باب

1 ۔اِسرائیل اَور یہوداہ کی جُدائی اَور رحَبعام سکم کو گیا۔ کیونکہ تمام اِسرائیل سکم میں جمع ہُوئے تھے کہ اُسے بادشاہ بنائیں۔ 2 ۔ اَور یربعام بِن نباط جو مِصر میں تھا۔ جہاں اُس نے سُلیمان بادشاہ سے پناہ لی تھی۔ 3 ۔ سو اُنہوں نے لوگ بھیج کر اُسے بُلایا۔یربعام اور تمام اِسرائیل کی جماعت آئی اَور اِسرائیل کی تمام جماعت نے رحَبعام سے مُخاطِب ہو کر کہا۔ 4 ۔ کہ تیرے باپ نے ہمارے جُوئے کو بھاری کِیا۔ سو اب تُو اپنے باپ کی دُشوار خدمت کو او راُس بھاری جُوئے کو جو اُس نے ہم پر رکھّا ہلکا کر۔ تو ہم تیری خدمت کریں گے۔ 5 ۔ اُس نے اُن سے کہا۔ کہ تُم تین دِن کے لئے چلے جاؤ۔ اَور تب میرے پاس آؤ۔ اَور جب لوگ چلے گئے۔ 6 ۔ تب رحَبعَام بادشاہ نے اُن بزُرگ آدمیوں سے جو اُس کے باپ سُلیمان کی زِندگی میں اُس کے سامنے کھڑے ہوتے تھے مشورت کی اَور اُن سے کہا۔ تُم مُجھے کیا صلاح دیتے ہو۔ تاکہ مَیں اُن لوگوں کو جَواب دُوں؟ 7 ۔ اُنہوں نے جَواب میں کہا۔ اگر تُو آج کے دِن اُن لوگوں سے نرمی کرے اَور فروتنی دِکھائے اَور جَواب دے اَور اُن سے نیکی کی بات کرے تو وہ ہمیشہ کے لئے تیرے خادِم ہوں گے۔ 8 ۔ پر اُس نے اُس مشورت کو جو بزُرگ آدمیوں نے اُسے دی تھی ترک کِیا۔ اَور اُن جوانوں سے صلاح کی جِنہوں نے اُس کے ساتھ تربیت پائی تھی اَور جو اُس کے سامنے کھڑے رہتے تھے۔ 9 ۔اَور اُس نے اُن سے کہا۔ تُم مُجھے کیا صلاح دیتے ہو؟ تاکہ مَیں اُن لوگوں کو جَواب دُوں جِنہوں نے مُجھ سے کلام کرکے کہا۔ کہ اُس جُوئے کو جو تیرے باپ نے ہم پر رکھّا تُو ہلکا کر۔ 10 ۔تو اُن جوانوں نے جِنہوں نے اُس کے ساتھ تربیت پائی تھی اُس سے کلام کرکے کہا۔ کہ اُن لوگوں کو جِنہوں نے تُجھ سے خطاب کرکے کہا۔ تیرے باپ نے ہمارے جُوئے کو بھاری کیا اَور تُو اُسے ہمارے لئے ہلکا کر۔ تُو اُنہیں اِس طرح سے کہہ۔ کہ میری چھوٹی اُنگلی میرے باپ کی کمرسے موٹی ہَے۔ 11 ۔ اَور اَب چُونکہ میرے باپ نے تُم پر بھاری جُوا رکھّا۔ مَیں تُمہارے جُوئے پر اَور زیادہ کرُوں گا۔ میرے باپ نے کوڑوں سے تُمہاری تنبیہ کی۔ پر مَیں بچھُوؤں سے تُمہاری تنبیہ کرُوں گا۔ 12 ۔ اَور سب لوگ تیسرے دِن رحبَعَام کے پاس آئے ۔ جیسا کہ بادشاہ نے کلام کرکے کہا تھا۔ کہ تیسرے دِن میرے پاس آؤ۔ 13 ۔ تو بادشاہ نے اُنہیں سخت جَواب دِیا اَور بزُرگ آدمیوں کی صلاح کو جو اُنہوں نے اُسے دی تھی ترک کِیا۔ 14 ۔ اَور جوانوں کی صلاح کے مُطابِق اُنہیں جَواب دے کر کہا۔ کہ میرے باپ نے تُمہارا جُوا بھاری کِیا۔ اَور مَیں اُس جُوئے پر اَور زیادہ کرُوں گا۔ میرے باپ نے کوڑوں سے تُمہاری تنبیہ کی پر مَیں بچھُوؤں سے تُمہاری تنبیہ کرُوں گا۔ 15 ۔سو بادشاہ نے لوگوں کی بات نہ سُنی۔ کیونکہ یہ مُعاملہ خُداوند کی طرف سے تھا تاکہ خُداوند اپنی بات کو پُورا کرے جو اُس نے اخیاہ سیلانی کی زُبان سے یربعام بِن نباط سے فرمائی تھی ۔ 16 ۔اَور جب سارے اِسرائیل نے دیکھا۔ کہ بادشاہ نے اُن کی نہیں سُنی۔ تو لوگوں نے بادشاہ کو جَواب میں کہا۔ کہ ہمارا داؤد کے ساتھ کیا حِصّہ ہَے اَور یَسّی کے بیٹے کے ساتھ ہماری کیا مِیرَاث ہَے؟ اَے اِسرائیل تُو اپنے خَیموں کو چل۔ اَور اَب اَے داؤد اپنے گھر کو سنبھال۔ سو بنی اِسرائیل اپنے خَیموں کو چلے گئے۔ 17 ۔ لیکن وہ بنی اِسرائیل جو یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے۔ رحَبعَام اُن کا بادشاہ رہا۔ 18 ۔ اَور رحَبعَام بادشاہ نے اِدورام کو بھیجا جو خراج کا سردار تھا۔ تو سب اِسرائیل نے اُس پرتھراؤکِیا اَور وہ مَرگیا۔ تب رحَبعَام بادشاہ نے جلدی کی اَور اپنے رتھ پر سَوار ہُوا اَور یرُوشلیِم کو بھاگ گیا ۔ 19 ۔ سو اِسرائیل نے داؤد کے گھر کے خلاف بغاوت کی جو آج تک ہَے ۔ 20 ۔ یربعام اِسرائیل کا بادشاہ اَور جب سارے اِسرائیل نے سُنا کہ یربعام واپس آیا۔ تو اُنہوں نے اُسے جماعت کے پاس بُلوایا۔ اَور سارے اِسرائیل پر اُسے بادشاہ بنایا۔ اَور اُن میں سے کوئی سِوائے اکیلے قبیلہ یہوداہ کے داؤد کے گھر کے تابع نہ رہا ۔ 21 ۔اَور رحَبعَام یرُوشلیِم میں آیا۔ تو اُس نے سب بنی یہوداہ اَور بِنیمین کے قبیلہ کو ایک لاکھ اَسّی ہزار مُنتخب جنگی مَردوں کو جمع کِیا۔ تاکہ اِسرائیل کے گھر سے لڑائی کریں۔ اَور سَلطنَت کو رحَبعَام بِن سُلیمان کے لئے بحال کریں۔ 22 ۔ مگر خُدا مَردِ خُدا سمعیاہ سے ہم کلام ہُوا اَور کہا۔ 23 ۔کہ یہوداہ کے بادشاہ رحَبعَام بِن سُلیمان اَور سب بنی یہوداہ اَور بِنیمین َور باقی لوگوں سے تُو کلام کر کے کہہ۔ 24 ۔ کہ خُداوند یُوں فرماتاہَے۔ کہ تُم چڑھائی نہ کرو۔ اَور اپنے بھائیوں بنی اِسرائیل سے جنگ نہ کرو۔ بلکہ ہر ایک آدمی اپنے گھر کو لَوٹ جائے۔ کیونکہ یہ بات میری طرف سے واقع ہُوئی ہَے۔ تب اُنہوں نے خُداوند کے کلام کی اطاعت کی۔ اَور خُداوند کے فرمانے کے مُطابِق لَوٹ کر واپس چلے گئے ۔ 25 ۔ اَور یربعام نے کوہِ اِفرائیم میں سکم کو فصِیل دار بنایا۔ اَور اُس میں رہا۔ پِھر وہاں سے نِکلا اَور فنوایل کو فصِیل دار بنایا ۔ 26 ۔ اَور یربعام نے اپنے دِل میں کہا۔ کہ اَب پِھر سَلطنَت داؤد کے گھرانے میں جائے گیا ۔ 27 ۔ کیونکہ جب یہ لوگ خُداوند کے گھر میں قُربانیاں گُزراننے کے لئے یرُوشلیِم کو جائیں گے۔ تو اِن لوگوں کے دِل اپنے آقایہوداہ کے بادشاہ رحَبعَام کی طرف رجُوع کریں گے تو وہ مُجھے قتل کریں گے۔ اَور یہوداہ کے بادشاہ رحبَعَام کے پاس واپس جائیں گے۔ 28 ۔ تب بادشاہ نے تدبیر نِکالی۔ اَور سونے کے دو بچھڑے بنائے۔ اَور اُن سے کہا۔ کہ اَب تُمہیں یرُوشلیِم میں جانے کی حاجت نہیں۔ اَے اِسرائیل یہ تُمہارا مَعبُود ہَے۔ جو تُمہیں مِصر سے نِکال لایا۔ 29 ۔ اَور اُس نے ایک کو بَیت ایل میں قائم کِیا۔ اَور دُوسرے کو دان میں رکھّا۔ 30 ۔ اَور یہ بات گُناہ کا باعِث ہُوئی۔ کیونکہ لوگ بچھڑے کی پرستِش کرنے کے لئے دان تک جاتے تھے۔ 31 ۔ اَور اُس نے اُونچی جگہوں میں مندر بنائے۔ اَور ادنیٰ لوگوں میں سے کاہِن مُقرّر کِئے جو لاوی نہیں تھے۔ 32 ۔ اَور یربعام نے آٹھویں مہینے کی پندرہ تارِیخ کو ایک عید ٹھہرائی۔ اُس عید کی طرح جو یہوداہ میں تھی۔ اَور وہ مذَبح پر چڑھا اَور ایسا ہی اُس نے بَیت ایل میں کِیا۔ اَور دونوں بچھڑوں کے لئے جو اُس نے بنائے تھے، قُربانی کی۔ اَور بَیت ایل میں اُونچی جگہوں کے لئے جو اُس نے بنائی تھیں کاہِن مُقرّر کئے۔ 33 ۔ اَور آٹھویں مہینے کے پندرھویں دِن جو مہینہ اُس نے خُود مُقرر کِیا تھا وہ بَیت ایل کے مذَبح پر جو اُس نے بنایا تھا چڑھا۔ اَور بنی اِسرائیل کے لئے عید مُقرّر کی۔ اَور مذَبح پر بخُور جَلانے کو چڑھا۔