باب

1 ۔ اِیلیاہ نبی تب اِیلیاہ تشِبی نے جو جِلعاد کے باشِندوں میں سے تھا، اَخی اب سے کہا۔ زِندہ خُداوند اِسرائیل کے خُدا کی قسم۔ جس کے سامنے مَیں کھڑا ہُوں۔ کہ اِن تین برسوں میں نہ اوس پڑے گی نہ بارش ہوگی۔ مگر جب تک مَیں نہ کہوں۔ 2 ۔اَور خُداوند نے اُس سے ہم کلام ہو کر کہا۔ 3 ۔یہاں سے روانہ ہو۔ اَور مشرق کو چل۔ اَور کریت کے نالے کے پاس جو یردن کے سامنے ہَے جا چُھپ ۔ 4 ۔ اَورتُو نالے سے پانی پِیئے گا۔ اَور مَیں نے کَوّوں کو حُکم کِیا ہَے۔ کہ تُجھے وہاں خُوراک دیں۔ 5 ۔ تب وہ روانہ ہُوا۔ اَور خُداوند کے قول کے مُطابِق کِیا اَور گیا۔ اَور کریت کے نالے کے پاس ٹھہرا جو یردن کے سامنے ہَے ۔ 6 ۔ اَور صُبح کے وقت کوَّے اُس کے لئے روٹی اَور گوشت اَور شام کو بھی اُس کے لئے روٹی اَور گوشت لاتے اَور وہ نالے سے پانی پِیتا تھا۔ 7 ۔ صارپت کی بیوہ اَور کُچھ دِنوں کے بعد ایسا ہُوا۔ کہ وہ نالا سُوکھ گیا۔ کیونکہ زمین پر مِینہ نہ برسا تھا۔ 8 ۔ تب خُداوند نے اُس سے ہم کلام ہو کر کہا۔ 9 ۔ اُٹھ اَور صیدُا کے صارپت کو چلا جا اَور وہاں ٹھہر۔ مَیں نے وہاں ایک بیوہ عورت کو حُکم دِیا ہَے کہ تُجھے کھانے کو دِیا کرے۔ 10 ۔ تو وہ اُٹھا اَور صارپت کوگیا۔ اَور شہر کے پھاٹک پر پُہنچا۔ تو دیکھو وہاں ایک بیوہ عورت لکڑیاں چُن رہی تھی۔ تُو اُس نے اُسے بُلایا۔ اَور کہا۔ کہ برتن میں مُجھے تھوڑا پانی دے۔ تاکہ مَیں پِیؤں ۔ 11 ۔ تو وہ لینے کے لئے چلی۔ تب اُس نے اُسے پُکارا اَور کہا۔ کہ میرے لئے اپنے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا بھی لیتی آنا۔ 12 ۔ اُس نے کہا۔ زِندہ خُداوند تیرے خُدا کی قَسم۔ میرے پاس روٹی نہیں۔ مگر ایک مُٹھّی بھر آٹا گھڑے میں ہَے اَور تھوڑا سا تیل کُپّی میں۔ اَور دیکھ میں کُچھ لکڑیاں جمع کررہی ہُوں۔ تاکہ گھر جا کر اپنے لئے اَور اپنے بیٹے کے لئے پکاؤں اَور ہم کھائیں۔ پِھر مَر جائیں۔ 13 ۔ تب اِیلیاہ نے اُس سے کہا مت ڈر۔ گھر جا اَور جیسا تُو نے کہا ہَے کر۔ لیکن اُس میں سے پہلے میرے لئے ایک چھوٹی ٹِکیا بنا اَور میرے پاس لا۔ اَور بعد اُس کے اپنے لئے اَور اپنے بیٹے کے لئے بنا۔ 14 ۔ کیونکہ خُداوند اِسرائیل کا خُدا یُوں فرماتاہَے۔ کہ آٹے کا گھڑا خالی نہ ہوگا۔ اَور تیل کی کُپّی میں کمی نہ ہوگی۔ جس روز تک کہ خُداوند رُوئے زمین پر مِینہ نہ برسائے ۔ 15 ۔ تب وہ گئی۔ اَور جیسے ایلیاہ نے اُس سے کہا۔ کِیا۔ اَور یہ اَور وہ اَور اُس کے گھر کے لوگ بُہت دِنوں تک کھاتے رہے۔ 16 ۔ اَور آٹے کا گھڑا خالی نہ ہُوا۔ اَور نہ کُپّی کا تیل کم ہُوا۔ بمُطابِق خُداوند کے کلام کے جو اُس نے اِیلیاہ کی زُبان سے فرمایاتھا۔ 17 ۔اَور ایسا ہُوا۔ کہ اِن باتوں کے بعد گھر کی مالِکہ یعنی اُسی عورت کا بیٹا بیمار ہُوا۔ اَور اُس کی بیماری بڑی سخت تھی۔ یہاں تک کہ اُس میں سانس باقی نہ رہا۔ 18 ۔ تو اُس عورت نے ایلیاہ سے کہا۔ اَے مَردِ خُدا! مُجھے تُجھ سے کیا فائدہ؟ کیا تُو اِس لئے آیا۔ کہ مُجھے میرے گُناہ یاد دِلائے اَور تُو میرے بیٹے کو مار دے۔ 19 ۔ تو اُس نے اُس سے کہا۔ اپنا بیٹا مُجھے دے اَور اُس نے اُسے اُس کی گود سے لِیا۔ اَور بالا خانے میں چڑھ گیا جہاں وہ اُترا ہُوا تھا۔ اَور اُسے اپنی چارپائی پر لِٹایا۔ 20 ۔ اَور اُس نے خُداوند کے پاس چِّلا کے کہا۔ اَے خُداوند میرے خُدا! کیا تُو نے اِس بیوہ پر بھی جس کے پاس مَیں اُترا ہُوا ہُوں مُصِیبت بھیجی اَور اُس کے بیٹے کو مار دِیا؟ 21 ۔ اَور اُس نے تین دفعہ لڑکے پر اپنے آپ کو پھیلاکر خُداوند کے پاس چِّلا کر کہا۔ اَے خُداوند میرے خُدا اِس لڑکے کی رُوح اِس کے بدن میں پِھر آجائے۔ 22 ۔ اَور خُداوند نے اِیلیاہ کی سُنی۔ اَور لڑکے کی رُوح اُس کے بدن میں پِھر آگئی۔ اَور وہ زِندہ ہو گیا۔ 23 ۔ تو اِیلیاہ نے لڑکے کو لِیا اَور بالا خانے سے اُسے گھر میں نیچے لایا۔ اَور اُس کی ماں کے سپُرد کِیا۔ اَور اِیلیاہ نے کہا۔ دیکھ تیرا بیٹا زِندہ ہَے ۔ 24 ۔ تو عورت نے اِیلیاہ سے کہا۔ اَب مَیں نے جانا کہ تُو مَردِ خُدا ہَے۔ اَور خُدا کا کلام حقیقتاً تیرے مُنہ میں ہَے۔