1 ۔ اِیلیاہ اَور بَعَل کے انِبیاء اَور بُہت دِنوں کے بعد تیسرے سال میں خُداوند نے اِیلیاہ سے ہم کلام ہو کر کہا۔ روانہ ہو۔ اَور اپنے آپ کو اَخی اب کو دِکھا۔ کہ مَیں زمین پر مِینہ برساوُں گا۔ 2 ۔ تب ایلیاہ چلا کہ اپنے آپ کو اَخی اب کو دِکھائے۔ اَور سامریہ میں بڑا سخت کال تھا۔ 3 ۔ اَور اَخی اب نے اپنے گھر کے داروغہ عبدیاہ کو بُلایا۔ اَور عبدیاہ بڑا خُدا ترس تھا۔ 4 ۔ کیونکہ جس وقت کہ ایزبل خُداوند کے نبیوں کو قتل کر رہی تھی۔تو عبدیاہ نے نبیوں میں سے سَو کو لِیا۔ اَور پچاس پچاس کرکے اُنہیں غاروں میں چُھپایا۔ اَور روٹی اَور پانی سے اُن کی پرورِش کی۔ 5 ۔ اَور اَخی اب نے عبدیاہ سے کہا۔ کہ مُلک میں سب پانی کے چشموں اَور نہروں کی طرف جا۔ شاید کہ کہیں گھاس مِلے۔ جس سے ہمارے گھوڑے اَور خچّریں زِندہ رہیں۔ اَور ہمارے سب چوپائے مَر نہ جائیں۔ 6 ۔ اَور اُنہوں نے مُلک کو اپنے درمیان تقسیم کِیا۔ تاکہ اُس میں پِھریں۔ سو اَخی اب اکیلا ایک طرف کو گیا۔ اَور عبدیاہ اکیلا دُوسری طرف کو۔ 7 8 ۔ اَور جب عبدیاہ راہ میں تھا۔ تو اِیلیاہ اُسے مِلا۔ تو اُس نے اُسے پہچانا اَور مُنہ کے بَل گِرا اَور کہا۔ کیا تُو میرا آقا اِیلیاہ ہَے؟ ۔اُس نے اُس سے کہا مَیں ہی ہُوں۔ جا اَور اپنے آقاسے کہہ کہ اِیلیاہ یہاں ہَے۔ 9 ۔ اُس نے کہا۔ میرا کیا گُناہ ہَے۔ کہ تُو اپنے خادِم کو اَخی اب کے ہاتھ میں حوالے کرتاہَے تاکہ وہ مُجھے قتل کرے۔ 10 ۔ زِندہ خُداوند تیرے خُدا کی قسَم۔ کہ کوئی قوم نہیں اَور کوئی مَملُکَت نہیں۔ جہاں میرے آقا نے تیری تلاش میں آدمی نہ بھیجے ہوں۔ اَور جب اُنہوں نے کہا کہ وہ یہاں نہیں تو اُس نے ہرایک مَملُکَت یا قوم سے حلف لیا کہ تُو اُنہیں نہیں مِلا ۔ 11 ۔ اَور اب تُو کہتا ہَے۔ کہ جا اَور اپنے آقا سے کہہ کہ اِیلیاہ یہاں ہَے۔ 12 ۔ اَور ایسا ہوگا۔ کہ جب مَیں تیرے پاس سے چلا جاؤں گا۔ تو خُداوند کی رُوح تُجھے ایسی جگہ لے جائے گی جِسے مَیں نہیں جانتا۔ اَور جب مَیں جا کے اَخی اب کو خبردُوں گا۔ اَور وہ تُجھے نہ پائے گا۔ تو وہ مُجھے قتل کرے گا۔ اَور تیرا خادِم اپنے لڑکپن ہی سے خُداوند سے ڈرتا ہَے۔ 13 ۔ کیا میرے آقا کو نہیں بتایا گیا۔ کہ جب ایزبل خُداوند کے نبیوں کو قتل کررہی تھی تو مَیں نے کیا کِیا؟ کہ خُداوند کے نبیوں میں سے ایک سَو کو پچاس پچاس کرکے غاروں میں چُھپایا اَور روٹی اَور پانی سے اُن کی پرورِش کی۔ 14 ۔ اَور اَب تُو کہتاہَے کہ جا کر اپنے آقا سے کہہ کہ اِیلیاہ یہاں ہَے۔ تو وہ مُجھے قتل کرے گا۔ 15 ۔ اِیلیاہ نے کہا۔ ربُّ الافواج کی زِندگی کی قَسم جس کے سامنے مَیں کھڑا ہُوں۔ کہ آج کے دِن مَیں اپنے آپ کو اُسے دِکھاوُں گا۔ 16 ۔ سو عبدیاہ گیا اَور اَخی اب کو مِلا اَور اُسے خبر دی۔ تب اَخی اب اِیلیاہ کے مِلنے کو آیا ۔ 17 ۔ جب اَخی اب نے اِیلیاہ کو دیکھا۔ اُس نے اُس سے کہا۔ کیا تُو ہی اِیلیاہ اِسرائیل کا دُکھ دینے والا ہَے؟ 18 ۔ اُس نے کہا۔ مَیں نے اِسرائیل کو دُکھ نہیں دِیا۔ بلکہ تُو نے اَور تیرے باپ کے گھرانے نے۔ کیونکہ تُم نے خُداوند کے حُکموں کو ترک کِیا۔ اَور بعلیم کی پیروی کی۔ 19 ۔ اب تُو قاصد بھیج اَور تمام اِسرائیل کو اَور بَعلَ کے چار سَو پچاس نبیوں کو جو اِیزبل کے دسترخوان پر کھایا کرتے ہَیں میرے لئے کوہ ِکرمِل پر جمع کر۔ 20 ۔ تو اَخی اب نے سارے اِسرائیل کے پاس قاصد بھیجا۔ اَور سب نبیوں کو کوہِ کرمِل پر جمع کِیا۔ 21 ۔ تب اِیلیاہ سب لوگوں کے سامنے آیا اَور اُن سے کہا۔ تُم کب تک دو طرفوں کے درمیان اٹکے رہو گے۔ اگر خُداوند ہی خُدا ہَے۔ تو اُس کی پیروی کرو۔ اَور اگر بَعلَ ہَے تو اُس کی پیروی کرو تو لوگوں نے جَواب میں ایک حرف بھی نہ کہا ۔ 22 ۔ تب اِیلیاہ نے لوگوں سے کہا۔ اِس وقت مَیں ہی اکیلا خُداوند کا نبی باقی ہُوں۔ اَور یہ بَعَل کے نبی چار سَو پچاس آدمی ہَیں۔ 23 ۔ پس دو بَیل ہمارے پاس لاؤ۔ تو وہ اپنے لئے ایک بَیل چُن لیں اَور اُس کے ٹُکڑے کریں اور لکڑیوں پر اُسے رکھیں۔ اور آگ نہ لگائیں ۔ اَور مَیں دُوسرا بَیل تیّار کرُوں گا اَور اُسے لکڑیوں پر دھرُوںگا اَور آگ نہیں رکھّوں گا تب تُم اپنے مَعبُود کے نام سے پُکارو۔ 24 ۔ اَور مَیں خُداوند کے نام سے پُکاروں گا تو جو خُدا آگ سے جَواب دے وہی خُدا ہَے۔تو سب لوگوں نے جَواب میں کہا۔ بُہت اچھّا! 25 ۔تب اِیلیاہ نے بَعلَ کے نبیوں سے کہا تُم اپنے لئے ایک بَیل چُن لواور اُسے پہلے تیّار کرو کیونکہ تُم بُہت ہو۔ اَور اپنے مَعبُود کے نام سے پُکارو۔ مگر آگ نہ رکھّو۔ 26 ۔ سو اُنہوں نے وہ بَیل جو اُنہیں دِیا گیا، لِیا اَور اُسے تیّار کِیا۔ اَور صُبح سے لے کر دوپہر تک بَعَل کے نام سے پُکارا۔ اَور وہ کہتے تھے۔ کہ اَے بَعَل ہمیں جَواب دے۔ مگر کوئی آواز نہ آئی۔ اَور نہ کوئی جَواب دینے والا تھا۔ اَور وہ اُس مذَبح کے گِرد جو اُنہوں نے بنایا کُودتے تھے۔ 27 ۔ جب دوپہر ہُوئی۔ ایلیاہ نے اُن سے ٹھٹھا کِیا اَور کہا۔ کہ اُونچی آواز سے چِلّاؤ۔ کیونکہ وہ ایک مَعبُود ہَے۔ شاید وہ غورو خوض کررہا ہَے۔ یا مصرُوف ہوگا۔ یا کہیں سفر میں ہوگا۔ یا شاید سو رہا ہَے۔ تو جگایا جائے ۔ 28 ۔ تو وہ بڑی آواز سے چِلّائے۔ اَور اپنے دستُور کے مُوافِق اپنے آپ کو تلواروں اَور نیزوں سے زخمی کِیا۔ یہاں تک کہ اُن کا خُون اُن پر بہنے لگا۔ 29 ۔ وہ دوپہر ڈھلے پر بھی شام کی قُربانی چڑھانے کے وقت تک نبُوّت کرتے رہے۔ مگر کوئی آواز نہ آئی۔ اَور نہ کوئی جَواب دینے والا اَور نہ کوئی سُننے والا تھا۔ 30 ۔ اِیلیاہ نے سب لوگوں سے کہا۔ میرے نزدِیک آؤ تو تمام لوگ اُس کے نزدِیک آئے۔ تو اُس نے خُداوند کے مذَبح کو جو ڈھایا گیا تھا مرمّت کِیا ۔ 31 ۔ اَور یَعقُوب جس سے خُدا نے ہم کلام ہو کر کہا تھا کہ تیرا نام اِسرائیل ہوگا۔ اِیلیاہ نے اُسی کے بیٹوں کے قبیلوں کے شُمار کے مُطابِق بارہ پتھّرلئے۔ 32 ۔ اَور اُن پتھّروں سے خُداوند کے نام پر مذَبح بنایا۔ اَور اُس کے گِرد ایک نالی بیج کے دو پیمانوں کے برابر چوڑی بنائی۔ 33 ۔ پِھر لکڑیاں ترتیب سے رکھیں۔ اَور بَیل کے ٹکڑے کِئے۔ اَور اُسے لکڑیوں پر دھرا۔ 34 ۔اَور اُس نے کہا ۔ کہ چار گھڑے پانی بھرو۔ اَور اُسے سوختنی قُربانی اَور لکڑیوں پر ڈالو۔ پِھر اُس نے کہا۔ دوبارہ ایسا ہی کرو۔ سو اُنہوں نے دوبارہ کِیا تب اُس نے کہا تین بارکرو۔ سو اُنہوں نے تین بار کِیا۔ 35 ۔ تو پانی مذَبح کے گِرد پِھر گیا۔ اَور نالی بھی پانی سے بھر گئی۔ 36 ۔ پس جب قُربانی چڑھانے کا وقت آیا۔ اِیلیاہ نبی نزدِیک آیا اَور کہا۔ اَے خُداوند اِبرہام اَور اِضحاق اَور اِسرائیل کے خُدا! آج کے دِن معلُوم ہوجائے۔ کہ تُو ہی اِسرائیل میں خُداہَے۔ اَور مَیں تیرا بندہ ہُوں۔ اَور یہ سب کُچھ مَیں نے تیرے حُکم سے کِیا ہَے ۔ 37 ۔ میری سُن۔ اَے خُداوند میری سُن۔ تاکہ یہ لوگ جانیں۔ کہ اَے خُداوند تُو ہی خُدا ہَے۔ اَور تُو نے اُن کے دِلوں کو پِھر پھیرا ہَے ۔ 38 ۔ تب خُداوند کی آگ نازِل ہُوئی۔ اَور سوختنی قُربانی اَور لکڑیوں اَور پتھّروں اَور مِٹّی کو کھا گئی۔ اَور پانی کو جو نالی میں تھا، چاٹ گئی۔ 39 ۔ جس وقت اُن سب لوگوں نے یہ دیکھا۔ وہ اپنے مُنہ کے بَل گِرے اَور بولے۔ خُداوند ہی خُدا ہَے۔ خُداوند ہی خُدا ہَے۔ 40 ۔ تب اِیلیاہ نے اُن سے کہا۔ کہ بَعَل کے نبیوں کو پکڑ لو۔ اَور اُن میں سے ایک بھی جانے نہ پائے۔ تو اُنہوں نے اُنہیں پکڑ لِیا۔ اَورایلیاہ اُنہیں نیچے قیسون ندی پرلے آیا ۔ اَور وہاں اُنہیں قتل کردِیا۔ 41 ۔اَور اِیلیاہ نے اَخی اب سے کہا۔ اُوپر جا۔ کھا اَور پی۔ دیکھ مِینہ کی کثرت کی آواز ہَے۔ 42 ۔ تب اَخی اب اُوپر چلا گیا۔ تاکہ کھائے اَورپِیئے۔ اَور اِیلیاہ کرمِل کی چوٹی پر چڑھا۔ اَور زمین پر گرِا۔ اَور اپنا مُنہ اپنے گھٹنوں میں دِیا۔ 43 ۔ اَور اُس نے اپنے نوکر سے کہا۔ اُوپر چڑھ۔ اَور سمُندر کی طرف نظر کر۔ تو وہ چڑھا اَور نظر کی اَور کہا مَیں کُچھ نہیں دیکھتا۔ اُس نے اُس سے کہا۔ سات دفعہ پِھر جا۔ 44 ۔ جب ساتویں دفعہ ہُوئی تو اُس نے کہا۔ دیکھ۔ایک چھوٹی سی بَدلی آدمی کے ہاتھ کے برابر سمُندر سے اُٹھی ہَے۔ تو اُس نے اُس سے کہا۔ اُوپر جا اَور اَخی اب سے کہہ کہ گاڑی تیّار کر اَورنیچے اُتر جا۔ نہ ہو کہ مِینہ تُجھے روک دے۔ 45 ۔ اَور تھوڑی ہی دیر میں، دیکھو آسمان بادلوں سے تارِیک ہوگیا اَور ہَوا چلی اَور بڑی بارِش اُتری۔ تو اَخی اب گاڑی میں سَوار ہُوا اَور یزرعیل کو گیا ۔ 46 ۔ اَور خُداوند کا ہاتھ ایلیاہ کے ساتھ تھا۔ اَور ایلیاہ نے اپنی کَمر کَسی ۔ اَور اَخی اب کے آگے آگے یزر عیل کے مدَخِل تک دوڑتا چلا گیا ۔