باب

1 ۔ نبوت کاتاکستان اَور اِن باتوں کے بعد ایسا ہُوا۔ کہ نبوت یزرعیلی کا یزر عیل میں ایک تاکِستان تھا۔ جو سامریہ کے بادشاہ اَخی اب کے محلّ سے لگا ہُوا تھا ۔ 2 ۔ اَور اَخی اب نے نبوت سے مُخاطب ہو کر کہا۔ کہ مُجھے اپنا تاکِستان دے۔ کہ مَیں اُسے اپنے لئے سبزی کا باغ بناؤں۔ کیونکہ وہ میرے گھر کے قریب ہَے۔ اَور اُس کے بَدلے مَیں تُجھے اُس سے بہتر تاکسِتان دُوں گا۔ اَور اگر تیری نِگاہ میں اچھّا ہو تو مَیں اُس کی قیمت تُجھے چاندی میں دُوںگا۔ 3 ۔ تو نبوت نے اَ خی اب کو جَواب دِیا۔ خُد انہ کرے۔ کہ مَیں اپنے باپ دادا کی مِیرَاث تُجھے دُوں۔ 4 ۔ تو اَخی اب غمگِین اَور ناخُوش ہو کر اپنے گھر کو گیا۔ اُس بات کے باعِث جو نبوت یزر عیلی نے اُس سے کہی۔ کہ مَیں اپنے باپ دادا کی مِیرَاث تُجھے نہیں دُوں گا۔ اَور وہ اپنے پلنگ پر لیٹ گیا۔ اَور اپنا مُنہ پھیر لِیا۔ اَور روٹی نہ کھائی۔ 5 ۔ تب اُس کی بیوی اِیزبل نے آ کر اُس سے کہا۔ تُجھے کیا ہُوا۔ کہ تیرا دِل غمگِین ہَے۔ اَور تُو نے کھانا نہیں کھایا؟ 6 ۔ اُس نے اُس سے کہا۔ مَیں نے نبوت یزرعیلی سے خطاب کرکے کہا۔ کہ اپنا تاکسِتان مُجھے چاندی کے عِوض دے۔ یا اگر تُو چاہے۔ مَیں تُجھے اُس کے بدلے میں بہتر تاکسِتان دُوں گا۔ 7 ۔ تو اُس نے کہا۔ کہ مَیں اپنا تاکسِتان تُجھے نہیں دُوں گا۔ 8 ۔ تو اُس کی بیوی اِیزبل نے اُس سے کہا۔ کیا تُو اِس وقت اِسرائیل پر حُکمرانی نہیں کرتا؟ اُٹھ کھانا کھا اَور خُوش دِل ہو۔ اَور نبوت یزر عیلی کا تاکِستان مَیں تُجھے دُوں گی۔ 9 ۔ تب اُس نے اَخی اب کے نام سے خط لِکھے اَور اُس کی مُہر اُن پر لگائی اَور اُن خُطوط کو بزُرگوں اَور امیروں کی طرف جو شہر میں نبوت کے ساتھ رہتے تھے روانہ کِیا۔ 10 ۔ اَور خطُوط میں لِکھ کر کہا۔ کہ روزہ رکھنے کی مُنادی کرو۔ اَور نبوت کو لوگوں کے درمیان اُونچا بٹھاؤ۔ 11 ۔ اَور دو خبِیث آدمیوں کو اُس کے سامنے کھڑا کرو۔ جو اُس کے خلاف گَواہی دے کر کہیں کہ تُو نے خُدا کے خلاف اَور بادشاہ کے خلاف کُفر بَکا۔ اَور وہ اُسے باہر نِکال لے جائیں۔ اَور اُس پر پتھّراؤ کریں کہ وہ مَر جائے۔ 12 ۔ تب شہر کے بزُرگوں اَور امیروں نے جو شہر میں رہتے تھے ویسا ہی کِیا۔ جیسا کہ ایزبل نے اُنہیں حُکم دِیا بمُطابِق اُن خطُوط کی تحریر کے جو اُس نے اُنہیں بھیجے تھے۔ 13 ۔ تو اُنہوں نے روزہ رکھنے کی مُنادی کروائی۔ اَور نبوت کو لوگوں کے درمیان اُونچا بٹھایا ۔ 14 ۔ تب دو خبِیث آدمی آئے۔ اَور اُس کے سامنے بیٹھے ۔ اَور خبِیث آدمیوں نے لوگوں کے سامنے نبوت کے خلاف گَواہی دی اَور کہا۔ نبوت نے خُدا کے خلاف اَور بادشاہ کے خلاف کُفر بَکا۔ تب وہ اُسے شہر کے باہر نِکال لے گئے۔ اَور اُسے سنگسار کِیا۔ اَوروہ مَرگیا۔ 15 ۔ اَور اُنہوں نے اِیزبل کو کہلا بھیجا۔ کہ نبوت کو پتھّراؤ کِیا گیا ہَے اَور وہ مَر گیا ہَے۔ 16 ۔ جب اِیزبل نے سُنا کہ نبوت کو پتھّراؤ کِیا گیا ہَے۔ اَور وہ مَر گیا ہَے۔ تو اِیزبل نے اَخی اب سے کہا۔ اُٹھ اَور نبوت یزر عیلی کے تاکسِتان پر قبضہ کر۔ جس نے تُجھے اُسے چاندی کے عِوض دینے سے اِنکار کِیا تھا۔ کیونکہ نبوت اَب زِندہ نہیں۔ بلکہ مَر گیا ہَے۔ جب اَخی اب نے نبوت کی مَوت کی بابت سُنا۔ تو اَخی اب اُٹھا۔ تاکہ نبوت یزر عیلی کے تاکسِتان میں جا کر اُس پر قبضہ کرے ۔ 17 ۔ تب خُداوند نے اِیلیاہ تشبِی سے ہم کلام ہو کر کہا۔ 18 ۔ اُٹھ اَور اِسرائیل کے بادشاہ اَخی اب کو مِلنے کے لئے جو سامریہ میں ہَے نیچے جا۔ دیکھ وہ نبوت کے تاکسِتان میں ہَے۔ جس کا قبضہ کرنے کے لئے گیا ہَے۔ 19 ۔ اَور تُو اُس سے کلام کرکے کہنا۔ خُداوند یُوں فرماتا ہَے تُو نے قتل کِیا۔ اَور قبضہ بھی لے لِیا۔ پھر اُس سے کلام کرکے کہہ۔ خُداوند یُوں فرماتا ہَے۔ کہ جس جگہ میں کُتّوں نے نبوت کا خُون چاٹا۔ کُتّے تیرا خُون بھی چاٹیں گے۔ 20 ۔ تو اَخی اب نے اِیلیاہ سے کہا۔ اَے میرے دُشمن! کیا تُو نے مُجھے ڈُھونڈ لِیا؟ اُس نے کہا۔ مَیں نے تُجھے ڈُھونڈ لِیا۔ کیونکہ تُو نے اپنی جان کو خُداوند کی نِگاہ میں بَدی کرنے کے لئے بیچا ہَے۔ 21 ۔ دیکھ مَیں تُجھ پر آفت لاُؤں گا اَور تیری نسل کو نابُود کردُوںگا۔ اَور اَخی اب کے ہر ایک لڑکے کو جو دِیوار پر بَول کرے۔ کیا غُلام کیا آزاد اِسرائیل میں کاٹ ڈالُوں گا۔ 22 ۔ اَور تیرے گھر کو یربعام بِن نباط کے گھر کی مانند اَور بَعشابِن اَخیاہ کے گھر کی طرح کرُوں گا۔ اِس لئے کہ تُو نے مُجھے غُصّہ دِلایا۔ اَور اِسرائیل سے بَدی کروائی۔ 23 ۔ اَور خُداوند نے اِیزبل کے بارے میں بھی کلام کرکے فرمایا۔ کہ یزر عیلی کے کھیت میں کُتّے اِیزبل کو کھائیں گے۔ 24 ۔ اَور اَخی اب کا جو کوئی شہر میں مَرے گا اُسے کُتّے کھائیں گے۔ اَور جو کوئی میدان میں مَرا اُسے آسمان کے پرندے کھائیں گے۔ 25 ۔ اَور اَخی اب کی مانند کوئی نہ ہُوا جس نے خُداوند کی نِگاہ میں بَدی کرنے کے لئے اپنی جان کو بیچا۔ کیونکہ اُس کی بیوی اِیزبل اُسے وَرغلاتی تھی ۔ 26 ۔ اَور وہ بُتوں کی پیروی کرکے نہایت قابِلِ نفرت ہُوا۔ سب کام اُس نے اموریوں کے مُوافق کِئے۔ جِنہیں خُداوند نے بنی اِسرائیل کے سامنے سے دُور کِیاتھا۔ 27 ۔ جب اَخی اب نے یہ کلام سُنا تو اپنے کپڑے پھاڑے۔ اَور اپنے بدن پر ٹاٹ اوڑھا۔ اَور روزہ رکھّا اَور ٹاٹ میں سویا اَور سر نیچے کِئے ہُوئے چلا۔ 28 ۔ تب خُداوند نے اِیلیاہ تشِبی سے ہم کلام ہو کر کہا۔ 29 ۔ کیا تُو نے دیکھا کہ اَخی اب میرے آگے کیسا فروتن ہُوا؟ تو اِس لئے کہ وہ میرے آگے فروتن ہُوا۔ مَیں اُس کے ایّام میں یہ آفت نہ لاوُں گا۔ لیکن اُس کے بیٹے کے دِنوں میں یہ آفت اُس کے گھر پر نازِل کرُوں گا۔