1 بنیمین کے قبیلہ کے لئے بیویاں اَور اِسرائیل کے مَردوں نے مِصفاہَ میں قَسم کھا کر کہا۔ کہ ہم میں سے کوئی اپنی بیٹی بِنیمِین کوبِیاہ میں نہ دے گا۔ 2 اَور لوگ بَیت ایل میں آئے اَور وہاں پر خُدا کے سامنے شام تک کھڑے رہے۔ اَور اپنی آوازیں بُلند کیں۔ اَور بہ شِدّت روئے۔ 3 اَور کہا۔ اَے خُداوند اِسرائیل کے خُدا! اِسرائیل میں ایسا کیوں واقعہ ہُوا۔ کہ آج کے دِن اِسرائیل میں سے ایک قبیلہ کم ہو گیا۔ 4 اَور دُوسرے دِن لوگ صُبح سویرے اُٹھے۔ اَور وہاں پر اُنہوں نے ایک مذَبح بنایا۔ اَور سوختنی قُربانیاں اَور سلامتی کے ذَبیحے گُزرانے۔ 5 اَور بنی اِسرائیل نے کہا۔ کہ اِسرائیل کے سب قبیلوں میں سے کون ہَے جو خُداوند کے حضُور ہمارے مجمع میں نہیں آیا؟ کیونکہ اُنہوں نے سخت قَسم کھائی تھی۔ اَور کہا تھا۔ کہ جو کوئی مِصفاہَ میں خُداوند کے سامنے حاضِر نہ ہوگا۔ وہ ضرُور مار ڈالا جائے گا۔ 6 اَور بنی اِسرائیل اپنے بھائی بِنیمِین کی بابت پچھتائے۔ اَور بولے کہ آج اِسرائیل میں سے ایک قبیلہ کٹ گیا۔ 7 اَور جو باقی رہے ہَیں اُن کے لئے ہم بیویاں کہاں سے لائیں۔ اَور ہم نے تو خُداوند کی قَسم کھائی ہَے۔ کہ ہم اپنی بیٹیوں میں سے اُنہیں بیویاں نہ دیں گے۔ 8 تب اُنہوں نے کہا کہ اِسرائیل کے قبیلوں میں سے کون ہَے جو مِصفہَ میں خُداوند کے پاس حاضِر نہیں ہُوا۔ اَور دیکھو کہ خَیمہ گاہ پر مجمع میں یبیس جِلعاد سے کوئی نہ آیا تھا۔ 9 کیونکہ جب لوگ گِنے گئے۔ تو دیکھو یبیس جِلعاد کے رہنے والوں میں سے وہاں کوئی نہ تھا۔ 10 تب جماعت نے بارہ ہزار بَہادُر مَرد اُن کی طرف بھیجے۔ اَور اُنہیں حُکم دِیا اَورکہا۔ کہ جاؤ اَور یبیس جِلعاد کے لوگوں کوسمیت اُن کی عورتوں اَور بچّوں کے تلوار کی دھار سے قتل کرو۔ 11 اَور یہ کام تُم ایسے کرو۔ کہ تمام مَردوں کو اَور سب عورتوں کو جو مَرد سے واقِف ہوں، قتل کرو۔ مگر کُنواریوں کو بچائے رکھّو۔ اَور اُنہوں نے ویسا ہی کِیا۔ 12 تو یبیس جِلعاد کے رہنے والوں میں سے چارسَو کُنواری لڑکیاں پائی گئیں۔ جو مَرد سے ناواقفِ تھیں۔ وہ اُنہیں سَر زمینِ کِنعان میں خَیمہ گاہ کی طرف سیلامیں لے آئے۔ 13 اَور ساری جماعت نے بنی بِنیمِین کے پاس جو رِمّون کی چٹان میں تھے آدمی بھیج کر بات کی اَور صُلح کرنے کے لئے اُنہیں بُلایا۔ 14 تو اُس وقت بِنیمِین واپس آئے۔ تو اُنہوں نے یبیس جِلعاد کی عورتوں میں سے جو عورتیں جیتی رکھّی تھیں اُنہیں دے دیں۔مگر وہ اُن کے لئے کافی نہ ہُوئیں۔ 15 اَور لوگ بِنیمِین کی بابت پچھتاتے تھے۔ کیونکہ خُداوند نے اِسرائیل کے قبیلوں میں شگاف ڈال دِیا تھا۔ 16 تو جماعت کے بزُرگ کہنے لگے کہ اُن کے لئے جو باقی رہے ہَیں۔ ہم بیویوں کا کیا اِنتظام کریں۔ کیونکہ بِنیمِین میں سے ہر عورت نابُودکردی گئی ہَے۔ 17 اَور اُنہوں نے کہا۔ کہ بِنیمِین کے باقی ماندہ کِس طریقہ سے بچارکھّے جائیں۔ تاکہ بنی اِسرائیل میں سے ایک قبیلہ مِٹ نہ جائے۔ 18 ہم تو اپنی بیٹیوں میں سے اُنہیں بیویاں نہیں دے سکتے۔ کیونکہ بنی اِسرائیل نے قَسم کھائی تھی اَور کہا تھا کہ جو کوئی بِنیمِین کو بیوی دے وہ مَلعُون ہَو۔ 19 تب اُنہوں نے کہا۔ کہ سیلا میں جو بَیت ایل کے شِمال کو اَور اُس رستے کے مشرق کو ہَے جو بَیت ایل سے سکم کو لبُونہ کے جنُوب میں جاتاہَے۔ خُداوند کی سالانہ عید کا وقت آیا ہَے۔ 20 تو اُنہوں نے بنی بِنیمِین کو حُکم دِیا اَور اُن سے کہا۔ کہ جاؤ اَور تاکستانوں میں کمِین لگا کے بیٹھو۔ 21 اَور تاکتے رہو۔ تو جس وقت سیلا کی بیٹیاں دستُور کے مُوافِق ناچنے کو نِکلیں تو تُم تاکستانوں سے نِکلو۔ اَور ہر ایک آدمی سیلا کی بیٹیوں میں سے اپنے لئے بیوی پکڑ لے اَور بِنیمِین کی زمین کو چلے جاؤ۔ 22 تو جب اُن کے باپ اَور بھائی ہمارے پاس شِکایت کرنے آئیں گے۔ تو ہم اُن سے کہیں گے کہ ہماری خاطِر اُنہیں دے دو۔ کیونکہ ہم نے لڑائی میں ہر ایک کے لئے عورت نہ پکڑی۔ اَور اگر تُم خُود اُنہیں دیتے تو گُنہگار ٹھہرتے۔ 23 تب بنی بِنیمِین نے ایسا ہی کِیا۔ کہ ناچنے والیوں میں سے اُنہوں نے اپنے شُمار کے مُطابِق عورتیں پکڑ لیں جِنہیں وہ لے گئے اَور روانہ ہُوئے اَور اپنی مِیرَاث کو واپس آئے۔ اَور شہر بنالئے اَور اُن میں رہنے لگے۔ 24 اَور وہاں سے بنی اِسرائیل میں سے ہر ایک اپنے قبیلہ اَور خاندان کو روانہ ہُوا۔ اَور ہر ایک اپنی اپنی مِیرَاث کو چلا گیا۔ 25 اَور اُن دِنوں میں اِسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا۔ ہر اِنسان جو اُس کی نظر میں اچھّا لگے، وُہی کرتا تھا ۔