1 ۔یومِ خداوند اقوام کے لئے اَے بے حَیا قوم۔جمع ہو۔جمع ہو۔ 2 ۔ اِس سے پہلے کہ تُم اُڑتے بُھس کی مانند ہو جاؤ۔ اِس سے پہلے کہ خُداوند کا قہرِشدِید تُم پر نازِل ہو۔]اِس سے پہلے کہ خُداوند کے غضب کا دِن تم پر آپُہنچے[۔ 3 ۔اَے زمین کے تمام حلیِمو ۔خُداوند کے طالِب ہو۔ تُم جو اُس کے احکام پر چلتے ہوراستبازی کو ڈُھونڈو ۔ اَور فروتنی کی تلاش کرو ۔ شاید خُداوند کے غضب کے دِن تُمہیں پناہ مِلے۔ 4 ۔ہاں غؔزہ مترُوک ہو گا۔اَور اسقلوؔن ویران ہو گا اَور اشدُؔود دوپہر ہی کو نِکال دِیا جائے گا اَور عِقروؔن جڑسے اُکھاڑا جائے گا۔ 5 ۔ تُم پر افسوس۔ اَے ساحِل کے باشِندو۔ اَے کریتیوں کی قوم۔ خُداوند کا کلام تُمہارے خلاف ہَے۔اَے کنعاؔن۔اَے فِلستیوں کی سَر زمین مَیں تُجھے تباہ کر دُوں گا۔ یہاں تک کہ کوئی بسنے والا نہ رہے۔ 6 ۔اَور سمُندر کا ساحِل چراگاہ ہی ہو گا جس میں چرواہوں کی جھونپڑیاں اَور بھیڑوں کے اِحاطے ہوں گے۔ 7 ۔ وہی ساحِل یہُوؔداہ کے گھرانے کے بَقیّے کے لئے ہو گا۔وہ وہاں ہی چَرایا کریں گے اَور شام کے وقت اِسقؔلون کے گھروں میں آرام کیا کریں گے کیونکہ خُداوند اُن کا خُدا سزا دینے کے بعد اُن کی قِسمت بدلے گا۔ 8 ۔میں نے موآبؔ کی ملامت اَور بنی عمّوؔن کی کُفر گوئی سُنی ہَے۔اُنہوں نے میری اُمّت کو ملامت کی ہَے اَور اُن کی حُدُود کو دبا لِیا ہے۔ 9 ۔ اِس لئے میری زندگی کی قَسم( ربُّ الافواج اِسرؔائیل کے خُدا کا فرمان ہَے) یقیناً موآبؔ سدُوؔم کی مانند ہو گا اَور بنی عمّوؔن عمُورؔہ کی طرح۔ وہ پُر خار اَور نمک کی کان اَور ہمیشہ کے لئے وِیران ہو جائیں گے میری اُمّت کے باقی ماندہ اُنہیں لُوٹیں گے۔ میری قوم کا بَقیّہ اُس کا مالک ہو گا۔ 10 ۔یہ سب اُن کے تکبُّر کا نتیجہ ہو گا اِس لئے کہ اُنہوں نے ربُّ الافواج کی اُمّت کو ملامت کی ہَے اَور اُن سے تکبُّر سے پیش آئے ہَیں۔ 11 ۔ خُداوند اُن کے لئے ہَیبتناک ہو گا اَور زمین کے تمام مَعبُودوں کو سُست کر دے گا اَور قوموں کے جزائر کے تمام باشِندے اپنی اپنی جگہ میں اُسے سجدَہ کریں گے۔ 12 ۔ اَور تُم بھی اَے شمال کی طرف رہنے والے! میری تلوار سے قتل کئے جاؤ گے۔ 13 ۔ اَور وہ اپنا ہاتھ شِمال کی طرف بڑھائے گا اَور اسور کو تباہ کر دے گا۔اَور نیِؔنوہ کو وِیران اَور بیابان کی مانند خُشک کردے گا۔ 14 ۔ اُس میں گلّے اَور ہر قسم کے جانور لیٹیں گے۔ہاں حواصل اَور خار پُشت اُس کے ستُونوں کے سروں پر رہا کریں گے۔اُلوکھڑکی میں اَور کوّا دہلیز پر اپنی آواز دے گا۔ کیونکہ دیودار کا چھلکااُتارا گیا ہَے۔ 15 ۔ یہ وہ شادمان شہر ہَے جو بے فِکر تھا۔ جو اپنے دِل میں کہا کرتا تھا کہ مَیں ہُوں اَور میرے سِوا کوئی نہیں۔ وہ کیسا وِیران ہو گیا ہَے حیوانوں کے بیٹھنے کی جگہ! جو کوئی اُس کے پاس سے گُزرے گا وہ سُسکارے گا اَور ہاتھ ہلائے گا۔