1 ۔ گناہ کے سبب سے روزہ داؔرا بادشاہ کے چوتھے برس کے نَویں مہینے یعنی کِسلیؔو مہینے کی چوتھی تارِیخ کو زِکرؔیاہ نے خُداوند کا کلام پایا۔ 2 ۔بیت ایل کے شراضر اور رَجم مِلک کو اُس کے آدمیوں کو بھیجا گیا۔ تاکہ خُداوند سے درخواست کرے۔ 3 ۔اَور ربُّ الافواج کے گھر کے کاہِنوں اَور انبیاِء سے عرض کر کے کہے کہ کیا مَیں پانچویں مہینے میں گوشہ نشین ہو کر ماتم کروں جس طرح مَیں نے سالہا سال سے کِیا ہَے؟ 4 ۔تب مَیں نے ربُّ الافواج کا کلام پایا۔ اُس نے کہا۔ 5 ۔اِس مُلک کے سب لوگوں اَور کاہِنوں سے کلام کر کے کہہ دے کہ جب تُم نے پانچویں اَور ساتویں مہینے میں اِن ستّر برس تک روزہ رکھّا اَور ماتم کِیا توکیا نے حقیقت میں میرے لئے ہی روزہ رکھّا تھا؟ 6 ۔ اَور جب تُم کھاتے پِیتے تھے تو کیا اپنے ہی لئے نہ کھاتے پیتے تھے؟ 7 ۔کیا یہ وُہی کلام نہیں جو خُداوند نے پچھلے انبیاء کے ذریعے فرمایا جب یرُوشلیِؔم اپنے گردونواح سمیت آباد اَور اِطمینان سے تھا۔ اَورجنوب اور میدان میں لوگ بستے تھے؟ 8 ۔اَور زِکرؔیاہ نے خُداوند کا کلام پایا۔ اُس نے کہا۔ 9 ۔ربُّ الافواج نے کلام کر کے یُوں فرمایاتھا۔ عدل سے اِنصاف کرو اَور ایک دُوسرے پر کرم و رحم کرو۔ 10 ۔اَور بیوہ اَور یِتیم اَور پردیسی اَور مُحتاج پر ظُلم نہ کرو۔ ایک دُوسرے کے خلاف دِل میں بُرا منصُوبہ نہ باندھو۔ 11 ۔مگر اُنہوں نے نہ سُنا ۔ بلکہ اُنہوں نے سرکشی کی اَور اپنے کانوں کو بند کر لِیا تاکہ نہ سُنیں۔ 12 ۔ اَور اُنہوں نے اپنے دِلوں کو الماس کی مانند سخت کر لِیا تاکہ شریعت اَور اُس کلام کو نہ سُنیں جو ربُّ الافواج نے اپنی رُوح کے وسیلے سے پچھلے انبیاء کے ذریعے نازِل کیا ۔ 13 ۔تو جس طرح مَیں نے پُکارا اَور انہوں نے نہ سنا۔ اُسی طرح اُنہوں نے پُکارا تو مَیں نے اُن کی آواز نہ سُنی(ربُّ الافواج فرماتا ہَے)۔ 14 ۔بلکہ مَیں نے گَرد باد کی مانند اُنہیں اُن تمام قوموں میں جِن سے وہ ناواقف تھے۔ پراگندہ کر دیا اَور اُن کے بعد مُلک ویران ہو گیا یہاں تک کہ وہاں کِسی کا آنا جانا نہ رہا کیونکہ دِل پسند سَر زمین ویران کر دی گئی۔