باب

1 ۔پیمائش کی رویا مَیں نے پھر آنکھ اُٹھا کر نظر کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک آدمی ہَے جو پیمائش کی ڈوری ہاتھ میں لئے ہَے۔ 2 ۔مَیں نے پوچھا کہ تُوکہا ں جاتا ہَے؟اُس نے مُجھے جَواب دِیا کہ یرُو شلیِؔم کی پیمائش کو، تاکہ دیکھُوں کہ اُس کی چوڑائی اور لمبائی کِتنی ہَے۔ 3 ۔اَور دیکھ جو فِرشتہ مُجھ سے بات کرتا تھا۔ آگے بڑھا۔ اَور ایک اَور فرِشتہ اُس سے ملِنے کو آگے بڑھا۔ 4 ۔اُس سے کہا کہ دوڑ اَور اِس نوجوان سے کلام کر کے کہہ دے کہ یرُو شلیِؔم اپنے اندر کے اِنسانوں اَور حیوانوں کی کثرت کے باعِث بغیر چار دیواری کی بستیوں کی مانند آباد ہو گا۔ 5 ۔کیونکہ مَیں( خُداوند کا فرمان ہَے) اُس کے لئے چاروں اطراف آتشی دِیوار اُور اُس کے اندر اُس کی شوکت ہُوں گا۔ 6 ۔اوہ! اوہ! شِمالی سَر زمین سے بھاگ آؤ۔ (خُداوند کا فرمان ہَے) کیونکہ آسمان کی چاروں اطراف سے مَیں نے تُمہیں فراہم کِیا ہَے۔ 7 ۔(خُداوند کا فرمان ہَے) اوہ! صیوؔن۔ نِکل بھاگ۔ 8 کیونکہ ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہَے (یعنی اپنے جلال کی خاطر مُجھے اُن قوموں کے پاس بھیجا ہَے ۔ جِنہوں نے تُمہیں ہلاک کر دیا) چوُنکہ جو کوئی تُمہیں چُھوتا ہَے۔ 9 ۔وہ میری آنکھ کی پُتلی کو چھُوتا ہَے۔ اِس لئے دیکھ مَیں اُن پرہاتھ ہلاتا ہُوں۔ تاکہ وہ اپنے غُلاموں کے لے لُوٹ کا مال ہو جائیں۔ اَور تُم جان لو کہ ربُّ الافواج نے مُجھے بھیجا ہَے۔ 10 ۔ اَے بیٹی صیُوؔن۔ تُو گا اَور شادمان ہو۔ کیونکہ دیکھ ۔ مَیں اِس لئے آتا ہُوں۔ کہ تیرے اندر سکوُنت کرُوں۔ (خُداوند کا فرمان ہَے)۔ 11 ۔اَور اُسی روز بُہت سی قومیں خُداوند سے میل کریں گی اَور وہ اُس کی اُمّت ہوں گی اَور وہ تُجھ میں بسیں گی۔ اَور تُو جان لے گی۔ کہ ربُّ الافواج نے مُجھے تیرے پاس بھیجا ہَے۔ 12 یہوداہ کو اپنی مِیرَاث کا حِصّہ ٹھہرائے گا اَور یرُو شلیِؔم کو دوبارہ قبُول فرمائے گا۔ 13 ۔اَے تمام بنی آدم خُداوند کے حضُور خاموش رہو۔ کیونکہ وہ اپنے مُقدّس مَسکِن سے اُٹھا ہے۔