باب

1 ۔ اِیلیاہ کا فرار اَور اَخی اب نے سب کُچھ جو اِیلیاہ نے کِیا تھا اِیزبل کو بتایا۔ اَور کیوں کر اُس نے سب نبیوں کو تلوار سے قتل کِیا۔ 2 ۔ تب اِیزبل نے اِیلیاہ کے پاس قاصِد بھیجا اَور کہا۔ کہ مَعبُود ایسا کریں اَور اِس سے زیادہ کریں۔ اگر کَل کے روز اِسی وقت مَیں تیری جان کو اُن میں سے ایک کی جان کی مانند نہ کرُوں۔ 3 ۔ تب وہ ڈرا اَور اُٹھ کر اپنی جان بچانے کو بھاگا۔ اَور بیرسبع میں پُہنچا جو یہوداہ کا ہَے اَور اپنے نوکر کو وہاں چھوڑا۔ 4 ۔ پھِر وہ ایک دِن کی راہ بِیابان میں گیا۔ اَور جا کر جھاؤ کے ایک درخت کے نیچے بیٹھا۔ اَور اپنے لئے مَوت مانگی اَور کہا۔ یہ میرے لئے اب بس ہَے اَے خُداوند! پس میری جان لے۔ کیونکہ مَیں اپنے باپ دادا سے بہتر نہیں ہُوں۔ 5 ۔ تب وہ لیٹ گیا۔ اَور جھاؤکے نیچے سو گیا۔ تو دیکھو ایک فرِشتے نے اُسے چُھوا۔ اَور اُس سے کہا اُٹھ اَورکھا۔ 6 ۔ اُس نے نظر کی۔ تو دیکھو اُس کے سر کے پاس ایک روٹی چُولھے پر پکائی ہُوئی اَور پانی کی گھڑیا ہَے۔ تو اُس نے کھایا اَور پیا۔ اَور پِھر لیٹ گیا۔ 7 ۔ تو خُداوند کا فرِشتہ دوبارہ اُس کے پاس آیا۔ اَور اُسے چُھوا۔ اَور کہا اُٹھ اَور کھا۔ کیونکہ تیرے آگے دُور کی راہ ہَے ۔ 8 ۔ تب وہ اُٹھا اَور کھایا اَور پِیا۔ اَور اُس کھانے کی قوُّت سے چالیس دِن اَور چالیس رات خُدا کے پہاڑ حورب تک چلتا رہا 9 ۔ اِیلیا ہ پر خُدا کا ظہُور اَوروہاں ایک غار کے اندر چلا گیا۔ اَور اُس میں رہنے لگا۔ تو دیکھو خُداوند نے اُس سے ہم کلام ہو کر کہا۔ اَے اِیلیاہ ! تُو یہاں کیا کرتا ہَے؟ 10 ۔ وہ بولا۔ کہ خُداوند ربُّ الافواج کے لئے مُجھے بڑی غیرت آئی کیونکہ بنی اِسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کِیا۔ اَور تیرے مذَبحوں کو ڈھا دیا۔ اَور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کردِیا۔ اَور مَیں ہی اکیلا باقی رہ گیا ہُوں۔ اَور وہ میری جان کی بھی تلاش کرتے ہَیں کہ اُسے لیں۔ 11 ۔ تو اُس نے کہا باہر نِکل اَور خُداوند کے آگے پہاڑ پر کھڑا ہو۔ اَور دیکھ خُداوند گُزرتاہَے۔ اَور بڑی شدید آندھی پہاڑوں کو پھاڑنے والی اَور چٹانوں کو توڑنے والی خُداوند کے آگے ہَے۔ مگر خُداوند آندھی میں نہیں تھا۔ اَور آندھی کے بعد زلزلہ ہَے اَور خُداوند زلزلہ میں نہیں تھا۔ 12 ۔ اَور زلزلہ کے بعد آگ ہَے اَور خُداوند آگ میں نہیں تھا۔ اَور آگ کے بعد ایک دبی ہوئی آواز آئی ۔ 13 ۔ جب اِیلیاہ نے سُنا۔ تو اُس نے اپنے مُنہ کو اپنی چادر سے چُھپایا۔ اَور باہر نِکل کر غار کے مُنہ پر کھڑا ہُوا۔ تو دیکھو ایک آواز اُس سے کہتی ہَے۔ اَے اِیلیاہ۔ تُو یہاں کیا کرتاہَے؟ 14 ۔ اُس نے کہا۔ مُجھے خُداوند ربُّ الافواج کے لئے بڑی غیرت آئی۔ کیونکہ بنی اِسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کِیا۔ اَور تیرے مذَبحوں کو ڈھادیا۔ اَور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کردِیا۔ اَور مَیں ہی اکیلا باقی رہ گیا ہُوں۔ سو وہ میری جان کی بھی تلاش کرتے ہَیں کہ اُسے لیں۔ 15 ۔ خُداوند نے اُس سے کہا۔ روانہ ہو۔ اَور دَمشق کے بیابان کی طرف اپنی راہ پر واپس ہو۔ اَور جب تُو وہاں پُہنچے تو حزائیل کو مَسح کر کہ وہ ارام کا بادشاہ ہو ۔ 16 ۔ اَور یاہوبن نِمسی کومَسح کر کہ اِسرائیل پر بادشاہ ہو۔ اَورابیل محولہ کے الِیشع بِن سافط کومَسح کر۔ کہ تیری جگہ نبی ہو۔ 17 ۔ تو ایسا ہوگا کہ جو کوئی حزائیل کی تلوار سے بچے گا۔یاہُو اُسے قتل کرے گا اَور جو کوئی یاہُو کی تلوار سے بچے گا اُسے الِیشع قتل کرے گا۔ 18 ۔اَور مَیں اِسرائیل میں سات ہزار کو اپنے لئے بچاوُں گا۔ یعنی سب گُھٹنے جو بَعلَ کے آگے نہیں جُھکے ہَیں اَور ہر مُنہ جس نے اُسے نہیں چُوماہَے 19 ۔ تب وہ وہاں سے چل پڑا۔ اَور الِیشع بِن سافط کو مِلا جو ہَل چلا رہا تھا اَور اُس کے آگے بارہ جوڑے بَیلوں کے تھے اَور وہ بارھویں کے ساتھ تھا۔ تو اِیلیاہ اُس کی طرف گُزرا۔ اَور اپنی چادر اُس پر ڈال دی۔ 20 ۔ تو اُس نے بَیلوں کو چھوڑا۔ اَور اِیلیاہ کے پیچھے دوڑا۔ اَور اُس سے کہا۔ مُجھے اِجازت دے۔ کہ مَیں اپنے باپ اَور اپنی ماں کو چُوموں۔ تب مَیں تیرے پیچھے چلُوں گا۔ اُس نے اُس سے کہا۔ جا اَور لَوٹ کر آ۔ خیال کر کہ مَیں نے تیرے ساتھ کیا کِیا ۔ 21 ۔ تب وہ اُس کے پیچھے سے لوٹا۔ اَور بَیلوں کی ایک جوڑی لی۔ اَور اُنہیں ذَبح کِیا۔ اَور بَیلوں کے ہَل سے اُن کا گوشت پکایا۔ اَور لوگوں کو دِیا۔ تو اُنہوں نے کھایا۔ تب وہ اُٹھا۔ اَوراِیلیاہ کے ساتھ چلا گیا۔ اَور اُس کی خدمت کرنے لگا۔