باب

1 اہلِ مشرق پر فتح اَور اِفرائیم نے اُس سے کہا۔ تُو نے ہمارے ساتھ ایسا کام کیوں کِیا کہ جب تُو مِدیانیوں کے ساتھ جنگ کو نِکلا تو ہمیں نہ بُلایا؟ اَور اُنہوں نے اُس کے ساتھ بڑاجھگڑا کِیا۔ 2 تب اُس نے اُن سے کہا۔ کہ جو کُچھ تُم نے کِیا اُس کے مُقابِلہ میں مَیں نے کیا کِیا ہَے؟ کیا اِفرائیم کے چھوڑے ہُوئے انگُور ابیعزر کی فصل سے بہتر نہیں؟ 3 خُدا نے مِدیان کے سرداروں عَوریب اَورزئیب کو تُمہارے ہاتھ میں کردِیا ہَے۔ تو میرے لئے کِیا اِمکان تھا کہ جو کُچھ تُم نے کِیا ویسا ہی مَیں کرُوں ؟ تو جب اُس نے یہ بات اُن سے کہی تو اُن کا غُصّہ اُس سے دِھیما ہُوا۔ 4 اَور جِدعون یردن کی طرف آیا۔ اَور وہ اَور تین سَو مَرد جو اُس کے ساتھ تھے، پار ہُوئے۔ اَور اگرچہ وہ تھکے ہُوئے تھے۔ مگر تَعاقُب کرتے گئے۔ 5 تب اُس نےسُکات کے باشِندوں سے کہا۔ کہ اِن لوگوں کو جو میرے پیچھے ہَیں، روٹی دو۔ کیونکہ وہ تھکے ہُوئے ہَیں۔ اَور مَیں مِدیان کے بادشاہوں زبح اَور ضَلُمنّع کا پیچھا کِئے جاتا ہُوں۔ 6 تو سُکا ت کے رئیسوں نے اُس سے کہا، کیازبح اَور ضلمُنّع کے ہاتھ تیرے قابُو میں آگئے کہ ہم تیرے لشکر کو روٹی دیں؟ 7 تو جِدعون نے کہا۔ کہ اِس بات کے لئے جب خُداوندزبح اَور ضلُمنّع کو میرے ہاتھ کردے گا تو مَیں جنگل کے کانٹوں اَور خاردار جھاڑیوں سے تُمہارے جِسموں کو پِیٹوں گا۔ 8 اَور وہاں سے وہ فنُوایل کی طرف چڑھا۔ اَور اُن سے اُسی طرح کہا۔ تو فنُوایل کے باشِندوں نے بھی سُکا ت کے باشِندوں کا سا جَواب اُسے دِیا۔ 9 تو اُس نے فنُوایل کے باشِندوں سے کہا۔ کہ اگر مَیں سلامت واپس آؤں۔ تو تُمہارے اِس بُرج کو ڈھادُوںگا۔ 10 اَورز بح اَور ضَلُمنّع مع اپنے لشکروں کے جو پندرہ ہزار کے قریب تھے۔ وہ سب جو اہلِ مشرق کے لشکر سے بچ رہے تھے۔ قرقور میں تھے۔ اَور وہ جو قتل کِئے گئے۔ ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے مَرد تھے۔ 11 تب جِدعون اُن کی راہ میں چڑھا جو جوبنح اَور یگبہاہ کے مشرق کو خَیموں میں رہتے تھے۔ اَور لشکر کو مارا۔ کیونکہ وہ لشکر بے فِکر تھا۔ 12 تب زبح اَور ضَلُمنّع بھاگے۔ اَور اُس نے اُن کا تَعاقُب کِیا۔ اَور مِدیانی کے دونوں بادشاہوں زبح اَور ضَلُمنّع کو پکڑ لِیا۔ اَور اُن کے تمام لشکر کو پراگندہ کِیا۔ 13 اَور جِدعون بِن یوآس حرس کی چڑھائی کے پاس سے لڑائی سے واپس ہُوا۔ 14 اَور سُکاّت کے باشِندوں میں سے ایک نَوجوان کو پکڑا اَور اُس سے باتیں پُوچھیں۔ تو اُس نے اُس کے لئے سُکاتیوں کے رئیسوں اَور بزُرگوں میں سے ستتّر مَردوں کے نام لِکھ دیئے۔ 15 تب وہ سُکات کے آدمیوں کے پاس آیا اَور کہا۔ دیکھو یہ زبح اَورَضَلُمنّع ہَیں۔ جِن کی بابت تُم نے مُجھے طعنہ دِیا۔ اَور تُم نے کہا۔ کیازبح اَور ضَلمُنّع کے ہاتھ تیرے قابُو میں آگئے۔ کہ ہم تیرے تھکے ہُوئے آدمیوں کو روٹی دیں؟ 16 تب اُس نے شہر کے بزُرگوں کو پکڑا۔ اَور جنگل کے کانٹوں اَور خاردار جھاڑیوں سے سُکا ت کے آدمیوں کو پِیٹا۔ 17 اَور اُس نے فنُوایل کا بُرج ڈھا دِیا۔ اَور شہر کے لوگوں کو قتل کِیا۔ 18 اَور اُس نےزبح اَور ضَلُمنّع سے کہا۔ کہ وہ آدمی جِنہیں تُم نے تبور میں قتل کِیا، کیسے تھے؟ تو اُنہوں نے کہا۔ کہ وہ تیری مانندتھے۔ اَور اُن میں سے ہر ایک کی شکل شہزادوں کی سی تھی۔ 19 تو اُس نے اُن سے کہا۔ کہ وہ میرے بھائی اَور میری ماں کے بیٹے تھے۔ زِندہ خُداوند کی قَسم۔ اگر تُم اُنہیں جِیتا رہنے دیتے۔ تو مَیں تُمہیں قتل نہ کرتا۔ 20 تب اُس نے اپنے پہلوٹھے بیٹے یتر سے کہا۔ اُٹھ اَور اِن دونوں کو قتل کر۔ مگر اُس نے ڈر کے مارے اپنی تلوار نہ کھینچی۔ کیونکہ وہ ابھی لڑکا ہی تھا۔ 21 تب زبح اَور ضَلمُنّع نے اُس سے کہا۔ تُو آپ اُٹھ اَور ہم پر حملہ کر۔ کیونکہ جیسا آدمی ہوتاہے ویسی ہی اُس کی طاقت ہوتی ہے۔ تب جِدعون اُٹھا۔ اَور اُس نے زبح اَور ضَلمُنّع کو قتل کِیا۔ اَور چاندی کے طوق جو اُن کے اُونٹوں کی گردنوں میں تھے، لے لئے۔ 22 تب اِسرائیل کے مَردوں نے جِدعون سے کہا۔ کہ تُو ہم پر حُکومت کر اَور تیرا بیٹا اَور تیرا پوتا بھی۔ کیونکہ تُو نے ہمیں مِدیانیوں کے ہاتھ سے چھُڑایا۔ 23 جِدعون نے اُن سے کہا۔ کہ نہ مَیں تُم پر حُکومت کرُوں گا اَور نہ میرا بیٹا تُم پر حُکومت کرے گا۔ بلکہ خُداوند ہی تُم پر حُکومت کرے گا۔ 24 پِھر جِدعون نے اُن سے کہا۔ کہ مَیں تُم سے ایک چیز مانگتا ہُوں۔ کہ تُم میں سے ہر ایک اپنی لُوٹ میں سے کان کی بالی مُجھے دے دے۔ کیونکہ وہ اِسمعٰیلی تھے۔ اَور اُن کی کان کی بالِیاں سونے کی تھیں۔ 25 اُنہوں نے کہا ہم خُوشی سے دیں گے اَور اُنہوں نے ایک چادر بِچھائی۔ تو ہر ایک نے اپنی لُوٹ میں سے کان کی بالِیاں اُس پر ڈال دیں۔ 26 اَور کان کی سونے کی بالیوں کا وزن جو اُس نے مانگی تھیں، ایک ہزار سات سَو مِثقال ہُوا۔ علاوہ اُن زیوروں اَور طوق اَور اَرغوانی کپڑوں کے جو مِدیان کے بادشاہوں پر تھے۔ اَور علاوہ اُن زنجیروں کے جو اُن کے اُونٹوں کی گردنوں میں تھیں۔ 27 چُنانچہ جِدعون نے اُن سے ایک افود بنایا۔ اَور اُسے اپنے شہر عُفرہ میں رکھّا۔ اَور سارے اِسرائیل نے اُس کے سبب بَدکاری کی۔ اَور وہ جِدعون اَور اُس کے گھر کے لئے ایک پھندا ہُوا۔ 28 اَور مِدیانی اِسرائیل کے سامنے پست ہُوا۔ اَور اُنہوں نے پِھر کبھی سر نہ اُٹھائے۔ اَور جِدعون کے ایّام میں مُلک نے چالیس برس تک آرام پایا۔ 29 اَور یوآس کا بیٹا یُربعل گیا اَور اپنے گھر میں رہا۔ 30 اَور جِدعون کے ستّر بیٹے تھے۔ جو اُس کی صُلب سے پیدا ہوئے۔ کیونکہ اُس کی بُہت سی بیویاں تھیں۔ 31 اَور اُس کی ایک لونڈی سے بھی، جو سکم میں تھی اُس کے لئے ایک بیٹا ہُوا۔ اَور اُس نے اُس کا نام اَبی ملک رکھّا۔ 32 اَور جِدعون بِن یوآس اچھّا بُوڑھا ہوکر مَرگیا۔ اَور ابیعزر کے عُفرہ میں اپنے باپ یوآس کی قبر میں دفن کِیاگیا۔ 33 اَور ایسا ہُوا۔ کہ جب جِدعون مَرگیا۔ تو اِسرائیل پِھر گئے اَور بعلِیم کی پیروی میں بَدکاری کی۔ اَور بَعلَ بَریت کو اپنا مَعبُود بنایا۔ 34 اَوربنی اِسرائیل نے اپنے خُداوند خُدا کو یاد نہ رکھّا۔ جس نے اُنہیں اُن کے تمام دُشمنوں کے ہاتھ سے جو اُن کے اِردگِرد تھے، رہائی بخشی تھی۔ 35 اَور نہ اُنہوں نے یُربعل جِدعون کے گھرانے کا اُن نیکیوں کے عِوض جو اُس نے بنی اِسرائیل سے کی تھیں، کُچھ اِحسان مانا۔