1 ۱۔اب اے بھائیو اور بہنو! میں تمہیں یا ددلاتا ہوں کہ جو خوش خبری میں نے تم کو سنائی تھی، جسے تم نے قبول کیا اور جس میں قائم بھی ہو ۔ 2 ۲۔ اُسی خوش خبری کے باعث تم بچائے جا رہے ہو ،اگراُس کلام میں ،جس کا پرچار میں نے تم سے کیا، میں قائم رہو ورنہ تمہار ایمان لانا بے فائدہ ہے۔ 3 ۳ کیونکہ میں نے تمہیں اولین ترجیح کے طور پر وہی بات پہنچا دی جو مجھے پہنچی؛پاک نوشتوں کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لئے مرا، 4 ۴۔ دفن ہوا او رپاک نوشتوں کے مطابق تیسرے دن جی اٹھا‘‘۔ 5 ۵۔ پھر وہ کیفا پر ظاہر ہوا پھر بارہ رسولوں پر۔ 6 ۶۔ پھر پانچ سو سے زیادہ بھائیوں اور بہنوں پر ظاہر ہوا ۔ جن میں زیادہ تر ابھی بھی زندہ ہیں ،لیکن کچھ سو گئے ہیں۔ 7 ۷۔ پھر یعقوب پر ظاہر ہوا ،پھر سب رسولوں پر۔ 8 ۸۔ ایک بچے کی مانند جو صیحح وقت پر پیدا نہ ہوا ۔ 9 ۹۔ کیونکہ میں رسولوں میں سب سے کم تر ہوں ۔یہاں تک کہ رسول کہلانے کے لائق نہیں ، اِس لئے کہ میں خدا کی کلیسیا کو ستاتا تھا۔ 10 ۱۰ ۔لیکن خدا کے فضل سے میں ہوں جو کچھ بھی ہوں، اور مجھ میں اُس کا فضول رائیگاں نہیں تھا۔ اِس کی بجائے ، میں نے اُن سب سے زیادہ محنت کی ۔ لیکن پھر بھی یہ میں نہیں ہوں بلکہ خد ا کا فضل ہے جو کہ میرے ساتھ ہے۔ 11 ۱۱۔ چنانچہ، اِس لئے چاہے میں ہوں یا وہ ہوں ،تو بھی ہم نے منادی کی اور تم ایمان لائے ۔ 12 ۱۲۔ اب اگر مسیح کی یہ منادی کی جاتی ہے کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا ہے ،پھر بعض تم میں سے کس طرح یہ کہتے ہیں کہ مردوں کی قیامت نہیں ہو گی؟۔ 13 ۱۳۔اگر مردوں کی قیامت نہیں تو مسیح بھی نہیں جی اٹھا۔ 14 ۱۴۔ اور اگر مسیح جی نہیں اٹھا تو ہمارا منادی کرنا فضول ہے اورتمہارا ایمان لانا بھی فضول ہے۔ 15 ۱۵۔ اور ہم خدا کے جھوٹے گواہ ٹھہرے کیونکہ ہم نے خدا کے خلاف گواہی دی ، یہ کہتے ہوئے کہ اُس نے مسیح کو جلایا حالانکہ نہیں جلایا۔ 16 ۱۶۔ اگر مردے جی نہیں اٹھتے تو مسیح بھی نہیں جی اٹھا۔ 17 ۱۷۔ اور اگر مسیح جی نہیں اٹھا تو تمہارا ایمان لانافضول ہے اور تم اب تک اپنے گناہوں میں ہو۔ 18 ۱۸۔توپھر جو مسیح میں مر گئے ہیں، وہ بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ 19 ۱۹۔ اگر صرف اِسی زندگی میں ہمارے مستقبل کا اعتماد مسیح پر ہے ، تو ہم سب لوگوں سے بڑھ کر قابل ِ ترس ہیں۔ 20 ۲۰۔ لیکن اب مسیح مردوں میں سے جی اٹھا ہے، مردوں میں سے پہلا پھل ۔ 21 ۲۱۔ کیونکہ ایک انسان کے باعث موت آئی، اورایک ہی کے باعث مردوں کی قیامت بھی آئی۔ 22 ۲۲۔ جس طرح آدم میں سب مرتے ہیں، اسی طرح مسیح میں سب زندہ کیے جائیں گے۔ 23 ۲۳۔ لیکن ہر ایک کی اپنی باری ہے:پہلا پھل مسیح اور پھر وہ جو اُس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اُس کی آمد پر زندہ ہوں گے۔ 24 ۲۴۔ پھر آخر ہو گا جب مسیح سب حکومت اور اختیار اور قدرت کو تباہ کرے گا تو بادشاہت خدا باپ کے حوالہ کر دے گا۔ 25 ۲۵۔ لازم ہے کہ وہ حکمرانی کرے جب تک وہ اپنے دشمنوں کو پاؤں تلے نہ کر دے۔ 26 ۲۶۔ آخر ی دشمن جو تباہ کیا جائے گا وہ موت ہے۔ 27 ۲۷۔ "کیونکہ اُس نے ہر چیز اُس کے پاؤں تلے کر دی" لیکن جب یہ کہا جاتا ہے ،" اُ س نے سب کچھ کر دیا ہے"، اِس سے صاف ظاہر ہے جس نے یہ سب کچھ تابع کیا وہ خود اُس میں شامل نہیں ہے ۔ 28 ۲۸۔ جب سب کچھ اُس کے تابع ہو جائے گا تو بیٹا خود بھی اُس کے تابع ہو جائے گا جس نے سب کچھ اُس کے تابع کر دیا۔یہ اِ س لئے ہوگا تاکہ خدا باپ سب میں سب کچھ ہو۔ 29 ۲۹۔ یا اِس کے علاوہ وہ لوگ جو جو مردوں کے لئے بپتسمہ لیتے ہیں، کیا کریں گے؟ اگر مردے کبھی جی نہیں اٹھتے تو کیوں اُن کے لئے بپتسمہ لیتے ہیں؟ 30 ۳۰۔ اور کیوں ہم ہرگھڑی خطرے میں ہیں؟ 31 ۳۱۔ بھائیو اور بہنو، میرا وہ فخر جوتمہارے ذریعے مجھے خداوند یسو ع مسیح میں ہے، میں یہ اعلان کرتا ہوں: میں روز مرتا ہوں۔ 32 ۳۲۔ مجھے کیا حاصل ہےاگر انسانی نقطہ ِ نظر سے میں اِفسس میں درندوںسے لڑا ؟ اگر مردے جی نہیں اٹھتے، "آؤ، ہم کھائیں پیئں کیونکہ کل تو مر ہی جانا ہے۔" 33 ۳۳۔ دھوکا مت کھاؤ:’’ بری صحبت اچھے اخلاق کی تباہی ہے۔" 34 ۳۴۔ہوش میں آؤ ! راست باز زندگی گزارو۔ گناہ مت کرتے رہنا، کیونکہ تم میں سے کچھ خدا کے بارے میں کوئی علم نہیں رکھتے، میں تمہیں شرم دلانے کے لئے کہتا ہوں۔ 35 ۳۵۔ لیکن کوئی یہ کہے گا ،" مردے کیسے جی اٹھتے ہیں؟ اور وہ کس قسم کے جسم کے ساتھ جی اٹھیں گے؟" 36 ۳۶۔تم کس قدر بیوقوف ہو! جو تم بوتے ہو وہ تب تک پھلتا نہیں جب تک مر نہیں جاتا۔ 37 ۳۷۔ جو تو بوتا ہے وہ جسم نہیں بوتا، بلکہ محض ایک بیچ۔یہ ہو سکتا ہے کہ وہ گندم بن جائے یاکچھ اور۔ 38 ۳۸۔ لیکن خدا اُسے ایسا جسم دے گا جس کووہ خود چنتا ہے ،لہذا ہر بیچ کا اپنا جسم ہے۔ 39 ۳۹۔ سب کا جسم ایک جیسا نہیں ہوتا۔اِس کی بجائے انسا ن کا جسم ایک قسم کاہے ، جانوروں کا جسم ایک دوسری طرح کا ہے اور پرندوں کا جسم فرق ہے اورمچھلیوں کافرق۔ 40 ۴۰۔ آسمانی جسم بھی ہیں اورزمینی جسم بھی ہیں۔ مگر آسمانی جسم کا جلال اورہے زمینی جسم کا جلال اورہے۔ 41 ۴۱۔ اِسی طرح سورج کا جلال اور ہے اور چاند کااور، ستاروں کا اور ۔ کیونکہ ایک ستارے کا دوسرے ستارے کے جلال میں فرق ہے۔ 42 ۴۲۔ پس مردوں کی قیامت بھی ایسی ہے ۔ جو بویا جاتا ہے وہ فانی ہے، اور جو جی اٹھتا ہے وہ غیر فانی۔ ۔ 43 ۴۳۔ بے عزتی کی حالت میں بویا جاتا ہے اور جلال میں زندہ ہوتا ہے، کمزوری میں بویا جاتا ہے اور قوت میں زندہ کیا جاتا ہے۔ 44 ۴۴۔ جسمانی جسم بویا جاتا ہے اور روحانی جسم جی اٹھتا ہے۔اگر جسمانی جسم ہےتو روحانی جسم بھی ہے۔ 45 ۴۵۔ لہذا یہ بھی لکھا ہے ،"پہلا انسان آدم جیتی روح بنا" ۔ آخری آدم زندگی دینے والی روح بنا۔ 46 ۴۶۔ لیکن پہلے روحانی نہیں آیا تھا بلکہ جسمانی اُس کے بعد روحانی ہوا۔ 47 ۴۷۔ پہلا انسان زمین سے ہے ، مٹی سے بنا ہے۔ دوسرا انسان آسمان سے ہے۔ 48 ۴۸ ۔ جیسے وہ ایک مٹی سے بناویسے ہی وہ سب ہیں جو مٹی سے بنے ہیں اور جیسا کہ وہ آسمانی انسان ہے ، اُسی طرح وہ سب بھی ہیں جو آسمانی ہیں۔ 49 ۴۹۔بالکل اُسی طرح کہ اگر ہم اُس زمینی انسان کی صورت پر ہیں تو آسمانی کی صورت پر بھی ہوں گے۔ 50 ۵۰۔ اب اے بھائیو اور بہنو ! میں تم کو بتاتا ہوں کہ خون اور گوشت خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے ۔نہ فانی ، غیر قانی کی وارث ہو سکتی ہے۔ 51 ۵۱ ۔ دیکھو! میں تمہیں بھید کی باتیں بتاتا ہوں : ہم سب مریں گے نہیں ،لیکن ہم سب بدل جائیں گے۔ 52 ۵۲۔ ہم لمحہ بھر میں بدل جائیں گے آنکھ کے جھپکنے میں،آخری نرسنگے کے پھونکے جانے پر ۔ کیونکہ نرسنگا پھونکا جائے گا، اور مردے غیر فانی حالت میں جی اٹھیں گے،اورہم بدل جائیں گے۔ 53 ۵۳۔ کیونکہ یہ لازمی ہے کہ فانی جسم غیر فانی لباس پہنے اور یہ مرنے والا جسم ابدی زند گی کا جامہ پہنے۔ 54 ۵۴۔ مگر جب فانی جسم غیر فانی جسم پہنے گا ، او رمرنے والا جسم ابدی زندگی کا جامہ پہنے گا، توپھر وہ بات پوری ہو گی جو کہ لکھی ہے ،’’فتح موت کو کھا گئی، ‘ 55 ۵۵۔ " موت تیری فتح کہاں گئی؟ موت تیرا ڈنگ کہاں رہا؟" 56 ۵۶۔ موت کا ڈنگ گناہ ہے ۔اور گناہ کی قوت شریعت ہے۔ 57 ۵۷۔لیکن خدا کا شکر ہے جو ہمیں خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ، جو فتح دیتا ہے۔ 58 ۵۸ ۔اِس لئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو ! قائم اورثابت قدم رہو۔ ہمیشہ خداوندکے کام میں بڑھتے جاؤ کیونکہ تم جانتے ہو کہ تمہاری محنت بے کار نہیں۔