پہلا کرنتھیوں باب ۱۰

1 ۱۔ اے بھائیو! میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے باپ دادا بادل کے نیچے رہے اور سب کے سب سمندر سے گزرے۔ 2 ۲۔ اور سب نے بادل اور سمندر میں موسیٰ بپتسمہ لیا۔ 3 ۳۔ اور سب نے ایک ہی روحانی خوراک کھائی۔ 4 ۴۔ سب نے ایک ہی روحانی پانی پیا جو روحانی چٹان اُن کے ساتھ ساتھ چلتی تھی اُسی میں سے پیااور وہ چٹان مسیح تھا۔ 5 ۵۔لیکن اُن سب میں سے بہتوں سے خدا خوش نہیں تھا اور اُن کی لاشیں بیابان میں پراگندہ ہو گئیں۔ 6 ۶۔ اب یہ سب باتیں ہمارے لئے نمونہ ہیں ، پس ہم بدی نہ کرتے رہیں جیسے اُنہوں نے کی۔ 7 ۷۔ بت پرست مت بنو جیسا کہ اُن میں سے کچھ تھے کیونکہ ایسا لکھا ہے ۔لوگ کھانے اور پینے بیٹھے اور خوشی کے لئے اٹھے۔ 8 ۸۔ حرام کاری نہ کریں جیسے کہ اُن میں سے کئی ایک نے کی اِس لئےایک ہی دن میں تیئس ہزار لوگ ہلاک ہو ئے۔ 9 ۹۔ ہم مسیح کونہ آزمائیں جیسا کہ اُنہوں نے آزمایا اور سانپوں سے مارے گئے۔ 10 ۱۰۔ بڑ بڑاؤ بھی نہیں جیسا اُن میں سے بعض بُڑبڑائے اور موت کے فرشتے سے ہلاک کیے گئے۔ 11 ۱۱۔ یہ باتیں اُن کے ساتھ اِس لئے پیش آئیں کہ وہ ہمارے لئے نمونہ ہوں، یہ ہماری ہدایات کے لئےلکھاگیا ، ہم جو اخیر زمانہ میں رہتے ہیں۔ 12 ۱۲۔ اِس لئے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ قائم ہے خیال رکھے کہ گر نہ پڑے۔ 13 ۱۳۔ تم کسی ایسی آزمائش میں نہیں پڑے جو انسانی برداشت سے باہر ہو بلکہ خداوفادار ہے وہ تمہیں کبھی بھی تمہاری طاقت(قوت) سے زیادہ آزمائش میں نہیں ڈالتا۔آزمائش کے ساتھ نکلنے کا راستہ بھی پیدا کرتا ہے تاکہ تم برداشت کر سکو۔ 14 ۱۴۔ اِس لئے میرے عزیزو! بت پرستی سے بھاگو۔ 15 ۱۵۔ تمہیں سمجھ دار جان کر کہتا ہوں تاکہ تم خود باتوں کو پر کھ سکوجو میں کہتا ہوں۔ 16 ۱۶۔ وہ برکت کا پیالہ جس پر برکت چاہتے ہو کیا مسیح کے خون کی شراکت نہیں اور وہ روٹی جو ہم توڑتے ہیں کیا مسیح کے بدن کی شراکت نہیں؟ 17 ۱۷۔ کیونکہ روٹی ایک ہے اِس لئے ہم جو بہت سے ہیں ایک بدن ہیں اور ہم سب نے ایک روٹی میں سے کھایا۔ 18 ۱۸۔ اسرائیل کو دیکھو کیا قربانی کا گوشت کھانے والے قربان گا میں شریک نہیں؟ 19 ۱۹۔ میں کیا کہہ رہا ہوں؟ پھر بت کچھ چیز ہے؟ اور بتوں کی قربانی کچھ چیز ہے؟ 20 ۲۰۔ غیر قومیں جو قربانی کرتی ہیں شیاطین کے لئے کرتی ہیں نہ کہ خدا کے لئے، میں یہ چاہتا ہوں کہ تم شیاطین کے ساتھ شریک نہ ہو۔ 21 ۲۱۔ تم خدا کے پیالہ میں سے اور شیاطین کے پیالہ، دونوں میں سے نہیں پی سکتے، تم خدا کے دستر خوان اور شیاطین کے دستر خوان میں دونوں میں شریک نہیں ہو سکتے؟ 22 ۲۲۔ کیا ہم خدا کی غیرت کو جوش دلاتے ہیں ؟ کیا ہم اُس سے زیادہ زور آور ہیں؟ 23 ۲۳۔ سب چیزیں روا تو ہیں مگر سب چیزیں فائدہ مند نہیں، سب چیزیں روا تو ہیں مگر سب چیزیں لوگوں کی ترقی کا باعث نہیں ہیں۔ 24 ۲۴۔ کوئی اپنی بھلائی نہ چاہے بلکہ اپنے پڑوسی کی بھلائی چاہے۔ 25 ۲۵۔ جو کچھ دکانوں میں بکتا ہے وہ بغیر کسی اچھے یا برے کے خیال سے کھاؤ۔ 26 ۲۶۔ یہ زمین خداوند کی ہے اور اس کی معموری بھی ۔ 27 ۲۷۔ اگر کوئی غیر ایمان دار تمہیں دعوت دے اور تمہاری بھی جانے کی خواہش ہو تو جو کچھ تمہارے سامنے رکھا جائے بغیر کسی سوال کے کھاؤ۔ 28 ۲۸۔ لیکن اگرکوئی تمہیں کہے کہ یہ قربانی کا گوشت ہے تو اس کے جتانے اور دوسرے بھائی کے دینی امتیاز کی وجہ سے مت کھانا کیونکہ اُس نے تمہیں بتا دیا۔ 29 ۲۹۔ اِس سے مراد میرا امتیاز نہیں بلکہ دوسرے کا ہے۔میری آزادی کو دوسرے کے امتیاز سے کیوں پرکھا جائے؟ 30 ۳۰۔ اگر میں شکر کرکرے اُس کھانے میں شریک ہوتا ہوں تو کیوں بے عزت کیا جاتا ہوں؟ 31 ۳۱۔ اِس لئے چاہے تم کھاؤ یا پیو یا جو بھی کرو،سب خدا کے جلال کے لئے کرو۔ 32 ۳۲ تم نہ یہودیوں کے لئے ٹھوکر کا باعث بنو نہ یونانیوں کے لئے اور نہ خدا کی کلیسیا کے لئے۔ 33 ۳۳۔ جس طرح میں سب باتوں میں کو خوش کرنےکی کوشش کرتا ہوں تم بھی کرو۔ میں اپنا فائدہ نہیں ڈھونڈتابلکہ بہتوں کا، میں یہ اِس لئے کرتا ہوں کہ وہ سب بچ جائیں۔