باب

1 ۔داؔرا کے دُوسرے برس کے آٹھویں مہینے میں زِکرؔیاہ نبی بِن برکؔیاہ بِن عِدُّؔد نے خُداوندکا کلام پایا۔ اُس نے کہا کہ۔ 2 ۔خُداوند تُمہارے باپ دادا سے سخت ناراض رہا۔ 3 ۔اِس لئے تُو اُن سے کہہ دے کہ ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہَے۔ میری طرف متوّجہ ہوں تو مَیں تُمہاری طرف رجُوع لاؤُں گا۔ (ربُّ الافواج فرماتا ہَے)۔ 4 ۔اپنے باپ دادا کی مانند نہ بنو جن سے پہلے نبی بُلند آواز سے کہا کرتے تھے ۔کہ ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہَے کہ تُم اپنی بُری راہ اَور بَد اعمال سے باز آ جاؤ۔ پر انہوں نے نہ سُنا اَور میری طرف توُّجہ نہ کی۔ (خُداوند کا فرمان یُونہی ہَے)۔ 5 ۔تُمہارے باپ دادا کہاں ہیں؟کیا انبیاِء ہمیشہ زِندہ رہتے ہَیں؟ 6 ۔ لیکن میرے وہ اقوال اَور قَوانیِن جو مَیں نے اپنے انبیاء کو فرمائے تھے۔ کیا وہ تُمہارے باب دادا تک نہ پُہنچے؟ چُنانچہ اُنہوں نے رجُوع لا کر کہا کہ ربُّ الافواج نے جیسا ارادہ کیا ویسے ہی ہماری راہ اَور ہمارے اعمال کے مُطابِق ہم سے سلُوک کِیا ہَے۔ 7 ۔ چار سواروں کی رویا داؔرا کے دُوسرے برس کے گیارھویں مہینے یعنی سَباط کے مہینے کی چوبیسویں تارِیخ کو زِکرؔیاہ نبی بِن برکؔیاہ بِن عِدُّؔد نے خُداوند کا کلام پایا ۔ 8 ۔ میں نے رات کو رُؤیا میں دیکھا کہ ایک شخص سُرخ گھوڑے پر سَوار مہندی کے درختوں کے درمیان نچلی طرف کھڑا ہَے۔ اَور اُس کے پیچھے سُرخ اَور سیاہ اَور سیاہ و سفید گھوڑے ہَیں۔ 9 ۔تو مَیں نے کہا کہ اَے میرے آقا۔ یہ کیا ہَیں؟ اَور اُس فرشتے نے جو مُجھ سے بات کرتا تھا۔ کہا کہ مَیں تُجھے دِکھاؤں گا کہ یہ کیا ہَیں۔ 10 ۔تب اُس آدمی نے جو مہندی کے درختوں کے درمیان کھڑا تھا۔ کلام کر کے کہا۔ کہ یہ وہ ہَیں جِنہیں خُداوند نے بھیجا ہَے کہ دُنیا میں سیر کریں۔ 11 ۔اِس پر اُنہوں نے خُداوند کے فرِشتے سے جو مہندی کے درختوں کے درمیان کھڑا تھا کہا ہم نے دُنیا کی سیر کی ہَے۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ ساری دُنیا اَمن و اَمان سے ہے۔ 12 ۔تب خُداوند کے فرِشتے نے کلام کر کے کہا کہ اَے ربُّ الافواج تُویرُوشلیِمؔ اَور یہُوؔداہ کے شہرو ں پر جِن سے تُو ستّر برس سے ناراض ہَے۔ کب تک رحم نہ کرے گا؟ 13 ۔اِس پر خُداوند نے اُس فرِشتے کو جو مُجھ سے بات کرتا تھا۔ ملائم اَور تسلّی بخش کلام سے جَواب دِیا۔ 14 ۔اَور اُس فِرشتے نے جو مُجھ سے بات کرتا تھا۔ مُجھ سے کہا کہ تُو اِعلان کر اَور کہہ دے کہ ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہَے کہ مُجھے یرُو شلیِمؔ اَور صیون کے لئے بڑی غیرت ہَے۔ 15 ۔لیکن مَیں اُن قوموں سے جو صرف آرام کرتی ہیں نہایت ناراض ہُوں کیونکہ مَیں تو فَقط تھوڑا سا ناراض تھا لیکن اُنہوں نے حد سے زیادہ بَدی کی۔ 16 ۔اِس لئے خُداوند یُوں فرماتا ہَے کہ مَیں رحمت کے ساتھ یرُوشلِیؔم کو پھر آیا ہُوں۔ اُس میں میرا گھر دوبارہ تعمیر کِیا جائے گا۔ (ربُّ الافواج کا فرمان ہَے) اَور پیمائش کی ڈوری یرُو شلیِؔم پر کھینچی جائے گی۔ 17 ۔ اَور یہ اِعلان کر کے کہہ دے کہ ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہَے۔ میرے شہر دوبارہ اچھّی چیزوں سے معمُور ہوں گے۔ خُداوند ایک بار پھر صیون کو تسلّی بخشے گا۔ ایک بار پھر یرُو شلیِؔم کو قبُول فرمائے گا۔ 18 ۔ چار سینگوں کی رویا اَور مَیں نے آنکھ اُٹھا کر نِگاہ کی تو کیادیکھتا ہُوں۔ کہ چار سِینگ ہَیں۔ 19 ۔ اَور مَیں نے اُس فرشتے سے جو مُجھ سےبات کرتا تھا پوچھا کہ یہ کِیا ہَیں؟ تو اُس نے مُجھے جواب دیا کہ یہ وہ سِینگ ہَیں جِنہوں نے یہُودؔاہ اَور اِسرؔائیل اَور یرُو شلیِؔم کو پراگندہ کِیا ہَے۔ 20 ۔پھِر خُداوند نے مُجھے چار کاریگر دِکھائے۔ 21 ۔اَور مَیں نے پوچھا کہ یہ کیا کرنے آئے ہَیں؟ تو اُس نے کلام کر کے کہا کہ یہ وہ سِینگ ہَیں جِنہوں نے یہُودؔاہ کو یہاں تک پراگندہ کر دِیا کہ کوئی سر نہ اُٹھا سکا۔ اَب یہ آئے ہَیں کہ اُنہیں ڈرائیں اَور اُن قوموں کے سِینگوں کو پست کر دیں جِنہوں نہ یہُودؔاہ کی سَر زمین کو پراگندہ کرنے کے لئے سِینگ اُٹھایا ہَے۔