِل ہیں۔ 22 ۔ اَور خُداوند اپنے عظیم نام کی خاطرِ اپنے لوگوں کو ترک نہ کرے گا۔ کیونکہ خُداوند چاہتا ہے۔ کہ تُمہیں اپنی قوم بنائے۔ 23 ۔ اَور مَیں جو ہوں۔ یہ تو ہرگز نہ ہوگا۔ کہ مَیں خُداوند کا خطا کار بنُوں۔ اَور تُمہارے لئے دُعا مانگنا چھوڑ دُوں۔ بلکہ وہ راہ جو اچھّی اَور سِیدھی ہے مَیں تُمہیں بتاوُں گا۔ 24 ۔ اَور تُم خُداوند سے ڈرو۔ اَور اپنے سارے دِل سے صداقت میں اُس کی عِبادَت کرو۔ کیونکہ تُم نے وہ بڑے کام دیکھے ہیں۔ جو اُس نے تُمہارے درمیان کئے۔ 25 ۔ اَور اگر اَب بھی تُم بَدی کرو تُو تُم اَور تُمہارا بادشاہ سب ہلاک ہوجاؤ گے۔