باب

1 دبورہ اَور اِہُود کی مَوت کے بعد بنی اِسرائیل نے پِھر خُداوند کی نِگاہ میں بَدی کی۔ 2 لہٰذا خُداوند نے اُنہیں کِنعان کے بادشاہ یابین کے ہاتھ میں جو حصُور میں بادشاہی کرتا تھا، بیچا۔ اَور اُس کا سِپّہ سالار سِیسرا تھا۔ جو غیر قوموں کے حروسِت میں رہتاتھا۔ 3 تب بنی اِسرائیل خُداوند کے آگے چِلّائے۔ کیونکہ اُس کے پاس نَوسَو لوہے کی گاڑیاں تھیں۔ اَور اُس نے بیس برس تک بنی اِسرائیل کو بہ شِدّت تنگ کِیا۔ 4 اَور اُس وقت لَفّیِدوت کی بیوی دبُورہ نبیہ بنی اِسرائیل پر قاضیہ تھی۔ 5 اَور وہ کوہِ اِفرائیم میں رامہ اَور بَیت ایل کے درمیان دبُورہ کے کھجُور کے درخت کے نیچے بیٹھتی تھی۔ اَور بنی اِسرائیل اُس کے پاس اِنصاف کرانے کے لئے آتے تھے۔ 6 تب اُس نے قادِس نفتالی سےابی نوعم کے بیٹے برق کو آدمی بھیج کر بُلایا۔ اَور اُس سے کہا۔ کیا خُداوند اِسرائیل کے خُدا نے حُکم نہیں دِیا۔ کہ تُو جا اَور کوہِ تبور میں لشکر کو تیّار کر ؟اَور بنی نِفتالی اَور بنی زُبُولون میں سے دس ہزار مَرد اپنے ساتھ لے۔ 7 اَور مَیں یابین کے سِپّہ سالار سیسرا اَور اُس کی گاڑیوں اَور اُس کی فوج کو دریائےقیسون پر تیری طرف لاؤں گا۔ اَور اُسے تیرے ہاتھ میں دے دُوںگا۔ 8 برق نے اُسے کہا۔ اگر تُو میرے ساتھ چلے تو مَیں جاوؤں گا۔ اَور اگر تُونہ چلے تو مَیں نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ مَیں نہیں جانتا کہ خُداوند مُجھے کِس دِن کامیابی دے گا۔ 9 اُس نے کہا۔ مَیں تیرے ساتھ چلُوں گی۔ مگر جو کُچھ تُو کرتا ہے۔ اُس میں تیرا کُچھ فخر نہ ہوگا۔ کیونکہ خُداوند سیسرا کو ایک عورت کے حوالے کرے گا۔ تب دبُورہ اُٹھی۔ اَور برق کے ساتھ قادس کو گئی۔ 10 اَور برق نے زُبُولون اَور نِفتالی کو قادس میں بُلایا۔ اَور اُس نے دس ہزار آدمیوں کے ساتھ چڑھائی کی اَور دبُورہ اُس کے ساتھ چڑھی۔ 11 اَور حبر قِینی جو مُوسیٰ کے رِشتہ دارحباب کی نسل سے تھا۔ قِینیوں سے جُدا ہو گیا تھا۔ اَور اُس نے اپنا خَیمہ ضعَننیّم میں جو قادس کے قریب ہے۔ ایک بلُوط کے درخت کے پاس لگایا تھا۔ 12 تب سیسرا کو خبر پُہنچی۔ کہ برق بن ابی نوعم کوہ ِتبور پر چڑھا ہے۔ 13 تو سیسرا نے اپنی سب گاڑیاں جو نَوسَو لوہے کی گاڑیاں تھیں۔ اَور اپنے سب لوگوں کو جو اُس کے پاس غیر قوموں کی حروسِت سے دریائےقیسون تک تھے، جمع کِیا۔ 