1 ۱۔میری مانند بنو جیسا کہ میں مسیح کی مانند ہوں۔ 2 ۲۔ اب میں تمہاری تعریف کرتا ہوں کیونکہ تم ہر بات میں مجھے یاد رکھتے ہو، میں تمہاری تعریف کرتا ہوں کیونکہ جو روایات میں نے تمہیں پہنچائیں تم اُن میں قائم ہو۔ 3 ۳۔ اب میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ہرعورت کا سر مرد، مرد کا سر مسیح اور مسیح کا سر خدا ہے۔ 4 ۴۔ جو کوئی شخص اپنے سر کو ڈھانپ کر دعا یا نبوت کرتا ہے وہ اپنے سر کی بے عزتی کرتا ہے ۔ 5 ۵۔لیکن اگر کوئی عورت اپنے سر کو بغیر ڈھانپے دعا یا نبوت کرتی ہے تواپنے سر کی بے عزتی کرتی ہے کیونکہ وہ سر منڈی کے برابر ہے۔ 6 ۶۔ اگر کوئی عورت اپنے سر کو نہ ڈھانپے تو وہ اپنے بال چھوٹے رکھے۔اگر عورت کا بال کٹوانا یا منڈانا شرم کی بات ہے تو وہ اپنے سر کو ڈھانپے۔ 7 ۷۔آدمی کو اپنا سر ڈھانپنا نہیں چاہیے کیونکہ وہ خدا کی صورت اور اُس کا جلال ہے لیکن عورت آدمی کا جلال ہے۔ 8 ۸ ۔کیونکہ آدمی عورت سے پیدا نہیں ہوا بلکہ عورت آدمی سے پیدا ہوئی ۔ 9 ۹ ۔مرد عورت کے لئے پیدا نہیں ہوا بلکہ عورت مرد کے لئے پیدا ہوئی۔ 10 ۱۰۔ فرشتوں کی وجہ سے عورت اپنے سر پر اختیار کی علامت رکھے۔ 11 ۱۱۔ تو بھی عورت مرد کے بنا ہے اور مرد عورت کے بنا آزاد ہے۔ 12 ۱۲۔ جیسے عورت مرد سے پیدا ہوئی اُسی طرح مرد عورت سے پیدا ہوا اور یہ سب چیزیں خداکی طرف سے ہیں۔ 13 ۱۳۔ تم خود ہی انصاف کرو، کیا یہ مناسب ہے کہ عورت بغیر سر ڈھانپے خدا سے دعا کرے؟ 14 ۱۴۔کیا فطرت خود یہ نہیں سکھاتی کہ اگر مرد لمبے بال رکھے تو یہ اس کے لیےبے عزتی کا باعث ہے؟ 15 ۱۵۔ کیا فطرت خود تمہیں نہیں سکھاتی کہ عورت کا لمبے بال رکھنا عزت کی بات ہے؟ کیونکہ بال اُسے خود کو ڈھانپنے کے لئے دئیے گیے ہیں۔ 16 ۱۶۔ اگر کوئی اِس بات کے حوالہ سے بحث کرے تو نہ یہ ہمارا دستور ہے اور نہ ہی خدا کی کلیسیاؤں کا۔ 17 ۱۷۔ میں اِن ہدایات سے تمہاری تعریف نہیں کرتا کیونکہ جب اکٹھے ہوتے ہو تو اِس سے فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوتا ہے۔ 18 ۱۸۔ پہلے تو میں یہ سنتا ہوں کہ جب تم اکٹھے ہوتے ہو تو تم میں تفرقےہوتے ہیں اور میں اِس بات کا یقین بھی رکھتا ہوں۔ 19 ۱۹۔ کیونکہ تم میں گروہ بندی کا ہونا بھی ضرور ہے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ تم میں سے مقبول کون ہے؟ 20 ۲۰۔ جب تم اکٹھے ہوتے ہو تو عشائےِ ربانی کے لئے نہیں ہوتے۔ 21 ۲۱۔ جب تم کھاتے ہو تو کوئی اپنا کھانا دوسروں سے پہلے کھا لیتا ہے اور کوئی تو بھوکا رہتا ہے اور کسی کو نشہ ہو جاتا ہے۔ 22 ۲۲۔ کیا تمہارے گھرکھانے پینے کے لئے نہیں؟ کیا تم خدا کی کلیسیا کو حقیر جانتے ہو اور جن کے پاس کچھ نہیں اُن کو بھی نا چیز جانتے ہو؟ مجھے تمہیں کیا کہنا چاہیے؟کیا تعریف کرنی چاہیے؟ اِس بات پر میں تمہاری تعریف نہیں کروں گا۔ 23 ۲۳۔ یہ بات مجھے خداودند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچا دی ،جس رات خداوند یسوع پکڑوایا گیاتو اُس نے روٹی لی ۔ 24 ۲۴۔ اِس کے بعد اُس نے شکر کرکے توڑی اور کہا’’ یہ میرا بدن ہے جو تمہارے لئے دیا جاتا ہے’’ میری یاد میں یہی کیا کرو‘‘۔ 25 ۲۵۔اِسی طرح اُس نے کھانے کےبعد پیالہ بھی لیا اور کہا’’ یہ میرے خون میں نیا عہد ہے جب تم اِس میں سے پیو تو مجھے یاد کیا کرنا‘‘۔ 26 ۲۶۔ ہر دفعہ جب کبھی تم اِس روٹی میں سے کھاتے اور اِس پیالے میں سے پیتے ہو خداوند کی موت کا اظہار کرتے ہو۔ 27 ۲۷۔اِس لئے جو بھی غیر مناسب طور سے اِس روٹی میں سے کھائے اور اِس پیالے میں سے پیئے تو وہ خداوند کے بدن اور خون کے باعث قصوروار ہو گا۔ 28 ۲۸۔ پس آدمی پہلے اپنے آپ کو پرکھ لے اور پھر وہ اُس روٹی میں سے کھائے اور پیالے میں سے پئے۔ 29 ۲۹۔ جو کوئی خداوند کے بدن اور خون کو سمجھے بغیر کھائے اور پئے وہ سزا کے لائق ہے۔ 30 ۳۰۔ اِس لئے بہت سے تم میں بیمار اور کمزور ہیں اور اُن میں سے کچھ مر بھی گئے ۔ 31 ۳۱۔ اگر ہم اپنے آپ کو آزمالئیں تو ہم سزانہیں پائیں گے۔ 32 ۳۲۔ خدا ہمیں سزا دیتااور تربیت کرتا ہے تاکہ ہم اِس دنیا کے ساتھ مجرم نہ ٹھہرائے جائیں۔ 33 ۳۳۔ اِس لئے اے میرے بھائیو ! جب تم کھانے کے لئے اکٹھے ہوتے ہو تو ایک دوسرے کا انتظار کرو۔ 34 ۳۴۔ اگر کوئی بھوکا ہوتو وہ گھر سے کھائے تاکہ جب تم اکٹھے ہو تو سزاکے لائق نہ ٹھہرواور دیگر باتیں جو میں نے لکھیں میں آکر تم کو بتادوں گا۔