باب

1 ۔ بَیت ایل کے خلاف نبوُّت اَور دیکھو ایک مَردِ خُدا یہوداہ سے خُداوند کے کلام کے مُطابِق بَیت ایل میں آیا۔ اَور یربعام مذَبح پر بخُور جَلانے کے لئے کھڑا تھا۔ 2 ۔اَور وہ مذَبح کے خلاف خُداوند کے کلام سے پُکارا اَور کہا۔ اَے مذَبح اَے مذَبح! خُداوند یُوں فرماتا ہَے۔ دیکھ داؤد کے گھر میں ایک بیٹا یوسیاہ نام پیدا ہوگا۔ اَور وہ اُونچی جگہوں میں کاہِنوں کو جو تُجھ پر بخُور جَلاتے ہَیں تُجھ پر ذَبح کرے گا۔ اَور آدمیوں کی ہَڈّیاں تُجھ پر جَلائے گا 3 ۔ اَور اُس نے اُسی دِن ایک نِشان دے کر کہا۔ کہ وہ نِشان یہ ہَے جو خُداوند نے بتایا۔ دیکھ مذَبح پھٹ جائے گا اَور راکھ جو اُس پر ہَے گِر جائے گی. 4 ۔ جب بادشاہ نے اُس مَردِ خُدا کا یہ کلام سُنا جو بَیت ایل میں مذَبح کے خلاف پُکارا۔ تو یربعام نے مذَبح پر سے اپنا ہاتھ لمبا کرکے کہا۔ کہ اُسے پکڑلو۔ اَور اُس کا وہ ہاتھ جو اُس نے اُس کی طرف بڑھایا تھا خُشک ہوگیا۔ اَور وہ اُسے اپنی طرف کھینچ نہ سکا۔ 5 ۔ اَور مذَبح بھی پھٹ گیا اَور مذَبح پر سے راکھ گِر گئی۔ بہ مُطابِق اُس نِشان کے جو مَردِ خُدا نے خُداوند کے فرمانے کے مُطابِق دِیا تھا۔ 6 ۔ تب بادشاہ نے جَواب دِیا اَور مَردِ خُداسے کہا۔ کہ خُداوند اپنے خُدا کے حضُور مِنّت کر اَور میرے لئے دُعا مانگ کہ میراہاتھ میرے لئے بحال کِیا جائے۔ تو مَردِ خُدا نے خُداوند کے حضُور مِنّت کی تو بادشاہ کا ہاتھ اُس کے لئے بحال کِیا گیا۔ کہ جیسے پہلے تھا ویسا ہی ہَوگیا ۔ 7 ۔ تب بادشاہ نے مَردِ خُدا سے کہا۔ کہ میرے ساتھ گھر میں آ۔ اَور کُچھ کھا۔ اَور مَیں تُجھے اِنعام دُوں گا۔ 8 ۔ تو مَردِ خُدا نے بادشاہ سے کہا۔ اگر تُو اپنا آدھا گھر بھی مُجھے عطا کرے تو بھی مَیں تیرے ساتھ اندر نہ جاوُں گا اَور نہ روٹی کھاوُں گا۔ اَور نہ اِس جگہ میں پانی پئِیُوں گا۔ 9 ۔کیونکہ خُداوند کے کلام سے مُجھے ایسا ہی حُکم مِلا۔ کہ تُو روٹی نہ کھا اَور نہ پانی پی۔ اَور نہ اُس راہ سے جس سے تُو جائے واپس آ۔ 10 ۔تو وہ دُوسری راہ سے روانہ ہُوا۔ اَور جس راہ سے بَیت ایل کو آیا تھا اُس سے واپس نہ گیا ۔ 11 ۔ آزمائش نبوُّت اَور بَیت ایل میں ایک عُمررسِیدہ نبی رہتا تھا۔ اُس کے بیٹوں نے آکر سب کاموں کی جو مَردِ خُدا نے اُس روز بَیت ایل میں کِئے تھے اُسے خبر دی۔ اَور جو باتیں اُس نے بادشاہ سے کہی تھیں وہ اپنے باپ سے بیان کیں۔ 12 ۔تو اُن کے باپ نے اُن سے کہا۔ کہ کون سے رستے سے وہ گیا؟ تو اُس کے بیٹوں نے اُسے وہ راہ دِکھائی جس میں وہ مَردِ خُدا جو یہوداہ سے آیا تھا۔ گیا تھا۔ 13 ۔تو اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا۔ کہ میرے لئے گدھے پر زِین کَسو تو اُنہوں نے گدھے پر زِین کَسی۔ اَور وہ اُس پر سَوار ہُوا۔ 14 ۔ اَور مَردِ خُدا کے پیچھے چلا۔ اَور اُسے ایک بلُوط کے درخت کے نیچے بیٹھا ہُوا پایا۔ تو اُس سے کہا۔ کیا تُو ہی وہ مَردِ خُدا ہَے جو یہوداہ سے آیا۔ وہ بولا مَیں ہی ہُوں۔ 15 ۔ تو اُس نے اُس سے کہا۔ کہ میرے ساتھ میرے گھر پر چل اَور روٹی کھا۔ 16 ۔ تو اُس نے کہا۔ مَیں واپس نہیں ہوسکتا اَور نہ تیرے ساتھ جاوُں گا۔ اَور نہ روٹی کھاوُں گا اَور نہ اُس جگہ میں تیرے ساتھ پانی پِئیوں گا۔ 17 ۔کیونکہ مُجھے خُداوند کے کلام سے کہا گیا۔ کہ تُووہاں پر روٹی نہ کھا اَور نہ پانی پی اَور نہ اُس راہ سے جس میں تُو گیا واپس آ۔ 