باب

1 ۔خُداوند کا وہ کلام جو شاہ یہُودؔہ یُوسیاؔہ بِن آموؔن کے ایّام میں صِفَنیاہ بن کُوشی بِن جدلؔیاہ بِن اَمَریاہ بِن حزؔقیاہ نے پایا۔ 2 ۔ یومِ خداوند قریب ہے مَیں رُوئے زمین سے سب کُچھ بالکُل نیست کر دُوں گا (خُداوند کا فرمان یونہی ہَے )۔ 3 ۔مَیں اِنسان وحیوان کو نیست کرُوں گا۔مَیں ہَوا کے پرندوں اَور سمُندر کی مچھلیوں کو نیست کرُوں گا۔مَیں بے دِینوں کو نیست کرُوں گا اَور رُوئے زمین سے اِنسان کو فنا کرُوں۔( خُداوند کا فرمان یُونہی ہَے)۔ 4 ۔مَیں یہُودؔاہ پر اَور یرُوشلیِؔم کے تما م باشِندوں پر ہاتھ چلاؤں گا اَور اُس جگہ سے بَعلؔ کے بَقیہّ کو ہاں اُس کے پُجاریوں کے نام کو بھی نیست کرُوں گا۔ 5 ۔بلکہ اُنہیں بھی جو گھروں کی چھتّوں پر سُورج چاند ستاروں کو سجدّہ کرتے ہَیں۔اَور اُنہیں بھی جو خُداوند کو سجدّہ کرتے ہَیں۔لیکن مِلکومؔ کی قسم کھاتے ہَیں۔ 6 ۔ اَور اُنہیں بھی جو خُداوند سے برگشتہ ہو کر خُداوند کو نہ ڈھونڈتے اَور نہ پُوچھتے ہَیں۔ 7 ۔ مالِک خُداوند کے حضُور خاموش رہو! کیونکہ خُداوند کا دِن قریب ہَے۔ خُداوند نے ذَبیحے کو تیّار اَور اپنے مہمانوں کو مخصُوص کِیا ہَے۔ 8 ۔اَور خُداوند کے ذَبیحے کے دِن مَیں اُمراء اَور شاہی خاندان کو اَور اُن سب کو جو اجنبی لباس پہنتے ہَیں سزا دُوں گا۔ 9 ۔مَیں اُس روز اُن سب کو سزا دُوں گا۔جو دہلیز پر پاؤں نہیں رکھتے اَور اپنے آقا کے گھر کو ظُلم اَور فریب سے بھرتے ہَیں۔ 10 ۔ اَور اُسی روز (خُداوند کا فرمان ہَے) مچھلی پھاٹک سے چِلاّنے کی اَور دُوسرے حِصّے سے نوحہ کی اَور پہاڑیوں پر سے بڑے غوغا کی صدا اُٹھے گی۔ 11 ۔ اَے مکتِؔیس کے رہنے والوں۔ نوحہ کرو کیونکہ تمام اہلِ تجارت کاٹ ڈالے گئے ہَیں اَور جو چاندی سے لدے تھے وہ سب ہلاک ہو گئے ہَیں۔ 12 ۔ اَور اُسی وقت مَیں چراغ لے کر یرُوشلیِؔم میں تلاش کرُوں گا اَور جتنے مَیل کی طرح جم گئے ہَیں اَور دِل میں کہتے ہَیں کہ خُداوند نیکی کرے گا نہ بَدی۔اُنہیں سزا دُوں گا۔ 13 ۔ تب اُن کی دولت لُٹ جائے گی۔اُن کے گھر وِیران ہوں گے۔وہ گھر بنائیں گے لیکن اُن میں بسیں گے نہیں اَور تاکِستان لگائیں گے لیکن اُن کی مَے نہ پِیئیں گے۔ 14 ۔ خُداوند کا روزِ عظیم قریب ہَے ۔ وہ قریب ہے اَور تیزی سے آتا ہَے۔سُنو یومِ خُداوند کا شور! ہاں بَہادُر بھی پھوٹ پھوٹ کرروئے گا۔ 15 ۔ وہ دِن قہر کا دِن ہَے۔رنج اَور مُصِیبت کا دِن۔ تباہی اَور بربادی کا دِن۔تاریکی اَور ظلمت کا دِن۔ اَبر اَور تیرگی کا دِن۔ 16 ۔فصِیل دار شہروں اَور بُلند بُرجوں کے خِلاف نرسِنگے اَور للکار کا دِن۔ 17 ۔ میں بنی آدم پر مُصِیبت ڈالُوں گا تو وہ اندھوں کی مانند چلیں گے]کیونکہ وہ خُداوند کے گُنہگار ہو گئے ہَیں[اُن کا خُون خاک کی طرح اَور اُن کا گوشت نجاست کی مانند گرایا جائے گا۔ 18 ۔ اُن کی چاندی یا سونا اُنہیں بچا نہ سکے گا۔خُداوند کے قہر کے دِن اُس کی غیرت کی آگ تمام زمین کو کھا جائے گی کیونکہ وہ زمین کے تمام باشِندوں کو بالکُل تمام کر ڈالے گا۔