باب

1 ۔ اَخی اب کی فتح مندی اَور اَرام کے بادشاہ بِن ہَدَد نے اپنا سارا لشکر جمع کِیا۔ اَور اُس کے ساتھ بتیِس بادشاہ اَور گھوڑے اَور گاڑیاں تھیں۔ اَور اُس نے جا کر سامریہ کا مُحاصرہ کِیا اَور اُس سے لڑائی کی۔ 2 ۔ اَور اُس نے اِسرائیل کے بادشاہ اَخی اب کے پاس شہر میں قاصِد بھیجے۔ 3 ۔اور اُس سے کہا۔ کہ بِن ہَدَدیُوں کہتا ہَے۔ کہ تیری چاندی اَور تیرا سونا میرا ہی ہَے۔ اَور تیری بیویاں اَور تیرے خُوبصُورت بیٹے بھی میرے ہی ہَیں ۔ 4 ۔ تو اِسرائیل کے بادشاہ نے جَواب دِیا اَور کہا۔ اَے میرے آقا بادشاہ جیسا تُو نے کہا ہَے۔ مَیں اَور سب کُچھ جو میرا ہَے تیرا ہی ہَے۔ 5 ۔ پِھر قاصِد واپس آئے اَور کہا کہ بِن ہَدَد نے جس نے ہمیں تیرے پاس بھیجا ہَے۔ یُوں کہا ہَے۔ کہ تیری چاندی اَور تیرا سونا اَور تیری بیویاں اَور تیرے بیٹے میرے ہَیں۔ تُو اُنہیں میرے حوالے کر۔ 6 ۔ اَور مَیں کَل اِسی گھڑی اپنے نو کروں کو تیرے پاس بھیجُوںگا۔ تاکہ وہ تیرے گھر کی اَور تیرے خادِموں کے گھروں کی تلاشی کرلیں۔ اَورہر ایک چیز جو تیری آنکھوں میں مرغُوب ہَے۔ اُسے وہ اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ اَور لے جائیں گے۔ 7 ۔ تب اِسرائیل کے بادشاہ نے مُلک کے تمام بزُرگوں کو بُلایا۔ اَور اُن سے کہا۔ تُم جان لو اَور دیکھو۔ کہ یہ آدمی فساد کرنا چاہتا ہَے۔ کہ اُس نے میری بیویوں اَور میرے بیٹوں اَور میری چاندی اَور میرے سونے کے لئے میرے پاس آدمی بھیجے۔ تو مَیں نے اُس سے اِنکار نہ کِیا۔ 8 ۔ تب سب بزُرگوں اَور تمام لوگوں نے اُس سے کہا۔ کہ تُو مت سُن۔ اَور مت مان۔ 9 ۔ تو اُس نے بِن ہَدَد کے قاصِدوں سے کہا۔ کہ تُم میرے مالِک بادشاہ سے بولو۔ کہ جو کُچھ تُو نے اپنے بندے سے پہلے بھیج کر مانگا۔ مَیں کرُوں گا۔ لیکن اِس اَمر کی مُجھ میں طاقت نہیں۔ تب قاصد روانہ ہُوئے اَور جَواب پُہنچایا ۔ 10 ۔ تو وہ پِھر آئے کہ بِن ہَدَد کہتا ہَے۔ مَعبُود مُجھ سے ایسا ہی کریں اَور اِس سے زیادہ کریں۔ اَگر سامریہ کی مِٹی اُن لوگوں کی مُٹھیوں کے لئے جو میرے پیچھے آئیں گے کافی ہو۔ 11 ۔ تو اِسرائیل کے بادشاہ نے جَواب دے کر کہا۔ تُم اُس سے کہو۔ کہ جو کَمر بند باندھتا ہَے وہ اُس کی طرح شیخی نہ مارے جو اپنا کَمر بندکھولتا ہَے۔ 