1 جِدعون اَور بنی اِسرائیل نے خُداوند کی نِگاہ میں پِھر بَدی کی۔ تو خُداوند نے اُنہیں سات برس تک مِدیان کے حوا لہ کِیا۔ 2 اَور مِدیان کا ہاتھ بنی اِسرائیل پر قَوی ہُوا۔ تو بنی اِسرائیل نے مِدیان کے مُقابِل اپنے لئے پہاڑ میں غاریں مورچے اَور قلعے بنائے۔ 3 اَور ایسا ہُوا۔ کہ جب اِسرائیل کُچھ بوتے تھے۔ تو مِدیانی اَور عمالیقی اَور اہلِ مشرق اُن پر چڑھائی کرنے کو نِکل آتے تھے۔ 4 اَور اُن کے مُقابِل خَیمے کھڑے کرتے اَور مُلک کے غلّہ کو غَزّہ کےپھا ٹک تک برباد کرتے تھے۔ اَور اِسرائیل کے لئے نہ کُچھ خُوراک نہ بھیڑ بکری نہ گائے بَیل اَور نہ کوئی گدھا رہنے دیتے تھے۔ 5 کیونکہ وہ اپنے مواشی اَور اپنے خَیموں سمیت ٹِڈّی کی طرح کثرت سے آتے تھے۔ یہاں تک کہ اُن کا اَور اُن کے اُونٹوں کا شُمار نہ ہوتا تھا۔ وہ مُلک میں داخِل ہوتے اَور اُسے خراب کرتے تھے۔ 6 اِس لئے اِسرائیل مِدیان کے سامنے نہایت پست ہُوئے اَور بنی اِسرائیل خُداوند کے آگے چِلّائے۔ 7 اَور جب بنی اِسرائیل مِدیانیوں کے سبب سے خُداوند کے آگے چِلّائے۔ 8 تو خُداوند نے بنی اِسرائیل کے پاس ایک نبی بھیجا۔ جس نے اُن سے کہا۔ خُداوند اِسرائیل کا خُدا یُوں فرماتاہے کہ مَیں تُمہیں مِصر سے چُھڑا لایا۔ اَور مَیں نے تُمہیں جائے غُلامی سے نِکالا۔ 9 اَور تُمہیں مِصریوں کے ہاتھ سے اَور تُمہارے سب ستانے والوں کے ہاتھ سے چُھڑایا۔ اَور اُنہیں تُمہارے سامنے سے نِکا ل دِیا۔ اَور اُن کا مُلک تُمہیں عطا کِیا۔ 10 اَور مَیں نے تُم سے کہا۔ کہ مَیں خُداوند تُمہارا خُدا ہُوں۔ چُنانچہ تُم اَموریوں کے مَعبُودوں سے جِن کے درمیان تُم اُن کے مُلک میں بستے ہو۔مت ڈرو۔ لیکن تُم میری آواز کے سُننے والے نہ ہُوئے۔ 11 اَور خُداوند کا فرِشتہ آیااَور عُفرہ میں بلُوط کے ایک درخت کے نیچے جو یو آس اَبیعزری کا تھا، بیٹھا۔ اَور اُس کا بیٹا جِدعون کولُھو کے پاس گیہُوں جھاڑ رہا تھا۔ کہ مِدیانیوں سے چُھپائے رکھّے۔ 12 تو خُداوندکا فرِشتہ اُسے دِکھائی دِیا۔ اَور اُس سے کہا۔ اَے بَہادُر مَرد! خُداوند تیرے ساتھ ہے۔ 13 جِدعون نے اُس سے کہا۔ اَے میرے آقا! اگر خُداوند ہمارے ساتھ ہے۔ تو یہ تمام حادثے ہم پر کیوں واقع ہُوئے۔ اَور وہ سب مُعجزے اُس کے کہاں ہیں؟ جِن کی بابت ہمارے باپ دادا نے ہم سے بیان کِیا اَور کہا۔ کہ خُداوندہمیں مُلکِ مِصر سے نِکال لایا۔ اَوراَب خُداوند نے ہمیں چھوڑ دِیا۔ اَور مِدیان کے قبضے میں کردِیا۔ 14 تب خُداوند کے فرِشتے نے اُس پر نِگاہ کی اَور اُس سے کہا۔ کہ اپنی قُوّت میں جا۔ اَور اِسرائیل کو مِدیان کے ہاتھ سے رِہائی دے۔ دیکھ مَیں نے تُجھے بھیجا ہے۔ 15 تو جِدعون نے اُس سے کہا۔ اَے میرے آقا! مَیں اِسرائیل کو کیسے رِہائی دُوں گا؟ میرا گھرانا مَنسّی میں سب سے حقِیر گھرانا ہے۔ اَور مَیں اپنے باپ کے گھر میں سب سے چھوٹا ہُوں۔ 16 تو خُداوند کے فرِشتے نے اُس سے کہا۔ مَیں تیرے ساتھ ہُوں گا۔ اَور تُو مِدیان کو ایک ہی آدمی کی طرح مارے گا۔ 17 تب اُس نے اُس سے کہا۔ اگر مَیں تیرے نزدِیک منظُورِ نظر ہُوں۔ تو مُجھے اِس بات کا کوئی نِشان دے۔ کہ تُو ہی ہے جس نے میرے ساتھ کلام کِیا۔ 18 جب تک کہ مَیں تیرے پاس نہ لَوٹوں۔ اَور اپنا ہدیہ نِکا ل نہ لاوُں۔ اَور تیرے آگے نہ رکھُّوں۔ تب تک تُو یہاں سے نہ جا۔ تو اُس نے اُس سے کہا۔ کہ جب تک تُو نہ لَوٹے۔ مَیں یہاں ٹھہرُوں گا۔ 19 اَور جِدعون اندر گیا اَور ایک بکری کا بچّہ اَور ایک اِیفہ آٹے کی بے خمِیری روٹیاں تیّار کِیں۔ اَور گوشت اُس نے چنگیر میں رکھّا۔ اَور گوشت کا شوربا ایک کٹورے میں ڈالا۔ اَور یہ سب کُچھ لے کر بلُوط کے درخت کے نیچے آیا اَور اُس کے آگے گُزرانا۔ 20 تب خُداوند کے فرِشتے نے اُس سے کہا۔ کہ گوشت اَور بے خمیری روٹیوں کو لے کر اُس چٹان پر رکھّ۔ اَور شوربا اُس پر اُنڈیل۔ تو اُس نے ایسا ہی کِیا۔ 21 تب خُداوند کے فرِشتے نے اُس عصا کی نوک سے جو اُس کے ہاتھ میں تھا گوشت اَور بے خمیری روٹیوں کو چُھوا۔ تو اُس چٹان میں سے آگ نِکلی اَور گوشت اَور بےخمیری روٹیوں کو کھا گئی۔ اَور خُداوند کا فرِشتہ اُس کی آنکھوں سے غائب ہوگیا۔ 22 تب جِدعون نے جانا کہ وہ خُداوند کا فرِشتہ تھا۔ تو جِدعون نے کہا۔ اَے مالِک خُداوند! مَیں نے خُداوند کے فرِشتے کو رُوبرُو دیکھا۔ 23 تو خُداوند نے اُس سے کہا۔ تیری سلامتی ہو خوف نہ کر۔ کیونکہ تُو نہ مَرے گا۔ 24 تب جِدعون نے وہاں پر خُداوند کے لئے ایک مذَبح بنایا۔ اَور اُسے یَہوواہِ سلوم کہا۔ اَور وہ آج کے دِن تک اَبیعزریوں کے عُفرہ میں موجُود ہے۔ 25 اَور اُسی رات یُوں ہُوا۔ کہ خُداوند نے اُس سے کہا۔ کہ اپنے باپ کا بَیل یعنی دُوسرا بَیل جو سات برس کاہے، لے اَور بَعلَ کے مذَبح کو ڈھادے۔ اَور کھمبے کو جو اُس کے پاس ہے، کاٹ ڈال۔ 26 اَور خُداوند اپنے خُدا کے لئے گڑھی کی چوٹی پر قاعدے کے مُطابِق ایک مذَبح بنا اَور بَیل کو لے کر اُس کی سوختنی قُربانی اَور اُس کھمبے کی لکڑی پر گُزران جو تُونے کاٹ ڈالا ہوگا۔ 27 تب جِدعون نے اپنے غُلاموں میں سے دس آدمی لئے۔ اَور جیسا کہ خُداوند نے اُسے فرمایا تھا، کِیا۔ اَور چُونکہ وہ یہ کام دِن کے وقت کرنے سے اپنے باپ کے گھرانے اَور شہر کے لوگوں سے ڈرا۔ تو اُس نے یہ کام رات کے وقت کِیا۔ 28 اَور شہر کے لوگ جب صُبح سویرے اُٹھے۔ تو دیکھا۔ کہ بَعلَ کامذَبح ڈھایا ہُوا ہَے۔ اَور اُس کے پاس کا کھمبا کاٹا گیا ہَے۔ اَور اُس مذَبح پر جو بنایا گیا۔ بَیل چڑھایا ہُوا ہَے۔ 29 اَور اُنہوں نے ایک دُوسرے سے کہا۔ یہ کام کِس نے کِیا؟ اَور اُنہوں نے دریافت کِیا۔ اَور کوشِش کی تو اُن سے کہا گیا۔ کِہ جِدعون بِن یوآس نے یہ کام کِیا ہَے۔ 30 تب شہر کے لوگوں نے یوآس سے کہا۔ کہ اپنے بیٹے کو باہر نِکا ل لا۔ تاکہ وہ قتل کِیا جائے۔ کیونکہ اُس نے بَعلَ کا مذَبح ڈھایا۔ اَور اُس کے پاس کا کھمبا کاٹ ڈالا۔ 31 تب یوآس نے اُن سب کو جو اُس کے سامنے کھڑے تھے کہا۔ کیا تُم بَعلَ کے لئے جھگڑتے ہو۔ یا اُسے بچانا چاہتے ہو؟ جو کوئی اُس کے لئے جھگڑتاہو کَل تک مارا جائے۔ اگر وہ خُدا ہے تُو وہ اپنے لئے آپ ہی جھگڑے۔ کیونکہ کِسی نے اُس کے مذَبح کو ڈھا دِیا ہے۔ 32 تو اُس روز اُس نے اُس کا نام یُربعل رکھّ کر کہا۔ کہ بَعل آپ ہی اُس سے جھگڑا کرے۔ کیونکہ اُس نے اُس کے مذَبح کو ڈھایا ہے۔ 33 تب سارے مِدیانی اَور عمالِیقی اَور اہلِ مشرق باہم جمع ہُوئے۔ اَور پار اُترے۔ اَور وادی یِزرِعیل میں ڈیرے لگائے۔ 34 اَور رُوحِ خُداوند جِدعون پر نازِل ہُوئی۔ تو اُس نے نرسِنگا پُھونکا اَور ابیعزر کے لوگ نِکلے اَور اُس کے پیچھے پیچھے چلے۔ 35 تب اُس نے سارے مَنسّی کے پاس قاصِد بھیجے۔ تو وہ بھی جمع ہُوئے اَور اُس کے پیچھے ہولئے۔ اَور اُس نے آشر اَور زُبُولون اَور نِفتالی کے پاس بھی قاصِد بھیجے تو وہ اُس کے مِلنے کو نِکل آئے۔ 36 اَور جِدعون نے خُدا سے کہا۔ اگر تو بنی اِسرائیل کو میرے ہاتھ سے رِہائی دِلانا چاہتاہَے۔ جیسا کہ تُو نے کہا۔ 37 تو دیکھ مَیں اُون کی کَترن کَھلیان میں رکھّ دیتا ہُوں۔ تو اگر صِرف کتَرن پر ہی اَوس پڑے۔ اَور اِردگِرد کی زمین سُوکھی رہے۔ تو مَیں جانُوں گا۔ کہ تُو اِسرائیل کو میرے ہاتھ سے رِہائی دے گا۔ جیسا کہ تُو نے کہا۔ 38 اُٹھا۔ اَور اُس نے کتَرن کو نچوڑا تو اُس میں سے پیالہ بھر پانی نِکلا۔ 39 پِھر جِدعون نے خُدا سے کہا۔ کہ تُو مُجھ سے ناراض نہ ہو۔ کہ صِرف ایک دفعہ مَیں اَور بولُوں گا۔ اَور اَب کی بار بھی کتَرن سے آزمائش کرُوں گا۔ کہ صِرف اُون کی کتَرن خُشک رہے اَور ساری زمین پر اَوس ہو۔ 40 چُنانچہ خُداوند نے اُس رات کو ایسا ہی کِیا۔ کہ صِرف کتَرن ہی خُشک رہی اَور ساری زمین پر اَوس پڑی۔