باب

1 ۔ یومِ خداوند یہوداہ کے لئے اُس سرکش اَور ناپاک اَور ظالِم شہر پر افسوس! 2 ۔ اُس نے کلام کو نہ سُنا ۔ اَور تربیت قبُول نہ کی۔اَور خُداوند پر توکُّل نہ کِیا اَور اپنے خُداوند کے نزدِیک نہ آیا۔ 3 ۔ اُس کے سردار اُس میں گرجنے والے شیر ہَیں۔اُس کے قاضِی شام کو نِکلنے والے بھیڑئیے ہَیں جو صُبح تک کُچھ نہیں چھوڑتے۔ 4 ۔ اُس کے نبی جُھوٹے اَور دغا باز ہَیں۔اُس کے کاہن مَقدِس کو ناپاک کرتے اَور شریعت کو مَروڑ تے ہَیں۔ 5 ۔ اُس کے درمیان خُداوند ہی صادِق ہَے۔ وہ بَدی نہیں کرتا۔وہ ہر صُبح اپنا حُکم ظاہر کرتا ہَے اَور کبھی دیر نہیں کرتا اُس میں کوئی بَدی نہیں ہَے۔ 6 ۔میں نے قوموں کو کاٹ ڈالا۔اُن کے بُرج برباد کئے گئے ہَیں۔مَیں نے اُن کے کُوچوں کو وِیران کر دِیا ہَے۔یہاں تک کہ وہاں سے کوئی نہیں گُزرتا۔ اُن کے شہر اُجاڑ ہو گئے ہَیں اَور اُن میں نہ تو کوئی اِنسان ہَےاَور نہ باشِندہ۔ 7 ۔ مَیں نے کہا کہ شاید تُو مُجھ سے ڈرے گا اَور تربیت قبُول کرے گا تو اُس سب کے مُطابِق جو مَیں نے اُس کے حَق میں ٹھہرایا تھا اُس کی آبادی کاٹی نہ جائےگی لیکن اُنہوں نے جلد بازی کر کے اپنی راہوں کو بگاڑدِیا۔ 8 ۔ پس میرے مُنتطِر رہو( خُداوند کا فرمان ہَے) اُس دِن تک کہ مَیں شہادت کے لئے اُٹھوں کیونکہ میرا حُکم یہ ہَے کہ مَیں قوموں کو جمع کرُوں اور مَملکُتوں کو فراہم کرُوں تاکہ اپنے قہر و غضب کی پُوری شِدت اُن پر نازِل کرُوں کیونکہ میری غیرت کی آگ ساری زمین کو کھا جائے گی۔ 9 ۔یقیناً مَیں اُس روز اُمّتوں کے ہونٹ پاک کر دُوں گا تاکہ وہ سب کے سب خُداوند کا نام لیں۔اَور ایک ہی دِل ہو کر اُس کی عِبادَت کریں۔ 10 ۔کُوشؔ اَور فُوؔط کے دریاؤں کے پار سے میرے لئے نَذَریں لائی جائیں گی۔ 11 ۔ اُسی روز تُجھے کسِی بھی ایسے کام کے باعِث جس سے تُو میرا گُنہگار ہُؤا ہَے پھر شرمندہ ہونا نہ پڑے گا کیونکہ مَیں اُس وقت تیرے درمیان سے تیرے غرُور کرنے والوں کو نِکال دُوں گا اَور تُو پھر میرے کوہِ مُقدّس پر تکبُّر نہ کرے گا۔ 12 ۔مَیں تیرے درمیان فقط غریب و حلیم اُمّت باقی رہنے دُوں گا۔ 13 ۔ اَور اِسرؔائیل کا بَقیّہ خُداوند کے نام پر توکُّل کرے گا۔وہ بعد اَزاں نہ بدی کریں گے نہ جُھوٹ بولیں گے اَور نہ اُن کے مُنہ میں دغا کی زُبان پائی جائے گی بلکہ وہ کھائیں گے اَور لیٹ رہیں گے اَور کوئی نہ ہو گا جو اُنہیں ڈرائے۔ 14 ۔ نغمہِ تسکین اَے بیٹی صیُوؔن! نغمہ سرائی کر۔ اَے اِسرؔائیل! تُو للکار۔ اَے بیٹیِ یرُوشلیِؔم! اپنے سارے دِل سے خُوشی منا اَور شادمانی کر۔ 15 ۔ خُداوند نے تُجھ پر کی سزا منسُوخ کر دِی ہَے۔ اُس نے تیرے دُشمن کو نِکال دِیا ہَے خُداوند شاہِ اِسرؔائیل تیرے درمیان ہَے۔ تُو پِھر مُصِیبت کو نہ دیکھے گی۔ 16 ۔اُس روز یرُوشلیِؔم سے کہا جائے گا کہ اَے صیوؔن! خوفزدہ نہ ہو تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں 17 ۔ خُداوند تیرا خُدا تیرے درمیان ہَے اَور قادِر ہَے کہ نجات دے وہ تیرے باعِث خُوش ہو کر للکارے گا وہ چُپکے چُپکے مُحبت رکھّے گا وہ گویا عید کے دِن تیری خاطِر شادمان ہو کر رقص کرے گا۔ 18 ۔ جو تُجھے ضَرب لگاتے تھے مَیں اُنہیں تُجھ سے دُور کر دُوں گا۔ وہ تُجھ پر بوجھ اَور باعِث ِملامت رہے تھے۔ 19 ۔ دیکھ جو تُجھ پر ظُلم کرتے تھے ۔ اُس روز میں اُن سب کو فنا کردوں گا۔ مَیں اُنہیں جو لنگڑاتی تھیں بچاؤں گا۔ مَیں اُنہیں جو ہانکی گئی تھیں فراہم کرُوں گا۔ اَور جہاں کہیں وہ جہان میں رُسوا ہُوئی تھیں۔ مَیں اُنہیں مُعزّز اَور نامور کرُوں گا۔ 20 ۔اُس وقت میں تمہاری ہدایت کروں گا اُس وقت میں تمہیں فراہم کروں گا کیونکہ جب مَیں تُمہارے دیکھتے ہی دیکھتے تُمہاری قِسمت بدل ڈالُوں گا تو تُمہیں اقوامِ جہان کے درمیان نامور اَور مُعزّز کرُوں گا۔ (خُداوند فرماتا ہَے)