باب

1 ۔ جس وقت تُو حُکمران کے ساتھ کھانے کو بیٹھے تو خُوب غور کر کہ تیرے سامنے کون ہَے ۔ 2 ۔ اگر تُو کھاؤ ہَے تو اپنے گلے پر چھُری رکھّ ۔ 3 ۔ اُس کے لذیذ کھانوں کی خواہش نہ کر کیونکہ وہ فریب دینے والی خُوراک ہَیں۔ِ 4 ۔ دولتمند ہونے کے لئے دُکھ نہ اُٹھا ۔اپنی اس دانِشمندی سے باز آ۔ 5 ۔ جُونہی تُو اُس چیز پر نگاہ کرے گا۔وہ جاتی رہے گی کیونکہ وہ اپنے لئے اُس عقاب کی مانند پَر بنالیتی ہَے جو آسمان کی طرف اُڑ جاتا ہَے ۔ 6 ۔ تُو کُنجوس آدمی کی روٹی نہ کھا۔اَور اُس کے لذیذ کھانوں کی خواہش نہ کر ۔ 7 ۔ کیونکہ وہ اپنے آپ میں سوچتا رہتا ہَے وہ تُجھ سے کہتا ہَے کہ کھا اَور پی ۔مگر اُس کا دِل تیرے ساتھ نہیں۔ 8 ۔جو نوالہ تُو نے کھایا تُو اُسے قے کر دے گا اَور تُو اپنی مِیٹھی باتیں ضائع کرے گا۔ 9 ۔ بے وقُوف کے کان میں کلام نہ کر ۔وہ تیری حِکمَت کی باتوں کی بے قدری کرے گا۔ 10 ۔ بیوہ عورت کی حدوں کو نہ سر کا اَور یتیموں کے کھیتوں میں داخِل نہ ہو۔ 11 ۔ کیونکہ اُن کا وّلی طاقتور ہَے اَور وہ اُن کے مُقدّمے کے لئے تیرے ساتھ جھگڑےگا ۔ 12 ۔ نصیحت کی طرف اپنا دِل لگا اَور عِلم کی باتوں کی طرف اپنے کان دھر۔ 13 ۔ لڑکے تربیت میں کوتاہی نہ کر۔ اگر تُو اُسے چھَڑی سے مارے گا تو وہ مَر نہ جائے گا۔ 14 ۔تُو اُسے چھَڑی سے مارے گا تو اُسے پاتال سے چھُڑائے گا۔ 15 ۔ اَے میرے بیٹے ! اگر تیرا دِل دانِشمند ہو تو میرا دِل بھی خُوش ہوگا ۔ 16 ۔اَور جب تیرے ہونٹ راستی کی بات کریں تو میر ادِل بھی شادمان ہوگا۔ 17 ۔اپنے دِل کو خطاکاروں پر رَشک نہ کھانے دے۔بلکہ دِن بھر خُداوند سے خوف کرتا رہ۔ 18 ۔ کیونکہ اَجر یقینی ہَے۔ اَور تیری اُمیّد نہ ٹُوٹے گی۔ 19 ۔ اَے میرے بیٹے ! سُن اَور دانِشمند ہو اَور راہ میں اپنے دِل کی ہِدایت کر ۔ 20 ۔ مَے خواروں اَور گوشت کھانے والوں کا شریک نہ ہو ۔ 21 ۔ کیونکہ مَے خوار اَور پیٹو کنگال ہو جائیں گے اَور نیند اُنہیں چِیتھڑے پہنائے گی۔ 22 ۔ اپنے باپ کی بات سُن جس سے تُو پیدا ہؤا اَور اپنی ماں کی تحِقیر نہ کر جب بُوڑھی ہوگئی ۔ 23 ۔راستی کو خِرید لے اَور اُسے مت بیچ ۔اَور ایسا ہی حِکمَت اَور تربیت اَور فہم کو ۔ 24 ۔ صادِق کا باپ بڑی شادمانی کرے گا۔اَور دانِشمند آدمی کا والد اُس سے خُوش ہوگا۔ 25 ۔ پس تُو اپنے باپ کو شادمان کر اَور اپنی ماں کو بھی جس سے تُو پیدا ہُؤا۔ 26 ۔ اَے میرےبیٹے! اپنا دِل مُجھے دے اَور تیری آنکھیں میری راہوں کی نِگہبانی کریں ۔ 27 ۔ کیونکہ فاحِشہ ایک گہرا گڑھا ہَے۔ اَور بیگانہ عورت تنگ کُنواں ہَے ۔ 28 ۔ ہاں وہ ڈاکُو کی طرح گھات میں بیٹھتی ہَے۔ اَور بنی آدم میں بے وفاؤں کی تعداد بڑھاتی ہَے۔ 29 ۔کِس کے لئے افسوس ہَے ۔؟ کِس کے لئے غِم ہَے؟ کِس کے لئے جھگڑے ہَیں؟کِس کےلئے شکایت ہَے ؟ کِسے بے سبب زخم لگے ہَیں؟ کِس کے لئے آنکھوں کی سُرخی ہَے ؟ 30 ۔اُن کے لئے جو دیر تک مَے نوشی کرتے ہیں اُن کے لئے جو مُرکّب مَے کے چکھنے کےلئے جاتے ہَیں۔ 31 ۔مَے کی طرف مت دیکھ جب وہ سُرخ ہو اَور جب پیالے میں اُس کا رنگ چمکتا ہو۔ وہ مزے کے ساتھ گلے سے نیچے اُترتی ہَے۔ 32 ۔لیکن آخر کار وہ سانپ کی طرح کاٹتی ہَے۔ اَور اَفعی کی طرح اپنا زہر بکھیرتی ہَے۔ 33 ۔تیری آنکھیں عجیب چیزیں دیکھیں گی اَور تیرے مُنہ سے اُلٹی سِیدھی باتیں نکلیں گی ۔ 34 ۔اَور تُو اُس کی مانند ہوگا جو سمُندر کے درمیان لیٹا ہُؤا ہو۔اَور اُس کی طرح جو مستُول کے سر پر سو جائے۔ 35 ۔ " اُنہوں نے مُجھے مارا مگر مُجھے درد نہ ہُؤا۔ اُنہوں نے مُجھے پیٹا پر مَیں نے معلُوم نہ کیا۔ مَیں کب جاگُوں گا ؟ مَیں پھِر اُس کی تلاش میں پھِروں گا "