1 ۱۔ اَور خُداوند نے یشُوع سے کہا۔ خوف نہ کر اور ہراساں مت ہو۔ سب جنگی مرَد اپنے ساتھ لے۔ اور اُٹھ اور عیؔ پر چڑھائی کر۔ دیکھ میَں نے عیؔ کے بادشاہ کو اور اُس کے لوگوں اور اُس کے شہر اور اُس کے ملک کو تیرے ہاتھ میں کر دِیا ہے۔ 2 ۲۔۔پس تُو عیؔ کے ساتھ اور اُس کے بادشاہ کے ساتھ وہی کر۔ جو تُو نے یرؔیحو اَور اُس کے بادشاہ کے ساتھ کیِا۔ مگر وہاں کی لوُٹ اور چوپائے تُم اپنے لئے غنیمت میں لو اور تُو شہر کی پچھلی طرف اپنے لئے کمین بِٹھا۔ 3 ۳۔۔تب یشُوع اور سب جنگی مرَد اُٹھے۔ کہ عیؔ پر چڑھائی کریں۔ اور یشُوع نے تیس ہزار بہادُر اور دلیر مرد چُن لئے۔ اور رات کے وقت اُنہیں روانہ کیِا۔ 4 ۴۔۔اَور اُنہیں حُکم دِیا اور کہا۔ دیکھو۔ تُم شہر کی پچھلی طرف کمین میں بیٹھو۔ اور شہر سے بہت دُور مت جاؤ۔ اور سب تیاّر رہو۔ 5 ۵۔۔اور میں سب لوگوں کو ساتھ لے کر شہر کے سامنے آؤں گا۔ اور ایسا ہو گا۔ کہ جب وہ پہلی دفعہ کی طرح ہمارے مُقابِلہ کے لئے باہِر نِکلیں گے۔ تو ہم اُن کے سامنے سے بھاگ جائیں گے۔ 6 ۶۔۔تو وہ ہمارے پیچھے باہر نِکلیں گے۔ یہاں تک کہ ہم اُنہیں شہر سے دُور کھینچ لے جائیں گے۔ کیونکہ وہ کہیں گے۔ کہ وہ ہمارے سامنے سے پہلی دفعہ کی طرح بھاگتے ہیں اَور ہم اُن کے آگے بھاگیں گے۔ 7 ۷۔۔تب تُم کمین گاہ سے نِکلنا اَور شہرپر قبضہ کر لینا۔ کیونکہ خُداوند اُسے تُمہارے ہاتھوں میں دے دے گا۔ 8 ۸۔۔اور جب تم شہرکو لے لو۔ تو اُسے آگ سے جَلا دو۔ جیسا کہ خُداوند نے فرمایا ہے ویسا ہی تُم کرو۔ دیکھو میَں نے تُمیہں حُکم دے دِیا۔ 9 ۹۔۔تب یشُوع نے اُنہیں روانہ کیِا۔ تو وہ کمین گاہ کی طرف آئے۔ اور بیت ایل اور عیؔ کے درمیان عیؔ کے مغرب کی طرف ٹھہرے۔ اور یشُوع اُس رات لوگوں کے درمیان رہا۔ 10 ۱۰۔۔اور یشُوع نے صُبح سویرے اُٹھ کر فوج کی حاضِری لی اور وہ اور اِسرائیلؔ کے بزُرگ لوگوں کے آگے عیؔ کی طرف چڑھے۔ 11 ۱۱۔۔اور سب جنگی مرد جو اُس کے ساتھ تھے چڑھے۔ اور نزدِیک پُہنچے اور شہر کے مُقابِل آئے۔ اور عیؔ کے شمال کی طرف اُترے۔ اور اُن کے اور عیؔ کے درمیان ایک وادی تھی۔ 12 ۱۲۔۔اور اُس نے قریباً پانچ ہزار آدمی لئے۔ اور اُنہیں بَیت ایل اَور عیؔ کے درمیان شہر کے مغرب کی طرف کمِین میں بٹھایا۔ 13 ۱۳۔۔اَور سب فوج کے لوگ جو اُس کے ساتھ تھے، شہر کے شمال کی طرف اُتر پڑے۔ اور کمِین مغرب کی طرف تھی۔ اور یشُوع اُسی رات وادی میں لوگوں کے درمیان رہا۔ 14 ۱۴۔۔جب عیؔ کے بادشاہ نے یہ دیکھا تو شہر کے لوگوں نے جلدی کی۔ اور سویرے اُٹھے۔ اَور بادشاہ اور اُس کےسب لوگ اِسؔرائیل کے خلاف لڑائی کے لئے عراؔبہ کی طرف نکلے اور اُس نے نہ جانا کہ شہر کی پچھلی طرف کمین گاہ میں لوگ ہیں۔ 15 ۱۵۔۔تب یشُوع اور سب بنی اسؔرائیل اُن کے سامنے سے پیچھے ہٹے ۔اور بِیابان کی راہ کو بھاگے۔ 16 ۱۶۔۔اور سب لوگ جو شہر میں تھے چلّا کر جمع ہُوئے۔ کہ اُن کا تَعاقُب کریں۔ اور اُنہوں نے یشُوع کا تَعاقُب کیِا۔ یہاں تک کہ شہر سے دُور ہو گئے۔ 17 ۱۷۔۔اور عیؔ میں کوئی باقی نہ رہا جو اِسؔرائیل کے پیچھے نہ گیا ۔اور اُنہوں نے شہر کو کھلا چھوڑا۔ اور اسؔرائیل کے پیچھے دوڑ پڑے۔ 18 ۱۸۔۔تب خُداوند نے یشُوع سے کہا۔ اُس نیزے کو جو تیرے ہاتھ میں ہے عیؔ کی طرف بڑھا۔ کیونکہ میَں اُسے تیرے قبضے میں کر دُوں گا۔ تب یشُوع نے وہ نیزہ جو اُس کے ہاتھ میں تھا، عیؔ کی طرف بڑھایا۔ 19 ۱۹۔۔اور جب اُس نے ہاتھ بڑھایا۔ تو کمِین گاہ کے لوگ جلدی کرکے اپنی جگہوں سے نکلے اور شہر پر آپڑے اور اُسے لے لِیا۔ اور جلدی کر کے شہر کو آگ لگا دی۔ 20 ۲۰۔۔پس جب عیؔ کے لوگوں نے پیچھے پِھر کر نِگاہ کی۔ تو دیکھا کہ شہر سے آسمان تک دُھواں اُٹھ رہا ہے۔ تب اُنہیں اِدھر اُدھر بھاگنے کا رستہ نہ رہا۔ کیونکہ وہ لوگ جو بِیابان کی طرف پیچھے ہٹے تھے۔ اپنے تَعاقُب کرنے والوں پر لوٹ کر پڑے۔ 21 ۲۱۔۔اور جب یشُوع اور سارے اِسؔرائیل نے دیکھا کہ کمِین گاہ والوں نے شہر کو لے لِیا۔ اور شہر میں سے دُھواں بُلند ہُؤا۔ تو اُنہوں نے پلٹ کر عیؔ کے لوگوں کو قتل کیِا ۔ 22 ۲۲۔۔اور کمین گاہ والے اُن کے مُقابلے کو شہر سے نکلے۔ تو وہ لوگ اسؔرائیل کے بیچ میں آگئے یہ اِس طرف اور وہ اُس طرف۔ اور اُنہوں نے اُنہیں مارا۔ یہاں تک کہ اُنہوں نے اُن میں سے کِسی کو نہ چھوڑا اور نہ کسی کو بھاگنے دِیا۔ 23 ۲۳۔۔اور اُنہوں نے عیؔ کے بادشاہ کو زندہ پکڑا اور اُسے یشوع کے پاس لائے۔ 24 ۲۴۔۔اور جب بنی اسؔرائیل عیؔ کے سب رہنے والوں کو میدان اور بِیابان میں قتل کر چُکے۔ جہاں اُنہوں نے اِن کا تَعاقُب کِیا تھا اَور وہ سب تلوار کی دھار سے مارے گئے۔ تو سارے بنی اسؔرائیل عیؔ کی طرف پِھرے اور اُسے تلوار کی دھار سے مارا۔ 25 ۲۵۔۔اور سب مردوزَن جو اُس دِن مارے گئے بارہ ہزار تھے وہ سب عیؔ کے رہنے والے تھے۔ 26 ۲۶۔۔اور یشُوع نے اپنا ہاتھ جس سے نیزہ آگے بڑھایا ہُؤا تھا پیچھے نہ کھینچا۔ جب تک کے عیؔ کے سب رہنے والے قتل نہ کئے گئے۔ 27 ۲۷۔۔لیکن چوپایوں اَور اُس شہر کے اسباب کو بنی اسؔرائیل نے اپنے لئے لُوٹ لِیا۔ خُداوند کے حُکم کے مطابِق جو اُس نے یشُوع کو فرمایا تھا۔ 28 ۲۸۔۔اور یشُوع نے عیؔ کو جَلادِیا۔ اور ہمیشہ کے لئے راکھ کا ٹِیلا کردِیا۔ کہ وہ آج کے دِن تک ویرانہ ہے۔ 29 ۲۹۔۔اور اُس نے عیؔ کے بادشاہ کو پھانسی پر شام تک لٹکا رکھا۔ اور سُورج ڈوبنے کے قریب یشُوع نے حُکم دِیا۔ تو اُنہوں نے اُس کی لاش پھانسی سے اُتاری اور شہر کے مدَخل کے پاس پھینک دی۔ اور اُس پر اُنہوں نے پتّھروں کا ایک بڑا ڈھیر لگادِیا۔ جوآج کے دِن تک ہے۔ 30 ۳۰۔۔تب یشُوع نے عیبالؔ کے پہاڑ پر خُداوند اِسؔرائیل کے خُدا کےلئے مَذبح بنایا۔ 31 ۳۱۔۔جیسا کہ خُداوند کے بندے مُوسیٰ نے بنی اِسؔرائیل کو حُکم دِیا۔ اور اُس کے مُطابِق جو مُوسیٰ کی شریعت کی کتاب میں لکھا ہُؤا ہے۔ انگھڑے پتّھروںکا مَذبح جِنہیں لوہا نہیں چُھؤا تھا۔ اَور اُنہوں نے خُداوند کے لئے اُس پر سوختنی قُربانیاں چڑھائیں۔ اور سلامتی کے ذبیحے ذَبح کئے۔ 32 ۳۲۔۔اَور وہاں اُس نے پتّھروں پر مُوسیٰ کی اِس شریعت کی جو اُس نے لِکھی تھی۔ بنی اِسؔرائیل کے رُوبرو ایک نقل کندہ کی۔ 33 ۳۳۔۔اور سب بنی اِسؔرائیل اور اُن کے بزُرگ اور اُن کے منصب دار اور اُن کے قاضِی اور دیسی و پردیسی صندُوق کے اِدھراُدھر لاوی کاہِنوں کے مُقابِل جو صندُوق کو اُٹھائے کھڑے تھے۔ اُن میں سے آدھے گرزیم کے پہاڑ کی طرف آدھے عیبالؔ کے پہاڑ کی طرف۔ جیسا کہ خُداوند کے بندے مُوسیٰ نے حُکم دِیا۔ کہ اِس پہلے موقعہ پر اِسؔرائیل کے لوگوں کو برکت دی جائے۔ 34 ۳۴۔۔اور بعد اُس کے شریعت کے کلام کی کی سب برکتیں اور لعنتیں جو شریعت کی کتِاب میں لِکھی ہُوئی تھیں۔ اُس نے پڑھ کے سُنائیں۔ 35 ۳۵۔۔چُنانچہ جو کُچھ موسیٰ نے حُکم دِیا تھا۔ اُس میں سے ایک بات بھی نہ رہی۔ جو یشوع نے بنی اِسؔرائیل کو۔ ساری جماعت کے اور عورتوں اور بچوں اور پردیسیوں کے، جو اُن کے ہمراہ تھے، سامنے پڑھ کے نہ سُنائی۔