14 تب دبُورہ نے برق سے کہا۔ اُٹھ! کیونکہ خُداوند نے آج کے دِن سیسرا کو تیرے ہاتھ میں دے دِیا۔ اَور دیکھ! خُداوند تیرے آگے جاتا ہے۔ تو برق کوہِ تبور سے اُترا اَور دس ہزار مَرد اُس کے پیچھے تھے۔ 15 اَور خُداوند نے سیسرا اَور اُس کی تمام گاڑیوں پر دہشت ڈالی۔ اَور برق کے آگے اُس کے تمام لشکر کو تلوار کی دھار سے قتل کِیا۔ تب سیسرا اپنی گاڑی سے نیچے کُودا۔ اَور پیدل بھاگا۔ 16 اَور برق نے اُس کی گاڑیوں اَور اُس کے لشکر کا غیر قوموں کی حروسِت تک پیچھا کِیا۔ اَور اُس کے لشکر میں سے ہر ایک تلوار کی دھار سے قتل ہو کر گِرا۔ اَور کوئی باقی نہ رہا۔ 17 اَور سیسرا پیدل بھاگ کر حبر قِینی کی بیوی یاعیل کے خَیمے میں آیا۔ کیونکہ حصُور کے بادشاہ یابین اَور حبر قِینی کے گھرانے میں صُلح تھی۔ 18 اَور یاعِیل سیسرا کے اِستقبال کو نِکلی۔ اَور اُس سے کہا آ اَے میرے آقا! میرے پاس آ۔ اَور خوف زدہ نہ ہو۔ تو وہ اُس کے پاس گیا۔ اَور خَیمے میں داخِل ہُوا۔ تو اُس نے ایک کَمبل سے اُسے ڈھانپ دِیا۔ 19 تب سیسرا نے اُس سے کہا مُجھے تھوڑا پانی پِلا۔ کیونکہ مَیں پِیاسا ہُوں۔ تو اُس نے دُودھ کی ایک چھوٹی مَشک کھولی اَور اُسے پِلایا۔ اَور پِھر اُسے ڈھانپ دِیا۔ 20 پِھر اُس نے اُس سے کہا۔ کہ تو خَیمہ کے دروازہ پر کھڑی رہ۔ اَور اگر کوئی آئے اَور تُجھ سے پُوچھے۔ کہ یہاں کوئی ہے۔ تو کہنا۔ کہ کوئی نہیں۔ 21 تب حبر کی بیوی یاعِیل نے خَیمہ کی ایک میخ لی۔ اَور موگری ہاتھ میں پکڑی اَور آہستہ سے اُس کے پاس جا کر میخ اُس کی کنپٹی میں ٹھونک دی۔ یہاں تک کہ وہ زمین میں جا دَھنسی۔ کیونکہ وہ سوتاتھا۔ اَور وہ اُس کے گُھٹنوں کے درمیان بے ہوش ہو کر بے بس پیچھے گِر پڑا اَور مَرگیا۔ 22 اَور دیکھو جب برق سیسرا کے تَعاقُب میں آیا۔ تو یاعِیل اُس کے اِستقبال کو باہر نِکلی۔ اَور اُس سے کہا۔ آ۔ اَور مَیں تُجھے وہ آدمی جِسے تُو ڈُھونڈتا ہے دِکھاؤں گی۔ تب وہ اندر گیا۔ اَور دیکھا کہ سیسرا مَرا پڑا ہے اَور میخ اُس کی کنپٹی میں ہے۔ 23 چُنانچہ خُداوند نے اُس دِن کِنعان کے بادشاہ یابین کو بنی اِسرائیل کے آگے مَغلُوب کِیا۔ اَور بنی اِسرائیل کی طاقت بڑھتی گئی۔ 24 اَور اُن کا ہاتھ کِنعان کے بادشاہ یابین پر بھاری ہُوا۔ یہاں تک کہ اُنہوں نے اُسے نابُود کردِیا۔