باب

1 ۔ سرزمین ِ نوبارِ نُبوّت۔خُداوند کا کلام حدراکؔ کی سَرزمین پر ہَے۔ اَور دَمشِقؔ اُس کی رہائش گاہ ہَے کیونکہ اَراؔم کے شہر اَور اِسرؔائیل کے تمام قبائل خُداوند کے ہَیں۔ 2 ۔اَور حماؔت بھی جو اُس کی سَرحد پر ہَے۔ اَور صُؔور اَور صیدُابھی خواہ کِتنے ہی دانش مند کیوں نہ ہوں۔ 3 ۔صُوؔر نے اپنے لئے ایک مضبوُط قلعہ بنایا اَور مِٹّی کی طرح چاندی کے ڈھیر اَور کوُچوں کے کیِچڑ کی طرح سونے کے ڈھیر لگائے۔ 4 ۔دیکھ۔ خُداوند اُس کا مالِک ہو گا۔ اَور سُمندر میں اُس کی طاقت کو دے مارے گا اَور آگ اُسے کھا جائے گی۔ 5 ۔یہ دیکھ کر اسقلون ڈر جائے گا اَور غؔزہ بھی سخت خوف سے کانپے گا اَور یُو نہی عقرؔون بھی کیوں کہ اُن کی اُمّید ٹوٹ گئی۔ اَور غؔزہ سے بادشاہ جاتا رہے گا اَور اسقلون ویران ہو جائے گا۔ 6 ۔اَور اشدوؔد میں والد الحرام سکُونت کرے گا۔ پس مَیں فلستیوں کا غرُور مِٹا ڈالوُں گا۔ 7 ۔اَور مَیں اُس کا خُون اُس کے مُنہ سے اَور اُس کی مکرُوہات اُس کے دانتوں کے درمیان سے نِکال ڈالوُں گا۔ یُوں وہ بھی ہمارے خُدا کے لئے بَقیہّ ہو گا۔ وہ یہوُدؔاہ میں فقط سردار ہی ہو گا۔ اَور عِقرؔون کا حال یبوسیوں کی طرح ہوگا۔ 8 ۔اَور مَیں اپنے گھر کے گِرد خَیمہ زَن ہُوں گا تاکہ آنے جانے والوں سے حِفاظت ہو۔ پھِر کوئی ظالمِ اُن کے درمیان سے نہ گُزرے گا۔ کیونکہ اَب مَیں دیکھ رہا ہُوں۔ 9 ۔ سلامتی کا بادشاہ اَے بیٹی صیون! تُو نہایت شادمان ہو۔ اَے بیٹی یرُو شلیِؔم !خُوشی سے للکار۔ دیکھ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہَے۔ وہ صادِق اَور مُخلّص ہَے۔ وہ حلیم ہَے اَور گدھے پر بلکہ گدھی کے بچّے پر سَوار ہَے۔ 10 ۔وہ اِفرؔائیم سے رتھ اَور یرُو شلیِؔم سے گھوڑے ختم کر دے گا اَور کمانِ جنگ توڑ دی جائے گی اَور وہ قوموں کو سلامتی کی خبر دے گا۔ اَور سُمندر سے سُمندر تک اَور اُس کی سَلطنَت اِنتہائے زمین تک ہوگی۔ 11 ۔ نجات یہوداہ اَور تیری بابت یُوں ہَے کہ تیرے عہد کے خُون کے سبب سے مَیں تیرے اسیروں کو اندھے کنویں سے نِکال لایا۔ 12 ۔اَے بیٹی صیوؔن اُمّیدوار اسیر تیرے پاس واپس آئیں گے مَیں آج ہی بتا دیتا ہُوں کہ مَیں تُجھے دو گُنا اَجر دُوں گا۔ 13 ۔کیونکہ اَے یہُودؔاہ!مَیں نے اپنی کمان کو جُھکایا ہَے۔ اَے اِفرؔائیم مَیں نے تیرلگایا ہَے اَور اَے صیُوؔن مَیں تیرے فرزندوں کو اُبھارُوں گا اَور تُجھے بَہادُر کی تلوار کی مانند کر دُوں گا۔ 14 ۔اَور خُداوند اُن کے اُوپر دِکھائی دے گا اَور اُس کے تیِر بجلی کی مانند نِکلیں گے۔ خُداوند نرسِنگا پھُونکے گا اَور جنوبی گرد باد کے ساتھ چلا کرے گا۔ 15 ۔ربُّ الافواج اُن کی حِفاظت کرے گا۔ وہ نکلیِں گے۔ وہ غلیل کے پتّھروں کو پامال کریں گے۔ وہ پئیں گے اَور مَے خواروں کی مانند شور مچائیں گے۔ وہ تپاوّن کے پِیالے یا مذَبح کے سِینگوں کی مانند مخمُور ہوں گے۔ 16 ۔اَور اُس روز خُداوند اُن کا خُدا اُنہیں بچا لے گا اَور گلّے کی مانند اُن کی نگِہبانی کرے گا کیونکہ پردیسی اُس کے مُلک میں سرفراز ہوں گے۔ 17 ۔وہ کیا ہی خُوشحال اَور کیا ہی جمیل ہوں گے۔ نَوجوان غلّے سے بڑھیں گے اَور کُنواریاں نئی مَے سے نشو ونَما پائیں گی۔