باب

1 نینوہ کی تباہی بکھیرنے والا تُجھ پر چڑھ آیاہَے پس قِلعے کو محفوظ کر۔راہ کی نگہبانی کر۔ کَمر بستہ ہو۔اَور خُوب مضبُوط رہ۔ 2 (یقیناً خُداوند یَعقُوؔب کی تاک اِسرؔائیل کی تاک کی مانند پِھر بحال کرے گا۔ اگرچہ غارت گروں نے اُنہیں غارت کِیا اَور اُس کی شاخوں کو توڑ ڈالا ہَے)۔ 3 اُس کے بَہادُروں کی ڈھالیں سُرخ ہَیں۔اُس کے جنگی مَرد قرمِزی وردی پہنتے ہیں۔اُن کے خرُوج کے دِن اُن کی رتھوں کا فولاد جُھکتا ہے اَور چلانے والے دیوانہ ہو گئے ہَیں۔ 4 رتھیں کُوچوں میں تُندی سے دوڑتی ہَیں وہ چوکوں میں بے تحاشہ بھاگتی ہَیں۔وہ دیکھنے میں مَشعلیں معلوم ہوتی ہَیں اَور بجلی کی مانند کوندتی ہیں۔ 5 مُنتخب مَرد فراہم کئِے جاتے ہیں۔وہ دوڑتے ہُوئے ٹھوکر کھاتے ہیں۔ وہ جلدی جلدی سے فِصیلوں پر چڑھتے ہَیں۔ اَور آڑ تیّار کرتے ہیں۔ 6 نہروں کے پھاٹک کُھل جاتے ہیں۔محلّ میں خوف و دہشت پڑی ہے۔ 7 خاتُون بے پردہ ہو کر اِسیری میں لی جاتی ہے۔اُس کی لونڈیاں قمریوں کی مانند کراہتی ہُوئی ماتم کرتی اَور چھاتی پیٹی ہَیں۔ 8 نیِنؔوہ اُس حوض کی مانِند ہَےجِس سے پانی بہہ نِکلتا ہَے۔ٹھہرو۔ٹھہرو! پر کوئی مُڑ کر نہیں دیکھتا ۔ 9 ’’چاندی لُوٹو! سونا لُوٹو! ذخیرے کی کُچھ اِنتہا نہیں!نفیس سے نفیس چیزیں ہَیں!'' 10 لُوٹ !وِیرانی !تباہی! دِل گُداز ہوتے ہَیں۔ گھُٹنے ٹکراتے ہَیں۔ہر کَمر میں درد ہَے۔اَور ہر چہرہ زَرد ہَے۔ 11 شیروں کی ماند کہا ں ہَے؟ شیر بچّوں کا بھٹ کہاں ہَے؟جہاں جب شیر باہر جاتا تھا تو شیرنی مع بچّوں کے رہ جاتی تھی اَور کوئی اُنہیں نہ ڈراتا تھا۔ 12 شیر اپنے بچّوں کے لئے پھاڑتا تھا اَور اپنی شیرنیوں کے لئے گلا گُھونٹا تھا۔وہ اپنی ماندوں کو شِکار سے اَور غاروں کو پھاڑے ہُوؤں سے بھرتا تھا۔ 13 دیکھ۔ مَیں تیرے خلاف آتا ہُوں!( ربُّ الافواج کا فرمان ہَے) مَیں تیری رتھوں کو جَلا کردھواں کر دُوں گا۔تلوار تیرے بچّوں کو کھا جائے گی۔مَیں تیرا شِکار زمین پر سے مِٹا ڈالوں گا اَورتیرے ایلچیوں کی آواز پِھر سُنی نہ جائے گی۔