1 ہَیکل کی تَقدِیس تب سُلیمان بادشاہ نے اِسرائیل کے بزُرگوں اَور تمام قبائل کے رئیسوں اَور بنی اِسرائیل کے آبائی خاندانوں کے سرداروں کو اپنے پاس یرُوشلیِم میں جمع کِیا۔ تاکہ خُداوند کے عہد کا صندُوق داؤد کے شہر یعنی صیون سے لے آئیں۔ 2 ۔ تب اِسرائیل کے سب آدمی ایتانِیم مہینہ کی عید کے لئے جو ساتواں مہینہ ہَے سُلیمان بادشاہ کے پاس جمع ہُوئے۔ 3 ۔ اَور اِسرائیل کے سب بزُرگ آئے۔ اَور کاہِنوں نے صندُوق کو اُٹھایا ۔ 4 ۔ اَور وہ خُداوند کے صندُوق کو لے آئے۔ اَور خیمہ اجتماع اَور سب پاک برتنوں کو جو خَیمے میں تھے کاہِن اَور لاوی لائے تھے۔ 5 ۔ اَور سُلیمان بادشاہ اَور اِسرائیل کی تمام جماعت نے جو اُس کے پاس صندُوق کے سامنے جمع ہُوئی تھی۔ بے شُمار اَور کثرت کے باعِث لاتعداَد بھیڑبکری اَور گائے بَیل ذَبح کِئے ۔ 6 ۔ اَور کاہِنوں نے خُداوند کے عہد کا صندُوق اُس کی جگہ گھر کی اِلٰہام گاہ یعنی قُدس اُلاَقداس کے اندر کرُّوبیوں کے پَروں کے نیچے رکھّا۔ 7 ۔کیونکہ دونوں کرُّوبی صندُوق کی جگہ کے اُوپر اپنے پَر پھیلائے ہُوئے تھے۔ اَور کرُّوبی صندُوق اَور اُس کی چوبوں پر اُوپر سے سایہ کئے تھے۔ 8 ۔ اَور چوبیں لمبی تھیں۔ یہاں تک کہ اُن کے سِرے قُدس سے اِلٰہام گاہ کے آگے کی جگہ میں نظر آتے تھے۔ لیکن باہر سے وہ دِکھائی نہ دیتے تھے۔ اَور وہ آج کے دِن تک وہیں ہَیں۔ 9 ۔اَور صندُوق میں کُچھ نہ تھا۔ سِوائے پتھّر کی دو تختیوں کے جِنہیں مُوسیٰ نے حورب میں اُس کے اندر رکھّا۔ جب کہ خُداوند نے بنی اِسرائیل کے ساتھ عہد کِیا۔ جس وقت کہ وہ مُلکِ مِصر سے نِکلے۔ 10 ۔ اَور ایسا ہُوا۔ کہ جب کاہِن مَقدِس سے باہر نِکلے۔ تو بادِل نے خُداوند کے گھر کو بھردِیا۔ 11 ۔ اَور بادِل کے سبب سے کاہِنوں کو طاقت نہ ہُوئی۔ کہ خدمت کرنے کے لئے کھڑے ہوں۔ کیونکہ خُداوند کے جلال نے خُداوند کے گھر کو بھر دِیا۔ 12 ۔ سُلیمان کی تقریر تب سُلیمان نے کہا۔کہ خُداوند خُدا نے فرمایا کہ وہ ابر ِسیاہ میں رہنا چاہتا ہے ۔ 13 ۔مَیں نے تیرے رہنے کے لئے ایک گھربنایا ایک مقام جس میں تُو دائماً سُکونت کرے (یُونہی کِتابِ صداقت میں موجُود ہَے) 14 ۔اَور بادشاہ نے اپنا مُنہ پھیرا۔ اَور اِسرائیل کی ساری جماعت کو برکت دی۔ اَور اِسرائیل کی تمام جماعت کھڑی ہُوئی۔ 15 ۔ اَور اُس نے کہا۔کہ خُداوند اِسرائیل کا خُدا مُبارَک ہو۔ جس نے اپنے مُنہ سے میرے باپ داؤد کے ساتھ کلام کِیا۔ اَور اُسے اپنے ہاتھ سے پُورا کِیا۔ اَور کہا۔ 16 ۔جس دِن سے کہ مَیں نے اپنی قوم اِسرائیل کو مِصر سے باہر نِکالا۔ مَیں نے اِسرائیل کے کِسی قبیلہ میں سے کِسی شہر کو چُن نہ لِیا۔ تاکہ میرا نام وہاں ہو۔ اَور مَیں نے داؤد کو چُن لِیا۔ کہ میری قوم اِسرائیل کے اُوپر ہَو۔ 17 ۔ اَور میرے باپ داؤد کے دِل میں تھا۔ کہ خُداوند اِسرائیل کے خُداکے نام کے لئے ایک گھر بنائے۔ 18 ۔ اور خُداوند نے میرے باپ داؤد سے کہا۔چُونکہ تیرے دِل میں تھا۔ کہ تُو میرے نام کے لئے ایک گھر بنائے۔ تو تُو نے اچھّاکِیا۔ کہ اپنے دل میں ایسا ٹھانا۔ 19 ۔ لیکنِ تُو میرے لئے گھر نہ بنائے گا۔ بلکہ تیرا بیٹا جو تیری صُلب سے ہوگا۔ وہی میرے نام کے لئے ایک گھر بنائے گا۔ 20 ۔ سو خُداوند نے اپنا قول جو اُس نے کہا پُورا کِیا۔ اَورمَیں اپنے باپ داؤد کی جگہ میں کھڑا ہُوا۔ اَور اِسرائیل کے تخت پر بیٹھا۔ جیسا کہ خُداوند نے فرمایا۔ اَور مَیں نے خُداوند اِسرائیل کے خُدا کے نام کے لئے گھر بنایا ۔ 21 ۔ اَور مَیں نے اُس میں خُداوند کے صندُوق کے لئے مقام مُقرّر کِیا۔ جس میں خُداوند کا عہد ہَے۔ جو اُس نے ہمارے باپ دادا کے ساتھ باندھا۔ جس وقت کہ اُس نے اُنہیں مِصر سے نِکالا۔ 22 ۔ سُلیمان کی دُعا تب سُلیمان خُداوند کے مذَبح کے آگے اِسرائیل کی ساری جماعت کے سامنے کھڑا ہُوا۔ اَور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے ۔ 23 ۔اَور کہا۔ اَے خُداوند اِسرائیل کے خُدا! تیری مانند نہ تو اُوپر آسمان میں نہ نیچے زمین پر کوئی خُدا ہَے۔ تُو اپنے اُن بندوں کے لئے جو تیرے حضُور اپنے سارے دِل سے چلتے ہَیں عہد اَور رحمت کونِگاہ میں رکھتا ہَے۔ 24 ۔ جس نے اپنے بندے میرے باپ داؤد سے وہ بات قائم رکھّی جو تُو نے اُس سے کہی۔ تُو نے اپنے مُنہ سے بات کی اَور اپنے ہاتھوں سے پُوری کی جیسا آج کے دِن ہَے۔ 25 ۔ اَور اَب اَے خُداوند اِسرائیل کے خُدا! اپنے بندے میرے باپ داؤد کے لئے اُس بات کو نِگاہ میں رکھّ جو تُو نے کلام کرکے فرمائی۔ کہ تیرے لئے میرے حضُور مَرد کی، جو اِسرائیل کے تخت پر بیٹھے کمی نہ ہوگی بشرطیکہ تیری اولاد اپنی راہ کی حِفاظت کرے اَور میرے سامنے اِس طرح چلے جس طرح تُو میرے آگے چلا۔ 26 ۔اَور اَب اَے خُداوند اِسرائیل کے خُدا! اپنے اُس قول کو جو تُو نے اپنے بندے میرے باپ داؤد سے فرمایا مُستحکم کر۔ 27 ۔ پس کیافی الحقیقت خُدا زمین پرسکُونت کرے گا؟ کیونکہ افلاک بلکہ فلک اُلاَفلاک میں تیری گُنجائش نہیں تو پِھر کِس طرح اِس گھر میں جو مَیں نے بنایا ہَے؟ 28 ۔اپنے بندے کی دُعا اَور مِنّت کی طرف توجُّہ کر۔ اَے خُداوند میرے خُدا! اَور اپنے بندے کی دُعا اَور اِلتجا سُن جو وہ آج کے دِن تیرے آگے کرتا ہَے ۔ 29 ۔تیری آنکھیں اِس گھر پر رات اَور دِن کھُلی رہیں۔ اُس جگہ پر جس کی بابت تُو نے کہا۔ کہ میرا نام اُس میں ہوگا۔ تاکہ تُو اپنے بندے کی دُعا سُنے جو اِس مقام کی طرف رُخ کرکے کرتا ہَے۔ 30 ۔ اَور تُو اپنے بندے اَور اپنی قوم اِسرائیل کی مِنّت کوقبُول فرما۔ جب وہ اِس جگہ کی طرف رُخ کرکے دُعا کریں۔ اَور اُس جگہ سے جہاں تُو آسمان میں رہتا ہَے، سُن۔ اَور جب تُو نے سُنا۔ تومُعاف کر۔ 31 ۔ اگر کوئی آدمی اپنے ہمسائے سے بَدی کرے۔ اَور اُس پرقَسم واجب کی جائے۔ کہ وہ قَسم کھائے۔ اَور وہ قَسم کھانے کے لئے اِس گھر میں تیرے مذَبح کے سامنے آئے۔ 32 ۔ تو تُو آسمان پر سے سُن اَور عمل کر۔ اَور اپنے بندوں کے درمیان اِنصاف کر۔ کہ شریر پر فتوی لگا۔ اَور اُس کی رَوِش کو اُس کے سر پر رکھّ اَور راست باز کو صادِق ٹھہرا۔ اَور اُس کی نیکی کے مُطابِق اُسے جزادے۔ 33 ۔ اَور اگر تیری قوم اِسرائیل تیرے خلاف گُناہ کرنے کے باعث اپنے دُشمنوں کے سامنے سے شِکسَت کھائے پِھر توبہ کرکے تیری طرف رجُوع کرے اَور تیرے نام کا اِقرار کرے اَور دُعا مانگے۔ اَور اِس گھر کی طرف رُخ کرکے تُجھ سے مِنّت کرے۔ 34 ۔ تو تُو آسمان سے سُن۔ اَور اپنی قوم اِسرائیل کے گُناہ کو مُعاف کر۔ اَور اُسے اُس مُلک میں جو تُو نے اُن کے باپ دادا کو عطا کِیا، واپس لے آ۔ 35 ۔ اَور اگر آسمان بند ہوجائے۔ اَور تیرے خلاف اُس کے گُناہ کرنے کے باعِث بارِش نہ ہَو۔ اَور وہ اِس جگہ کی طرف رُخ کرکے دُعا مانگے اَور تیرے نام کا اِقرار کرے اَور جب تُونے اُسے مُصیِبت میں ڈالا تو وہ اپنے گُناہ سے پِھرے۔ 36 ۔ پس تُو آسمان سے سُن۔ اَور اپنے بندوں اَور اپنی قوم اِسرائیل کا گُناہ مُعاف کر۔ اَور نیک راہ کی اُنہیں ہدایت کر کہ جس پر وہ چلیں۔ اَور اُس مُلک پر جو تُو نے اپنی قوم کو مِیَراث کے لئے عطا کِیا، مِینہ برسا۔ 37 ۔اَور اگر زمین میں کال یا وَبا یا کیڑا یا پھپھوندی یا ٹِڈّی یا جھانجا پڑے یا جب اُن کے شہروں کی زمین میں اُن کے دُشمن اُنہیں گھیر لیں۔ اَور وہ کِسی آفت یادُکھ میں مُبتلا ہوں۔ 38 ۔ تو ہر ایک دُعا اَور ہر ایک مِنّت جو کِسی آدمی کی ہو یا تیری ساری قوم اِسرائیل کی جس میں سے ہر ایک اپنے دِل کی بَدی کو پہچانے۔ اَور اپنے ہاتھ اِس گھر کی طرف رُخ کرکے پھیلائے۔ 39 ۔ پس تُو آسمان سے جو تیرے رہنے کی جگہ ہَے سُن۔ اَور مُعاف کر۔ اَور ایسا کر۔ کہ ہر ایک کو بمُطابِق اُس کی رَوِش کے جیسا کہ تُو اُس کے دِل کو جانتا ہَے ،جزا مِلے۔ کیونکہ تُو ہی اکیلا سب بنی آدم کے دِلوں کو جانتا ہَے 40 ۔ تاکہ وہ اپنے سب دِنوں میں جب تک وہ اُس مُلک پر جو تُو نے اُن کے باپ دادا کو عطا کِیا جِیئیں تُجھ سے ڈرتے رہیں۔ 41 ۔ اَور ایسا ہی وہ اجنبی آدمی جو تیری قوم اِسرائیل سے نہیں۔ جب تیرے نام کی خاطِر دُور کے مُلک سے آئے۔ 