12 ۔ جب اُس نے یہ بات سُنی اُس وقت وہ بادشاہوں کے ساتھ خَیموں میں مَے نوشی کررہا تھا۔ تو اُس نے اپنے مُلازِموں سے کہا۔ کہ مُحاصرہ کرو۔ سو اُنہوں نے شہر کا مُحاصرہ کِیا ۔ 13 ۔ اَور دیکھو ایک نبی نے اِسرائیل کے بادشاہ اَخی اب کے پاس آ کر کہا۔ خُداوند یُوں فرماتا ہَے کیا تُو نے یہ عظیم گروہ دیکھا؟ دیکھو۔ مَیں آج اُسے تیرے ہاتھ میں دے دُوں گا۔ تاکہ تُو جانے کہ مَیں خُداوند ہُوں۔ 14 ۔ اَخی اب نے جَواب دے کر کہا۔ کِس کے ہاتھ سے ؟ اُس نے کہا۔ خُداوند یُوں فرماتا ہَے کہ صُوبوں کے رئیسوں کے جوانوں کے ہاتھ سے۔ اُس نے کہا۔ کون لڑائی شرُوع کرے؟ اُس نے کہا تُو۔ 15 ۔ تب اُس نے صُوبوں کے رئیسوں کے جوانوں کا شُمار کِیا۔ تو وہ دو سَو تیس آدمی تھے۔ اَور اُن کے بعد اُس نے سب لوگوں یعنی تمام بنی اِسرائیل کا شُمار کِیا۔ جو سات ہزار تھے۔ 16 ۔ اَور وہ دوپہر کے وقت باہر نِکلے۔ اَور بِن ہَدَد اَور بتیس بادشاہ جو اُس کے مددگار تھے۔ خَیموں میں شراب پی کر نشے میں تھے۔ 17 ۔ اَور صُوبوں کے سرداروں کے جوان پہلے نِکلے۔ تو بِن ہَدَد نے آدمی بھیجے۔ اُنہوں نے اُسے خبر دی اَور کہا۔ کہ سامریہ سے لوگ نِکلے ہَیں۔ 18 ۔ اُس نے کہا۔ اگروہ صُلح خواہ ہو کر نِکلے ہَیں تو اُنہیں زِندہ پکڑلو۔ اَور اگر وہ لڑائی کے لئے نِکلے ہَیں تو بھی اُنہیں زِندہ پکڑو۔ 19 ۔ تب صُوبوں کے رئیسوں کے جوان شہر سے باہر نِکلے۔ اَور لشکر اُن کے پیچھے تھا۔ 20 ۔ اَور ہر ایک آدمی نے اپنے سامنے کے آدمی کو مارا۔ تو اَرامی بھاگے۔ اَور اِسرائیل نے اُن کا پیچھا کِیا۔ تو اَرام کا بادشاہ بِن ہَدَد گھوڑے پر سَوار ہو کر ساتھ سَواروں کے بھاگ گیا۔ 21 ۔ اَور اِسرائیل کا بادشاہ باہر نِکلا اَور گھوڑوں اَور گاڑیوں کو مارا۔ اَور اَرامیوں کو بہ شِدّت قتل کِیا ۔ 22 ۔ تب ایک نبی نے اِسرائیل کے بادشاہ کے پاس آکر کہا۔ روانہ ہو۔ اَور اپنے آپ کو مضبُوط کر۔ اَور سوچ اَور دیکھ کہ تُو کیا کرتا ہَے۔ کیونکہ برس کے پِھرتے وقت اَرام کا بادشاہ پِھر تُجھ پر چڑھائی کرے گا۔ 23 ۔ اَور شاہِ اَرام کے خادِموں نے اُس سے کہا۔ کہ اِسرائیل کا خُدا پہاڑی خُدا ہَے۔ اِس لئے وہ ہم پر غالِب آئے۔ لیکن اگر ہم اُن سے میدان میں لڑیں تو ہم اُن پر غالِب آئیں گے۔ 24 ۔ اَور تُو یہ بات کر۔ کہ بادشاہوں کو اُن کی جگہ سے مَعزُول کر۔ اَور اُن کی بجائے رسالہ داروں کو مُقرّر کر۔ 25 ۔ اَور تُو اپنے لئے اُس لشکر کی مانند ایک لشکر تیّار کر، جو مارا گیا ہَے۔ گھوڑے کے بدلے گھوڑا۔ اَور رتھ کے بدلے رتھ۔ اَور ہم اُن کے ساتھ میدان میں جنگ کرےں گے۔ اَور اُن پر غالِب آئیں گے۔ تو اُس نے اُن کی بات سُنی۔ اَور ایسا ہی کِیا۔ 26 ۔ تب سال کے پِھرتے وقت بِن ہَدَد نے اَرامیوں کا شُمار کِیا۔ اَور اِسرائیل سے جنگ کرنے کے لئے افیق پر چڑھائی کردی۔ 27 ۔ اَور بنی اِسرائیل کا شُمار کِیاگیا۔ اُنہیں خُوراک دی گئی۔ اَور وہ اُن کا سامنا کرنے کو گئے۔ اَور بنی اِسرائیل بکریوں کے دو چھوٹے چھوٹے جُھنڈوں کی طرح اُن کے مُقابِل میں خَیمہ زن ہُوئے جب کہ مُلک اَرامیوں سے بھر گیا تھا۔ 28 ۔ تب ایک مَردِ خُدا نے آ کر اِسرائیل کے بادشاہ سے کلام کِیا اَور کہا۔ خُداوند یُوں فرماتا ہَے چُونکہ اَرامیوں نے کہا ہَے۔ کہ خُداوند پہاڑی خُداہَے اَور وادیوں کا خُدا نہیں اِس لئے مَیں اِس سارے بھاری گروہ کو تیرے ہاتھ میں دے دُوں گا۔ تاکہ تُم جانو۔ کہ مَیں خُداوند ہُوں۔ 29 ۔ سو یہ اُن کے مُقابِل سات دِن تک خَیمہ زن رہے۔ جب ساتواں دِن ہُوا۔ تو آمنے سامنے لڑائی لگی۔ اَور بنی اِسرائیل نے اَرامیوں میں سے ایک دِن میں ایک لاکھ پِیادے قتل کردیئے۔ 30 ۔ اَورباقی ماندہ افیق کے شہر کو بھاگ گئے۔ اَور وہاںستائیس ہزار آدمیوں پر جو باقی رہے تھے دِیوار گِر پڑی۔ اَور بِن ہَدَد بھاگا۔ اَور شہر کے اندر دربدر چھپنے کے لئے بھاگتا پِھرتاتھا۔ 31 ۔ اَور اُس کے مُلازِموں نے اُس سے کہا۔ ہم نے سُنا ہَے۔ کہ اِسرائیل کے گھرانے کے بادشاہ رَحم دِل بادشاہ ہَیں۔ سو ہمیں اِجازت دے کہ ہم اپنی کمروں پر ٹاٹ کَسیں اَور اپنے سروںپر رسّے باندھیں اَور اِسرائیل کے بادشاہ کے پاس جائیں۔ شاید کہ وہ تیری جان بخشی کرے۔ 32 ۔ تب اُنہوں نے ٹاٹ اپنی کَمروں پر کَسے۔ اَور سروں پر رسّے باندھے۔ اَور اِسرائیل کے بادشاہ کے پاس آئے اَور کہا۔ تیرا خادِم بِن ہَدَدکہتا ہَے۔ مَیں تُجھ سے اِلتجا کرتا ہُوں۔ کہ میری جان بخشی کر تو اُس نے کہا۔ کیا وہ ابھی تک زِندہ ہَے؟ وہ تو میرا بھائی ہَے۔ 33 ۔ تو وہ آدمی خُوش ہُوئے۔ اَور جلدی سے اُس کے مُنہ کی بات پکڑی اَور کہا۔ بِن ہَدَد تیرا بھائی ہَے۔ تو اُس نے کہا۔ جاؤ اُسے لے آؤ۔ تو بِن ہَدَد اُس کے پاس آیا۔ اَور اُس نے اُسے اپنے رتھ میں چڑھایا۔ 34 ۔ اَور اُس نے اُس سے کہا۔ کہ وہ شہر جو میرے باپ نے تیرے باپ سے لے لِئے مَیں تُجھے واپس دیتا ہُوں۔ اَور تُو اپنے لئے دمشق میں بازار بنوا۔ جیسا کہ میرے باپ نے سامریہ میں کِیا۔ اُس نے کہا۔ اِسی عہد پر مَیں تُجھے روانہ کرُوں گا ۔سو اُس نے اُس سے عہد کِیا۔ اَور اُسے جانے دِیا ۔ 35 ۔ اَور انِبیازادوں میں سے ایک آدمی نے خُداوند کے حُکم سے اپنے ساتھی سے کہا کہ مُجھے مار۔ تو اُس آدمی نے مارنے سے اِنکار کِیا۔ 36 ۔ تب اُس نے اُس سے کہا۔ کیونکہ تُو نے خُداوند کا حُکم نہ مانا۔ سو جُونہی تُو میرے پاس سے روانہ ہوگا۔ تو ایک شیر تُجھے مارڈالے گا۔ سو جُونہی وہ اُس کے پاس سے روانہ ہُوا۔ اُسے ایک شیرمِلا۔ جس نے اُسے مار ڈالا۔ 37 ۔ پِھر وہ ایک اَور آدمی کو مِلا۔ اَور اُس سے کہا۔ کہ مُجھے مار۔ تو اُس آدمی نے اُسے مار ماری اَور اُسے زخمی کِیا۔ 38 ۔ تب وہ نبی چلا گیا۔ اَور راہ میں بادشاہ کے لئے ٹھہرا۔ اَور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر شکل بدلی۔ 39 ۔ جب بادشاہ وہاں سے گُزرا تو اُس نے بادشاہ کو پُکارا اَور کہا۔ کہ تیرا خادِم جنگ ہوتے میں وہاں گیا تھا تو دیکھو ایک آدمی ایک طرف کو گیا۔ اَور میرے پاس ایک آدمی کو لے آیا اَور کہا۔ کہ اِس آدمی کی نگہبانی کر۔ اَور اگر وہ تُجھ سے غائب ہوگیا۔ تو تیری جان اُس کی جان کے بدلے میں ہوگی یا تُو مُجھے چاندی کا ایک قِنطار تول کردے گا۔ 40 ۔ اَور جس وقت تیرا خادِم اِدھر اُدھر مَشغُول تھا۔ تو وہ آدمی گُم ہوگیا۔ اِسرائیل کے بادشاہ نے اُس سے کہا۔ تُجھ پر یہی حُکم ہَے جو تُو نے آپ فیصلہ کِیا۔ 41 ۔ تب اُس نے جلدی سے اپنی آنکھوں پر سے پٹی ہٹائی تو اِسرائیل کے بادشاہ نے اُسے پہچانا۔ کہ وہ نبیوں میں سے ایک ہَے۔ 42 ۔ تب نبی نے اُس سے کہا۔ خُداوند یُوں فرماتا ہَے چُونکہ تُو نے اپنے ہاتھ سے ایک آدمی کو جانے دِیا۔ جسے مَیں نے واجِبُ القتل ٹھہرایا تھا۔ تو تیری جان اُس کی جان کے بدلے میں ہوگی۔ اَور تیرے لوگ اُس کے لوگوں کے بدلے میں ہوں گے۔ 43 ۔ تب اِسرائیل کا بادشاہ غمگِین اَور ناخُوش ہو کر اپنے گھر کو پِھرا۔ اَور سامریہ میں آیا۔