18 ۔ اُس نے اُس سے کہا۔ مَیں بھی تیری مانند نبی ہُوں۔ اَور ایک فرِشتے نے خُداوند کے کلام سے مُجھے خطاب کرکے کہا کہ اُسے اپنے ساتھ اپنے گھر میں پِھرا لا کہ وہ روٹی کھائے اَور پانی پِیئے۔ اَور یہ دھوکا تھا۔ 19 ۔ تب وہ اُس کے ساتھ واپس گیا اَور اُس کے گھر ”میں روٹی کھائی اَور پانی پِیا۔ 20 ۔ اَور ابھی وہ دسترخوان پر بیٹھے ہُوئے تھے کہ خُداوند کا کلام اُس نبی پر جو اُسے واپس لایا تھا آیا۔ 21 ۔ اَور اُس نے اُس مَردِ خُدا سے جو یہوداہ سے آیا تھا پُکار کے کہا خُداوند یُوں فرماتا ہَے۔ چُونکہ تُو نے خُداوند کے قول کی نافرمانی کی۔ اَور اُس حُکم کو جو خُداوند تیرے خُدا نے تُجھے فرمایا تھا تُو نے نہ مانا۔ 22 ۔ اَور تُو پیچھے کو مُڑا۔ اَور تُو نے روٹی کھائی اَور اُس جگہ میں پانی پِیا جس کی بابت خُداوند نے تُجھے کہا تھا۔ کہ وہاں روٹی نہ کھانا اَور نہ پانی پِینا۔ سو تیری نعش تیرے باپ دادا کی قبر میں داخِل نہ ہوگی۔ 23 ۔ اَور جب وہ کھانے اَور پِینے سے فارِغ ہُوا۔ تو اُس نے اپنے لئے اُس نبی کے گدھے پر جو اُسے واپس لایا تھا زِین کَسی ۔ 24 ۔اَور روانہ ہُوا تو راہ میں اُسے ایک شیر مِلا۔ جس نے اُسے مار ڈالا۔ اَور اُس کی نعش راہ میں پڑی رہی۔ اَور گدھا اُس کے پاس کھڑا رہا۔ اَور شیر َنعش کی ایک طرف کھڑا رہا۔ 25 ۔اَور دیکھو اُدھر سے گُزرنے والے لوگوں نے دیکھا۔ کہ نعش راہ میں پڑی ہُوئی ہَے اَور شیر نعش کی ایک طرف کھڑا ہَے۔ تو وہ آئے۔ اَور اُس شہر میں جس میں وہ عُمر رسِیدہ نبی رہتا تھا خبر دی۔ 26 ۔ جب اُس نبی نے جو اُسے راہ سے واپس لایا تھا سُنا توکہا۔ کہ یہ وہی مَردِ خُدا ہَے جس نے خُداوند کے کلام کی نافرمانی کی۔ تو خُداوند نے اُسے شیر کے حوالے کِیا۔ جس نے اُسے پھاڑا اَور مارڈالا۔ بہ مُطابِق خُداوند کے کلام کے جو اُس نے اُس سے کہا تھا۔ 27 ۔تو اُس نے اپنے بیٹوں سے کلام کرکے کہا۔ کہ میرے لئے گدھے پر زِین کَسو۔ تو اُنہوں نے زِین کَسی۔ 28 ۔تب وہ گیا۔ اَور اُس کی نعش راہ میں پڑی ہُوئی پائی۔ اَور گدھا اَور شیر نعش کے پاس کھڑے تھے۔ اَور شیر نے نہ تو نعش کو کھایا۔ اَور نہ گدھے کو پھاڑا تھا۔ 29 ۔ تو اُس نبی نے مَردِخُدا کی نعش کو لِیا۔ اَور گدھے پر رکھّا۔ اَور اُس کے ساتھ واپس ہُوا۔ اَور یہ عُمر رسِیدہ نبی شہر میں داخِل ہُوا۔ کہ اُس پر ماتم کرے۔ اَور اُسے دفن کرے ۔ 30 ۔ اَور اُس نے نعش کو اپنی قبر میں رکھّا۔ اَور اُس پر ماتم کرتے ہُوئے کہا۔ ”ہائے میرے بھائی!“ 31 ۔ اَور اُسے دفن کرنے کے بعد اُس نے اپنے بیٹوں سے کلام کرکے کہا۔ کہ جب مَیں مَر جاؤں۔ تو مُجھے اُسی قبر میں دفن کرنا جس میں وہ مَردِ خُدا دفن کِیا گیا ہَے۔ اَور میری ہَڈّیوں کو اُس کی ہَڈّیوں کے پاس رکھّو ۔ 32 ۔کیونکہ وہ بات جو اُس نے خُداوند کے حُکم سے بَیت ایل کے مذَبح کے خلاف۔ اَور اُن سب اُونچی جگہوں کے گھروں کے خلاف کہی ہَے جو سامریہ کے قصبوں میں ہَیں۔ ضرُور پُوری ہوگی۔ 33 ۔اِس ماجرے کے بعد بھی یربعام اپنی بُری راہ سے باز نہ آیا۔ اَور پھر اَدنیٰ لوگوں میں سے اُس نے اُونچی جگہوں کے لئے کاہِن مُقرّر کِئے۔ اَور جس کِسی نے چاہا۔ وہ اُس کے ہاتھوں کو مخصُوص کرتا اَور اُسے اُونچی جگہوں کا کاہِن بناتا تھا۔ 34 ۔اَور یہی یربعام کے گھرانے کے لئے بَدی کا سبب ہُوا۔ اَور یہی اُس کے کاٹے جانے اَور رُوئے زمین سے نابُود کِئے جانے کا باعِث ہُوا۔