42 ۔کیونکہ وہ تیرے عظیم نام اَور تیرے دستِ قادِر اَور تیرے پھیلائے ہُوئے بازُو کی بابت سُنیں گے) تو وہ آئے اَور اِس گھر کی طرف رُخ کر کے دُعا مانگے۔ 43 ۔ تو تُو آسمان سے اپنے رہنے کے مقام سے سُن۔ اَور جو کُچھ اُس اجنبی نے اُس میں تُجھ سے مانگا۔ اُس کے مُطابِق کرتا کہ زمین کی سب قومیں تیرے نام کو جانیں۔ اَور تیری قوم اِسرائیل کی مانند تُجھ سے ڈریں اَور جانیں کہ تیرا نام اِس گھر پر جو مَیں نے بنایا، لِیا گیا ہَے۔ 44 ۔ اَور جب تیری قوم اپنے دُشمنوں کے خلاف اُس راہ پر جس میں تو اُسے بھیجے، لڑائی کرنے کے لئے باہر نِکلے اَور تُجھ سے اُس شہر کی طرف جو تُو نے چُنا اَور اُس گھر کی طرف جو مَیں نے تیرے نام کے لئے بنایا رُخ کرکے دُعا مانگیں۔ 45 ۔ تو تُو آسمان پر سے اُن کی دُعا اَورمِنّت سُن۔ اَور اُن کے لئے اِنصاف کر۔ 46 ۔ اَور اگر وہ تیرا گُناہ کریں۔ کیونکہ کوئی اِنسان نہیں جو گُناہ نہیں کرتا۔ اَورتُو اُن سے ناراض ہو۔ اَور اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے قابُو میں کردے۔ اَور وہ اُنہیں دُشمنوں کے مُلک میں دُور یا نزدِیک اسیر کرکے لے جائیں۔ 47 ۔پِھر اُس مُلک میں جہاں وہ اسیر ہو کر گئے وہ اپنے دِلوںمیں سوچیں۔ اَور پھریں۔ اَور اپنی اسیری کے مُلک میں تُجھ سے مِنّت کریں اَور کہیں کہ ہم نے گُناہ کِیا ہم نے بَدی کی ہم نے شرارت کیا ۔ 48 ۔ اَور سارے دِل وجان سے اپنے دُشمنوں کے اُس مُلک میں جس میں وہ اسیر ہو کر گئے تیرے پاس آئیں۔ اَور اِس مُلک کی طرف جو تُو نے اُن کے باپ دادا کو عطا کِیا۔ اَور اِس شہر کی طرف جِسے تُو نے چُن لِیا۔ اَور اِس گھر کی طرف جو مَیں نے تیرے نام کے لئے بنایا۔ رُخ کرکے تُجھ سے دُعا کریں۔ 49 ۔ تو تُو آسمان سے جو تیرے رہنے کی جگہ ہَے اُن کی دُعائیں اَور اُن کی مِنّتیں سُن۔ اَور اُن کے لئے اِنصاف کر۔ 50 ۔ اَور اپنے لوگوں کی جِنہوں نے تیرا گُناہ کِیا سب بَدیوں کو جو اُنہوں نے تیرے خلاف کیں مُعاف کر۔ اَور اُن کے اسیر کرنے والوں کے سامنے اُن پر رَحم کر تاکہ وہ اُن پر ترس کھائیں۔ 51 ۔ کیونکہ وہ تیرے لوگ تیری مِیرَاث ہَیں جِنہیں تُو نے مِصر سے لوہے کے بھٹے کے درمیان سے نِکالا۔ 52 ۔ تیری آنکھیں تیرے بندے کی مِنّت پر اَور تیری قوم اِسرائیل کی مِنّت پر کُھلی رہیں۔ اَور جو کُچھ وہ تُجھ سے مانگیں تو اُن کی سُن۔ 53 ۔کیونکہ تُو نے اُنہیں اپنی میِرَاث کے طور پر زمین کی تمام قوموں کے درمیان سے علیٰحدہ کِیا۔ جیسا کہ تُو نے اپنے بندے مُوسیٰ کی زُبان سے فرمایا۔ جس وقت تُو نے ہمارے باپ دادا کو مِصر سے باہر نِکالا۔ اَے خُداوند خُدا! 54 ۔ سُلیمان کی برکت اَور جب سُلیمان نے خُداوند سے یہ دُعا اَور مِنّت ختم کی۔ تو وہ خُداوند کے مذَبح کے آگے سے اُٹھا جہاں پر وہ گُھٹنے ٹیکے ہُوئے تھا اَور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے ہُوئے تھے۔ 55 ۔ اَور وہ کھڑا ہُوا۔ اَور بُلند آواز سے اِسرائیل کی ساری جماعت کو برکت دی اَور کہا۔ 56 ۔ مُبارَک ہو خُداوند جس نے اپنی قوم اِسرائیل کو اپنے سارے کلام کے مُطابِق آرام بخشا۔ اَور اُن سب اچھّی باتوں میں سے جو اُس نے اپنے بندے مُوسیٰ کی زُبان سے فرمائیں ایک بات بھی رہ نہ گئی ۔ 57 ۔خُداوند ہماراخُدا ہمارے ساتھ ہو۔جیسا کہ وہ ہمارے باپ دادا کے ساتھ تھا۔ اَور ہمیں ترک نہ کرے نہ ہمیں چھوڑے۔ 58 ۔ اَور ہمارے دِل اپنی طرف مائل کرے۔ کہ ہم اُس کی سب راہوں پر چلیں اَور اُس کے سب اِحکام اَور قَوانِین اَور آئین کو جو اُس نے ہمارے باپ دادا سے فرمائیں، مانیں۔ 59 ۔ اَور میری یہ باتیں جِن کی مَیں نے خُداوند سے مِنّت کی ہَے۔ رات اَور دِن خُداوند کے نزدِیک ہوں۔ تاکہ وہ اپنے بندے کا اِنصاف اَور اپنی قوم اِسرائیل کا اِنصاف ہر ایک دِن کی ضرُورت کے مُطابِق تمام کرے۔ 60 ۔ تاکہ زمین کی سب قومیں جانیں۔ کہ خُداوند ہی خُدا ہَے اَور اُس کے سِوا اَور کوئی نہیں۔ 61 ۔پس تُمہارے دِل خُداوند ہمارے خُدا کے لئے کامِل ہوں۔ تاکہ تُم اُس کے قَوانِین پر چلو۔ اَور اُس کے اِحکام کو آج کے دِن کی طرح مانو۔ 62 ۔پِھر بادشاہ نے اَور اُس کے ساتھ سارے اِسرائیل نے خُداوند کے سامنے ذَبیحے ذَبح کِئے۔ 63 ۔ اَور سُلیمان نے خُداوند کے لئے سلامتی کے ذَبیحے بائیس ہزار بَیل اَور ایک لاکھ بیس ہزار بھیڑیں ذَبح کیں۔ سو بادشاہ نے اَور سارے بنی اِسرائیل نے خُداوند کا گھر مخصُوص کِیا۔ 64 ۔ اَور اُسی دِن بادشاہ نے صحن کے درمیانی حِصّے کو جو خُداوند کے گھر کے سامنے تھا، مُقدّس کِیا۔ کیونکہ وہاں سوختنی قُربانیاں اَور نَذَر کی قُربانیاں اَور سلامتی کے ذَبیحوں کی چربیاں گُزرانیں کیونکہ پِیتل کا مذَبح جو خُداوند کے آگے تھا۔ سو ختنی قُربانیوں اَور نَذَر کی قُربانیوں اَور سلامتی کے ذَبیحوں کی چربیوں کی گُنجائش کے لئے چھوٹا تھا۔ 65 ۔ اَور سُلیمان نے اُس وقت اَور اُس کے ساتھ سارے اِسرائیل کی ایک نہایت بڑی جماعت نے حمات کے دروازے سے لے کر مِصر کے دریا تک خُداوند کے سامنے سات دِن اَور پھر سات دِن یعنی چودہ روز عید کیا۔ 66 ۔اَور آٹھویں دِن اُس نے لوگوں کو رُخصت کِیا۔ اَور لوگوں نے بادشاہ کو مُبارَک باد دی۔ اَور خُوشی کرتے ہُوئے شادمان دِل سے اپنے خَیموں کو چلے گئے۔ اُس تمام نیکی کے باعِث جو خُداوند نے اپنے بندے داؤد اَور اپنی قوم اِسرائیل سے کی تھی۔