باب

1 اُس کی بادشاہی کے نویں برس کے دسویں مہینے کے دسویں دِن شاہِ بابل نبُوکدنضِّر اَور اُس کے تمام لشکر نے یُروشلیِم پر چڑھائی کی اَور اُس کے مُقابِل ڈِیرے لگائے۔ اَور اُس کے گِرد دَمدَے باندھے۔ 2 اَور صِدقیاہ بادشاہ کے گیارھویں برس تک شہر زیر مُحاصرہ رہا ۔ 3 اَور چوتھے مہینے کے نویں دِن میں شہر میں کال کی شِدّت ہوگئی اَور مُلک کے لوگوں کے لئے روٹی نہ تھی ۔ 4 اَور اُنہوں نے شہر کو توڑا۔ اَور سب جنگی مرد اُس دروازے کی راہ سے جو دو دِیواروں کے درمیان بادشاہ کے باغ کے قریب تھا نِکل کر بھاگ گئے(اَورکسدی شہر کو گھیرے ہُوئے تھے) اَور صِدقیاہ بیابان کی راہ سے بھاگا ۔ 5 تب کسدیوں کی فوج بادشاہ کے تَعاقُب میں گئی۔ اَور یریحو کے میدان میں اُسے جا لِیا۔ اَور اُس کا تمام لشکر اُس سے جُدا ہوگیا تھا۔ 6 تب اُنہوں نے بادشاہ کو پکڑا۔ اَور اُسے شاہ ِبابل کے پاس رِبلہ میں لے گئے۔ اَور اُس نے اُس پر فتویٰ دِیا ۔ 7 اَور اُس نے صِدقیاہ کے بیٹوں کو اُس کی آنکھوں کے سامنے ذَبح کِیا۔ اَور اُس نے صِدقیاہ کی آنکھیں نِکلوا ڈالیں۔ اَور اُسے پِیتل کی دو زنجیروں سے باندھا۔ اَور اُسے بابل میں لایا۔ 8 شہر اَور ہَیکل کی بربادی اَور شاہِ بابل نبُوکدنضّر کے اُنیسویں برس کے پانچویں مہینے کے ساتویں دِن شاہِ بابل کا خادِم نبُوزرادان فوج کا سِپّہ سالار یُروشلیِم میں آیا۔ 9 اَور خُداوند کا گھر اَور بادشاہ کا گھر اَور یُروشلیِم کے تمام گھر جَلادِیئے۔ اَور سب بڑے آدمیوں کے گھر آگ سے جَلادِیئے۔ 10 اَور کسدیوں کی تمام فوج نے جو لشکر کے سِپّہ سالار کے ساتھ تھی یُروشلیِم کی دِیواروں کو جو اُس کے گِرد تھیں ڈھادِیا۔ 11 ا ور تمام لوگوں کو جو شہر میں باقی رہے تھے اَور بھاگنے والوں کو جو شاہِ بابل کی طرف بھاگے تھے اَور تمام جماعت کو نبُوزرادان فوج کا سِپّہ سالار اسیر کر کے لے گیا ۔ 12 اَور فوج کے سِپہّ سالار نے مُلک کے مِسکیِنوں میں سے انگُور لگانے والوں اَور کھیتی کرنے والوں کو چھوڑ دِیا۔ 13 اَور پِیتل کے ستُونوں کو جو خُداوند کے گھر میں تھے اَور چوکیوں اَور پِیتل کے بُحیرہ کو جو خُداوند کے گھر میں تھا کسدیوں نے توڑا۔ اَور پِیتل کو بابل میں اُٹھالے گئے۔ 14 اَور دیگیں اَور چمچے اَور پیالے اَور تھالیاں اَور سب پِیتل کے برتن جو وہاں کام آتے تھے، لے لئے۔ 15 اَور انگیٹھیاں اَور گُلگیر جو سونے کے تھے۔ وہ سونا اَور جو چاندی کے تھے وہ چاندی فوج کے سِپہّ سالار نے لے لی۔ 16 اَور اُس نے دونوں ستُون اَور بُحیرہ اَور چوکیاں جو سُلیمان نے خُداوند کے گھر کے لئے بنوائی تھیں لے لیں اَور اُن برتنوں کا پِیتل بے وزن تھا۔ 17 اَور ایک ستُون کا طول اَٹھارہ ہاتھ تھا۔ اَور اُس کے اُوپر پِیتل کا ٹوپ تھا۔ اَور ٹوپ پانچ ہاتھ اُونچا تھا۔ اَور ٹوپ پر اُس کے گِردا گِرد جالیاں اَور انار سب پِیتل کے تھے۔ اَور ایسا ہی دُوسرا ستُون مع اپنی جالی کے تھا۔ 18 اَور فوج کے سِپّہ سالار نے سردار کاہِن سرایاہ اَور دُوسرے کاہِن صِفنیاہ اَور تین دربانوں کو پکڑ لیا۔ 19 اَور اُس نے شہر میں سے ایک خواجہ سرائے کو جو جنگی آدمیوں پر مامُور تھا اَور پانچ آدمی جو بادشاہ کے سامنے موجُود رہتے تھے۔ اَور جو شہر میں پائے گئے۔ اَور لشکر کے رئیس کے کاتِب کو جو مُلک کے لوگوں کو جمع کرتا تھا۔ اَور مُلک کے لوگوں میں سے ساٹھ آدمی جو شہر میں پائے گئے پکڑے۔ 20 نبُوزرادان فوج کے سِپّہ سالار نے اُنہیں پکڑا اَور اُنہیں شاہِ بابل کے پاس رِبلہ میں لے گیا ۔ 21 تو شاہِ بابل نے اُنہیں مارا اَور حمات کے مُلک کے رِبلہ میں اُنہیں قتل کِیا۔ سو یہُوداہ اپنی سَرزمین سے جَلا وطن ہُوا ۔ 22 اَور یہُوداہ کی سَرزمین میں لوگوں میں سے جو باقی رہے۔ جِنہیں شاہِ بابل نبُوکدنضِّر نے چھوڑدیا۔ اُس نے اُن پر جِدَلیاہ بِن اَخی قام بِن سافن کو حاکِم مُقرّر کِیا۔ 23 جب لشکر کے تمام رئیسوں نے اَور اُن کے آدمیوں نے سُنا۔ کہ شاہِ بابل نے جِدَلیاہ کو حاکِم مُقرّر کِیا۔ تو وہ یعنی اسمعیل بِن نتنیاہ اَور یوحنان بِن قریح اَور سرایاہ بِن تَنحُومِت نظوفاتی اَور یازنیاہ بِن معکا تی َور اُن کے آدمی مصِفاہ میں جِدَلیاہ کے پاس آئے ۔ 24 اَور جِدَلیاہ نے اُنہیں اَور اُن کے آدمیوں کو قَسم دی اَور اُنہیں کہا کہ کسدیوں کی خدمت کرنے سے مت ڈرو۔ مُلک میں بسو اَور شاہِ بابل کی خدمت کرو۔ تو تُمہارے لئے اچھّا ہوگا ۔ 25 اَور ساتویں مہینے میں اسمعیل بِن نتنیاہ بِن الیمسع جو شاہی نسل سے تھا، آیا۔اَور اُس کے ساتھ دس مَرد تھے۔ تو اُنہوں نے جِدَلیاہ کو مارا تو وہ مَر گیا۔ اَور اُنہوں نے یہُودیوں اَور کسدیوں کو بھی جو مصِفاہ میں اُس کے ساتھ تھے مارا ۔ 26 تب سب لوگ کیا چھوٹے کیا بڑے اَور لشکر کے سردار اُٹھے اَور مصِر کو چلے گئے کیونکہ اُنہوں نے کسدیوں سے خوف کھایا۔ 27 اَور شاہ یہُوداہ یہویاکیِن کی اسیری کے سینتیسویں برس کے بارھویں مہینے کے ستائیسویں دِن ایسا ہُوا کہ شاہِ بابل اویل مرودک نے اُسی سال میں جب وہ بادشاہ ہُوا۔ شاہِ یہُوداہ یہویاکیِن کو سرفراز کِیا۔ اَور اُسے قید خانہ سے رِہائی دی ۔ 28 اَور اُس سے مہربانی کی باتیں کیں۔ اَور اُس کے تخت کو اُن بادشاہوں کے تختوں سے جو اُس کے ساتھ بابل میں تھے اُونچا کیا ۔ 29 اَور اُس کے قید خانہ کے کپڑے بدلوائے۔ اَور وہ اپنی زِندگی کے سارے ایّام میں اُس کے حضُور ہمیشہ کھانا کھاتا رہا۔ 30 اَور اُس کی زِندگی کے کُل ایّام میں ہر روز کے لئے بادشاہ کی طرف سے اِس کے لئے وظیفہ مُقرّر کِیا گیا۔